سستی
انتہائی قابل غور مسئلہ !
اس کے غیر معمولی ہونے کے لئے اتنا ہی کافی کہ آپ ﷺ نے اس سے پناہ چاہی۔
اللہ کی پناہ
اسباب:
کمزوری، ہمبستری و کھانے کی کثرت، مکمل آرام نہ کرنا، دیر سے سونا اٹھنا وغیرہ
نتائج:
عبادات میں کوتاہی، معاملات میں تاخیر
غرض ہر کام ناقص
ریپوسٹ پلیز 😊
*مال کو دوگنا کرنے کا ایمانی عمل*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خرچ کیا کر (خیرات کیاکر)، گنا نہ کر، تاکہ تمہیں بھی گن کے نہ ملے اور جوڑ کے نہ رکھو، تاکہ تم سے بھی اللہ تعالیٰ (اپنی نعمتوں کو) نہ چھپا لے۔
(بخاری، 2591)
پیپلز پارٹی کے ہاتھوں پاکستان کی مسلسل معاشی تباہی!
دنیا جانتی ہے کہ ایوب خان کے دور میں پاکستان کی معیشت کو پر لگے ہوئے تھے جس کو پیپلز پارٹی نے آکر بریک لگائے اور بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تھی تو پاکستان پہلی بار مقروض بھی ہوچکا تھا اور شاہ ایران کے پاس ہماری 5 سال کی چاؤل کی فصل بھی گروی رکھ دی گئی تھی۔
پیپلز پارٹی کے ہاتھوں اس معاشی تباہی کی ایک مثال بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی ہے جس میں عوام میں 838 ارب روپے بھیک کے طور پر بانٹے جاتے ہیں۔ ایک ایسی معیشت جو شدید قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے اس کے لیے یہ بوجھ ناقابل برداشت ہے۔ یہ رقم ایسے منصوبوں میں لگنی چاہئے جو لوگوں بھکاری بنانے کے بجائے روزگار فراہم کرے۔
پیپلز پارٹی کی پاکستانی معیشت کو لگائے گئے ٹیکوں میں ایک اور بڑی مثال پاکستان سٹیل مل بھی ہے۔ یہ مل جب ہمیں روس نے لگا کر دی تو پیپلز پارٹی کا ہی دور تھا اور یہ اسی وقت خسارے میں چلی گئی۔ پھر جنرل ضیا کا دور آیا تو پہلی بار اس سٹیل مل نے تین شفٹوں میں کام کیا اور اپنی پیک کی پیدوار دی۔ اس کا خسارہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔
پھر دوبارہ پیپلز پارٹی کا دور آیا تو دوبارہ اسکی پیدوار کم ہوگئی اور خسارہ بڑھ گیا۔ پیپلز پارٹی نے بڑی تعداد میں سٹیل مل میں جیالوں کو گھسیڑنا شروع کر دیا۔ یہ تباہی تب تک جاری رہی جب تک مشرف کا مارشل لا نہیں لگا۔ مشرف مارشل لا میں تاریخ میں پہلی بار سٹیل مل نے منافع دینا شروع کر دیا۔ پرویز مشرف کو لگا کہ یہ بہترین وقت اس بوجھ سے جان چھڑانے کا کیونکہ یہ مسلسل قومی خزانہ کھا رہی تھی۔ اس وقت جب سٹیل مل بہت اچھے پیسوں پر بک رہی تھی تو افتخار چوہدری نے سو موٹو لے کر سٹیل مل کی نجکاری روک دی۔
مشرف کے جانے کے بعد دوبارہ پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور دوبارہ سٹیل مل خسارے میں چلی گئی۔ یہ خسارہ بڑھتا گیا اور پیدوار کم ہوتی رہی حتی کہ 2015ء میں سٹیل مل بند کرنی پڑی۔ سٹیل مل میں پیپلز پارٹی نے ہزاروں جیالے بھرتی کررکھے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے یہ ہزاروں کارکن کوئی بھی کام کیے بغیر گھر بیٹھ کر مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں۔ یہ سٹیل مل اب تک پاکستان کی معیشت کو 550 ارب روپے کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ جس کا کریڈٹ صرف اور صرف پیپلز پارٹی کو جاتا ہے جس نے محض اپنے ووٹ بینک کی خاطر پاکستان کی معیشت یہ ٹیکے لگائے ہیں۔
اس حوالے سے جب پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ میں بلا کر پی آئی اے اور سٹیل مل میں کارکنوں کی بھرتیوں پر سوال کیا گیا تو موصوف نے فلمی سٹائل میں کہا کہ "جناب اگر لوگوں کا روزگار دینا گناہ ہے تو ہاں میں نے یہ گناہ کیا ہے۔" آپ نے لوگوں کو روزگار دینا ہے تو اپنی جیب سے دیں۔ آپ عوام کا پیسہ اپنے کارکنوں میں کیسے بانٹ سکتے ہیں؟؟ پیپلز پارٹی ہی این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر اڑی ہوئی ہے جو پاکستانی معشیت کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ ڈیموں اور نہروں کی تعمیر میں بھی پیپلز پارٹی رکاؤٹ بن رہی جس کے نقصانات کا حساب کرنے کے لیے کیلکولیٹر کم پڑ جائنگے۔
#CDFTrustedWorldwide
#یوتھیا_سیاست_مسترد
Dear Pakistanis,
How many of our Ministers or civil servants would be able to flip open a laptop and starting typing or drafting a memo by themselves
Without their PS or PA, I'd say less than 10%!
Most of our Govt officials do not even read emails from the screen. Emails are printed by their PA, and put up for marking their comments. 😃
غیرملکی سیاح پاکستان میں کیا کرتے ہیں؟
گرمیوں میں پاکستان کے شمالی/سیاحتی علاقوں میں ایسا منظر دیکھنے کو عام ملتا ہے جو اس تصویر میں ہے۔
یہ تصویر 13 جون کو صُبح آٹھ بجے ہنزہ کے علاقے کریم آباد کے بازار میں ایک ہوٹل کے باہر لی گئی۔
اس تصویر میں خاص تو کچھ نہیں، صرف وقت اہم ہے یعنی صُبح کا۔
شہر کا رات دیر گئے تک جاگنے والا مصروف ترین بازار سو رہا تھا، ریستوران بند پڑے تھے، ہوٹلوں کے گیٹ بھی مقفل تھے، زیادہ تر پاکستانی سیاح ابھی بستروں میں پڑے یا بعض ناشتے میں کیا کھائیں، کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے، تب یہ غیرملکی ٹریکنگ کر کے اپنے بیگ پیک سے لدے واپس ہوٹل کو آ رہے تھے۔
یہ سب اپنی عمر کے چوتھے حصے میں تھے یعنی 45 سے اوپر۔ 16 افراد کی ٹیم تھی، خواتین کی تعداد چھ رہی ہوگی، دو اِن کے ساتھ گائیڈ تھے۔
گزشتہ 17 برسوں کے دوران جب بھی سیاحتی مقامات گیا اور خاص طور پر ایسے پہاڑی علاقوں میں جہاں ہائیکنگ ٹریک بنے ہوئے ہیں سویرے کے منظر میں غیرملکی زیادہ نظر آئے۔
لگ بھگ دہائی قبل ناران میں ایک بزرگ آئرش جوڑے کو دیکھا جن کے مطابق وہ ہر سال ایک ہفتے کے لیے اس علاقے میں آتے تھے۔
صُبح سویرے اُٹھتے، جنگل میں ٹریکنگ کرتے، ساڑھے آٹھ بجے واپس آتے، نہا دھو کر ناشتہ کرتے۔ اور پھر سارا دن ہوٹل کے لان میں بیٹھ کر کوئی کتاب پڑھتے۔
ایک بار ہوٹل کے مینیجر نے پوچھا کہ اتنی جلدی کیوں اُٹھتے ہیں؟ تو اُن کا جواب تھا کہ اُس وقت قدرت/نیچر اپنے جوبن پر ہوتی ہے، باہر انسان کم ہوتے ہیں، ہمیں جنگل/پہاڑ/ راستے میں کچھ نئے چرند پرند دیکھنے کو ملتے ہیں، اُن کی آوازیں سُنتے ہیں، حشرات کو رینگتے دیکھتے ہیں۔ اور فطری حُسن، خاموشی اور سُکون سے رُوح کے لیے تازگی کشید کرتے ہیں۔
اے وحید مراد
گھر کے ملازمین کو گوشت دینے میں جلدی نہ کیجیئے ۔۔
جی ہاں ۔۔ آپ نے عنوان درست پڑھا ہے ۔۔
گھر کے ملازمین کو قربانی کا گوشت تھمانے میں جلدی نہ کیجیئے۔۔۔کیونکہ اس موسم میں ہماری یہ عجلت ان بیچاروں کو کافی بھاری پڑ جاتی ہے ۔۔
پچھلی بار عید کی چھٹیوں کے بعد جب ہماری گھریلو مددگار کام پہ آئی تو اس نے بڑی افسردگی سے بتایا کہ اسے باجیوں نے جو گوشت دیا تھا وہ سب کا سب خراب ہوگیا۔۔۔" یقین کریں ہم نے تو کچھ بھی پکا کر نہیں کھا سکے سب پھینکنا پڑ گیا ۔۔۔" ہیلپر کی یہ دکھ بھری داستان سن کر ہم نے اپنی اس عادت پہ شکر ادا کیا کہ ہم کبھی بھی ان لوگوں سے فورا گوشت لے جانے پر اصرار نہیں کرتے ۔۔۔اب کم ازکم ہمارے گھر کے فریزر میں ان کے حصے کا گوشت اچھی طرح فریز ہو چکا ہے ۔۔۔ الحمدللہ ۔۔ جب انہیں ضرورت ہوگی وہ بخوشی لے جا کر پکا لیں گے ۔۔۔
اس بار اور ابھی مذید چند سال ان شاءاللہ بقرعید گرمیوں میں ہی آئے گی۔۔ ہمارے گھریلو ملازمین کی اکثریت کے گھروں میں فریج نہیں ہوتے ۔۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ہم لوگ یعنی ساری باجیاں حاتم طائی بنتے ہوئے ان کا حصہ بنا کے ہاتھ کے ہاتھ انہیں تھما دیتے ہیں کہ یہ بھی گوشت کھائیں پکائیں ۔۔ کچھ لوگ بیزار ہو کر ان سے اصرار بھی کرتے ہیں کہ " اپنے حصے کا گوشت آج کے آج ہی لے جاو بھئی ہمارے فریج میں جگہ نہیں ہے ، ہم نہیں سنبھال سکتے" ۔۔اور پھر اکثر مختلف فلاحی تنظیمیں بھی ان کے علاقوں میں گوشت تقسیم کرنے جاتی ہیں ۔۔ اب یہ بیچارے لوگ جیسے تیسے گوشت لے تو لیتے ہیں مگر اسے سنبھال نہیں پاتے اور اتنی گرمی میں ذیادہ تر گوشت خراب ہوجاتا ہے ۔۔
بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم گوشت دینے میں عجلت نہ کریں انفرادی طور پر اپنے اپنے فریزر میں ان کے حصے کا گوشت بھی سنبھال لیں۔۔ اور ہفتے دس دن بعد یا ان کی سہولت کے مطابق یہ پیکٹ انہیں دے دیئے جائیں ۔۔ اس طرح گوشت ضائع ہونے سے بھی بچے گا اور کھانے والے سکون اور رغبت سے اسے کھا سکیں گے ۔۔
جیسے اپنے لیے خوشی اور شوق سے نت نئی چیزیں پکانے اور کھانے کا اہتمام کرتے ہیں بالکل اسی طرح ان کی سہولت اور شوق کا خیال رکھنے سے ان کی دعائیں بھی ملتی ہے اور اس ایثار کا اجر بھی یقینا ملے گا ۔۔ یقین کیجیئے بظاہر یہ خیال رکھنے کی یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہماری زندگی میں خیر وبرکت کا باعث بنتی ہیں ۔۔۔
@ForumStrategic@Blaxk__Bird I wish the data would be freely available for academic and research purposes. I hope SUPARCO will not treat researchers as a mode of grabbing money in terms of data selling
I’ve spent over two decades studying the Pakistani state. But words fail to describe how malevolent, low-IQ, & beholden to vested interests, the administration is.
The people trying to stop solar power adoption in Pakistan are all university educated professionals. Check their CVs and you will find many with foreign qualifications & fancy fellowships.
When they retire some will produce silly self-exonerating memoirs.
And while they were in government for decades two questions never occurred to them:
1. What is in the national interest and public interest of Pakistan?
2. How can we help Pakistan achieve these constructive objectives?
At a time of global energy crisis, Pakistan needs to move even more rapidly towards solarisation. Instead, the administration is trying to impede solarisation and now they are going after not just the ‘bourgeoisie’ or ‘rich’ solar net metering folks, but others as well.
Iran's negotiation’s team profile, four PhD holders in relevant fields:
Mohammad Bagher Ghalibaf (Parliament Speaker): PhD political geography, Tarbiat Modares Univ.
- Abbas Araghchi (Foreign Minister): PhD political thought, Univ. of Kent.
- Ali Akbar Ahmadian (Defense Council Secretary): PhD strategic management, Supreme National Defense Univ. (plus dentistry doctorate).
- Abdolnasser Hemmati (Central Bank Governor): PhD economics, Univ. of Tehran.
US team: VP JD Vance (Yale JD; "failed author" is satire—his book sold millions), Jared Kushner (son-in-law), Steve Witkoff (Trump real estate/golf ally; "gold buddy" likely means golf buddy), plus a Centcom-linked military rep. No PhDs highlighted; focus is on personal ties to Trump.
“انہوں نے میری ماں کو قتل کر دیا — اور اس سے پہلے میرے بھائی کو۔ میں سب سے اپیل کرتا ہوں: ان امریکی امدادی تقسیم کے مراکز پر نہ جائیں جو خون سے لت پت ہیں۔ اس تھیلے میں صرف دو خالی آٹے کے تھیلے ہیں — اور کچھ نہیں — پھر بھی انہوں نے میری ماں کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا جب وہ آج ہمارے لیے کچھ کھانے کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہی تھیں “ ۔۔ جنگ سے متاثر بچہ 💔
#SayNoToWar
مڈل ایسٹ میں اس وقت جنگ کی آگ بھڑکی ہوئی ہے۔ پاکستان کو اندرونی محاذ پر جنگ کا سامنا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں روزانہ معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں، سیکیورٹی فورسز کو حملوں کا سامنا ہے، لیکن وزیرِ دفاع کے عہدے پر بیٹھا یہ شخص ایک ایسا بھانڈ ہے جو سوشل میڈیا کو تھڑاسمجھ کر جُگتیں مارنے میں مشغول ہے، اندازہ لگا لیں پاکستان کی سلامتی کیسے کیسے مسخروں کے ہاتھ میں ہے۔
قوم پر مسلط یہ بھانڈ عوام کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔
PhD Students - If you:
- Do 4 hours of deep research per day
- Sleep 7-8 hours per night
- Read 1 paper per day
- Exercise 3 times per week
- Write 500 words per day
- Discuss your work weekly with supervisor
- Walk 10,000 steps per day
You are ahead of 99% PhD Students.
Keep going
واٹس ایپ ہیک کے بڑھتے واقعات پر این سی سی آئی اے نے ایڈ وائزری جاری کر دی۔
ایڈوائزری کے مطابق اگر آپ کا واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو فوراً دوبارہ نیا واٹس ایپ انسٹال کریں اور اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی نہ ہو یا کوئی شک ہو تودوبارہ رجسٹریشن کریں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا کہ نئے واٹس ایپ پر لاگ اِن کرنے کے لیے اپنا فون نمبر درج کریں اور آپ کو SMS کے ذریعے 6 ہندسوں کا کوڈ موصول ہوگا ، اسے فوراً درج کریں۔
کوڈ درج کرتے ہی ہیکر کے موبائل سے آپ کا واٹس ایپ فوراً لاگ آؤٹ ہو جائے گا۔
واٹس ایپ ایک وقت میں صرف ایک موبائل پر ایکٹو رہ سکتا ہے۔