Feeling proud to have such a leader
Shayad hamare naslen hmen kbhi maaf na kr sken k esa bahadur insan esa leader mila tha aur tum ne kion qadar na ki uski
حَسْبِيَ اللَّهُ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسا کیا ہے، اور وہی عرشِ عظیم کا رب ہے۔
پہلی ہی ملاقات میں ایک بزرگ شخصیت نے عمران خاں سے پوچھا: زندگی میں آپ کی اولین ترجیح کیا ہے۔ بلا تامل انہوں نے جواب دیا: صرف پاکستان کی بجائے عالم اسلام کے لئے جدوجہد۔امریکہ سمیت مغربی مملک نے ادراک کر لیا۔خان کی قوم نہ کر سکی۔اس کی غلطیاں اپنی جگہ اور ناچیز سمیت کئی لوگ ان کی نشان دہی کرتے رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا عمل کیا ہے اور شخصیت کیا ۔ 1992 میں اس وقت خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا جب اس کی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں سمیت کرہ ارض پر کسی ایک شخص کو بھی اس کی امید نہیں تھی۔ شوکت خانم ہسپتال! اولین اجلاس میں 20 ڈاکٹروں میں سے 19 نے کہا: ہسپتال نہیں بن سکتا۔ ایک نے کہا: بن سکتا ہے، چل نہیں سکتا۔ ایک بے مثال ہسپتال، پھر دوسرا اور تیسرا۔ میانوالی
کی نمل یونیورسٹی ۔اتفاق سےاول دن سے یہ خاکسار اس کی کاوش کا گواہ ہے۔دوسرےتو کیا، Construction Company تپتے پہاڑوں کے دامن میں زیر تعمیر عمارت کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ سیاست کی تگ و تاز کے طویل عرصے میں کبھی وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوا۔ ایک ارب درختوں کے جنگل اور صحت کارڈ ایسے منصوبے وہی بروئے کار لا سکتا تھا۔ شریفوں اور زرداریوں سے اس کا کیا مقابلہ۔ پاکستان نہیں، وہ عالم اسلام کامقبول ترین رہنما ہے۔ فرسودہ نظام کے خلاف بغاوت اس نے پیدا کر دی ہے۔ ہزار حربوں اور عالمی قوتوں کی پشت پناہی کے باوجود یہ بغاوت تحلیل نہیں ہو رہی۔ ایک آدمی اس سے بڑھ کر کیا کر سکتا تھا، 42 برس کی عمر میں جس نے سیاست میں قدم رکھا ۔ مسئلہ اس کا یہ بھی تھا کہ مزاج سیاسی نہ رکھتا تھا۔ جوڑ توڑ سے ناآشنا ۔امید ہے کہ اسیری کے اذیت ناک برسوں میں بہت کچھ اس نے سیکھ لیا ہو گا۔ گھمبیر حالات میں اس کے تمام حریف بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ انشاء اللہ وہ آزاد ہو گا اور تاریخ کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو جائے گا۔ اہم ترین یہ ہے کہ حقیقی آزادی کے لئے دوسروں کو بھی شریک ہونا ہو گا، سبھی کو۔ کوئی بھی لیڈر اپنی جنگ تنہا نہیں جیت سکتا۔ ابرہام لنکن، ڈیگال اور قائداعظم محمد علی جیسے جلیل القدر رہنما بھی نہیں۔
دل کا اجڑنا سہل سہی پر بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے۔
حرف آخر یہ کہ مولوی حضرات اور نام نہاد لبرل ضرور اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ جس طرح کہ مذہبی جوش و خروش سےقائد اعظم کی مزاحمت کرتے رہے۔
رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :
ہر نبی کی ایک ایسی دعا ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے ہر نبی نے اپنی وہ دعا دنیا میں مانگ لی،
لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی ہے۔
( صحیح البخاری )
رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا :
جو شخص (صبح وشام تین تین بار) یہ دعا پڑھ لیا کرے، اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی،
*بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ*
( مسند احمد، 418 )
“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔
نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔
مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)
🚨🚨
Per capita wheat and wheat flour consumption dropped from 7.0 kg to 6.59 kg per month. Rice fell from 1.06 kg to 0.86 kg. Pulses declined from 0.35 kg to 0.26 kg. Fresh milk consumption fell from 6.85 kg to 6.15 kg. Meat (beef, mutton and chicken) dropped from 0.61 kg to 0.50 kg.
At the same time, vegetable ghee consumption jumped from 0.69 kg to 1.25 kg per person per month, an 81 percent increase.
“Access to adequate and nutritious food is directly associated to its affordability,” the survey said
https://t.co/9hEXmKtKws
میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔
*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
: اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے، آمین۔