@IsraeliPM Shut the fuck up the whole planet hates you and sees you as terrorists , you do not respect diplomacy and you don't only talk about annihilation, but you actually carry it. This is YOU.
ہمیں ان تمام رہنماؤں کے نام جاننا ہیں جو اس حق میں ہیں کہ عمران خان کے اکاونٹس کو پاکستان لا کر کسی کمیٹی کے سپرد کردینا چاہیے۔ تاکہ ہم اس سے کچھ “ مدلل “ گفتگو کرسکیں اور اگر کچھ “غلط فہمیاں” ہیں تو وہ ختم ہوسکیں۔
تحریک انصاف کی قیادت نے فرحان احمد چشتی کی بازیابی کے لیے اتنی فکرمندی کا اظہار نہیں کیا۔
تحریک انصاف کی قیادت نے جیلوں میں بند سینکڑوں لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔
تحریک انصاف کی قیادت نے سعد طارق کی بازیابی کے لیے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی۔
لیکن تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کو آمادہ کرنا چاہتی ہے کہ انکے آفیشل سوشل میڈیا اکاونٹس کو ایک کمیٹی کے سپرد کردیا جائے۔ کیونکہ قیادت کے کرنل صاحب یہ چاہتے ہیں۔
واہ جوانو واہ!
جب روف کلاسرا یہ کہتا ہے کہ ارشد شریف کو اس قوم کے لیے شہید ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اسے زندہ رہنا چاہیے تھا تو ہمارے جیسے بہت سارے بھڑک اٹھتے ہیں۔ لیکن وہ ٹھیک کہتا ہے۔ اس نے سیاست میں بہت علی محمد خان دیکھ رکھے ہیں۔
اگر تحریک انصاف کی قیادت اور ورکر علی محمد خان جیسا گند ایک دو روز میں سر سے نہیں اتار پاتے تو پھر مان لینا کہ ارشد شریف کو شہید ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ جو لوگ چھبیس نومبر کو شہید ہوگئے انہیں گھروں سے نکلنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی عمران خان اور تحریک انصاف کے ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں گلنے سڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اے پیارے پیارے سوشل میڈیا مجاہدین !
ہر سیاسی جماعت کی طرح تحریک انصاف میں بھی بے تحاشا گروپس ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے رہتے ہیں۔ ایک طاقتور گروپ جنید اکبر خان کو عہدے سے ہٹوانا چاہتا ہے۔ جنید اکبر نے کالے چینل کے انٹرویو کی وضاحت کردی ہے۔ اب خدشہ یہ ہے کہ وہ ہٹوانے والا گروپ آپکی معصومیت میں آپ کے جذبات سے کہیں زیادہ کھیل نہ جائے۔
جی نہیں! یہ گروپ علی امین گنڈا پور نہیں ہے۔ بدقسمتی سے اس پارٹی میں کھینچا تانی کی جڑیں بہت گہری ہیں جو رفتہ رفتہ آپ کے سامنے نمودار ہوتی رہیں گی۔ لہذا مقصد حقیقی آزادی ، مقصد عمران خان کی رہائی ، مقصد آئین اور جمہور کی بالادستی ہے۔ اسے ذہن میں رکھیں۔
سب سے طاقتور احتجاج۔۔۔
اگر آپ واقعی موجودہ حالات سے نالاں ہیں اور حق کے کھڑے ہیں، تو یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج کی کئی اقسام ہوتی ہیں، اور بعض اوقات سب سے زیادہ طاقتور احتجاج وہ ہوتا ہے جو خاموش لیکن نتیجہ خیز ہو۔
جب آپ کرکٹ اسٹیڈیم میں جا کر نعرے لگاتے ہیں، تو وہ ایک لمحاتی ردعمل ہوتا ہے۔ لوگ سنتے ہیں، میڈیا میں خبریں آتی ہیں، لیکن کیا اس سے کوئی بڑا فرق پڑتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے میچ دیکھنے جاتے ہیں، ٹکٹ خریدتے ہیں، ٹی وی پر نشریات دیکھتے ہیں، یا اسپانسرڈ برانڈز کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں، تو آپ خود ہی اس نظام کو مالی مدد فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف آپ نعرے لگا کر مخالفت کر رہے ہیں، اور دوسری طرف اسی سسٹم کو اپنے وسائل دے رہے ہیں جو اس کو طاقتور بنا رہا ہے۔
اگر احتجاج کو اگلے درجے پر لے کر جانا ہے تو ضروری ہے کہ شعوری طور پر اس نظام کے معاشی پہیے کو روکا جائے۔
اسٹیڈیم جانا بند کریں، ٹی وی پر میچ دیکھنے سے اجتناب کریں، ان کے اشتہارات اور برانڈز کو نظر انداز کریں، اور ان پر غیر ضروری گفتگو کرنا بھی چھوڑ دیں۔
جب ایک وسیع پیمانے پر عوام ان سے منہ موڑ لے گی، تو خود ہی ان کے مالی وسائل کمزور پڑ جائیں گے، اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب اصل اثرات سامنے آئیں گے۔
یہ سوچنا ضروری ہے کہ اگر آج آپ اپنی محنت سے کمائی گئی رقم خرچ کر کے چیمپئنز ٹرافی دیکھنے جا رہے ہیں، تو درحقیقت آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟
احتجاج کا مطلب صرف آواز بلند کرنا نہیں بلکہ سوچ ��مجھ کر فیصلے کرنا ہے۔
اگر آپ کو واقعی تبدیلی مطلوب ہے، تو اس کا آغاز "شعوری بائیکاٹ" اور عملی اقدامات سے ہوگا، کیونکہ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ سب سے مؤثر مزاحمت وہ ہوتی ہے جو جذبات سے زیادہ حکمت پر مبنی ہو۔
(نمکین چائے)
@enigmaakh