جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کو اب اس قوم پر لعنت بیجھ کر جرنیلوں سے ڈیل کرکے باہر آجانا چاہیے اور پھر باہر چلا جانا چاہیے، وہ اپنی تکلیف کم کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے ضمیر کی خلش مٹانا چاہتے ہیں۔ جیل میں ناحق قید عمران خان انہيں تکلیف دے رہا ہے۔ ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔
قوم نے اتنی کمزوری نہيں دکھائی جتنی تحریک انصاف کے ان عہدیداروں نے دکھائی ہے جن کو خان نے چنا تھا۔ کچھ نے تو کمزوری دکھائی باقیوں نے ظالموں سے معاملہ کیا ہے۔ اور ان سے گارنٹی لی ہے کہ عمران خان کبھی آزاد نہ ہو۔ یہ کمزوری نہیں غداری ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا بڑا اعلان 🚨🚨
اگر کل صبح تک فیملی ، معالجین ، وکلاء اور بشری بی بی کی بیٹیوں کی عمران خان سے ملاقات نا کروائی گئی تو پھر ہم پوری قوم کو پکار لیں گے۔۔۔۔
فوج کے اندر سے اب بہت سے جوان اسرائیل کے نیچے کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ساری زندگی یہ چورن بیچا کہ ہم فلسطین آزاد کروائیں گے لیکن اب ہم اسرائیل کیساتھ مل کر فلسطین سے لڑنے جا رہے ہیں، ہمارے بیوی بچے محلے والے اب سوال پوچھتے ہیں
عادل راجہ
نوازشریف کے جعلی پلیٹلیٹس گرے تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اسے لندن علاج کے لئے پہنچا دیا تھا۔
صحافیوں نے رو رو کر جنگ سے بی بی سی اردو تک کالم لکھے۔۔۔۔اگر وہ مر گیا تو!
اور موجودہ آمریت میں عمران خان کی بینائی جانے کا خطرہ ہے اور انہيں پاکستان میں بھی علاج کروانے کی اجازت نہيں ہے۔
یہ ہے اس وقت پاکستان میں جبر کا عالم۔
ایک سال پہلے آپ @JunaidAkbarMNA نے کہا تھا کہ اگر عمران خان کو آئیسولیٹ کیا گیا تو پورے خیبر پختونخوا کو بند کر دیا جائے گا۔ ایک سال ہو گیا، آپ نے کچھ نہیں کیا۔ اب کیوں نہیں کر رہے بند؟
آپ نے فوج کے سامنے سجدہ کیوں کیا؟
عمران خان نے آپ کو اہم عہدہ دیا تھا، ذمہ داری دی تھی، لیکن آپ ناکام بھی ہوئے اور مسلسل دھوکا دیے جا رہے ہیں۔
ابھی بھی موقع ہے، سائیڈ میں ہٹ جائیں۔
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
Let me make this absolutely clear: every member of the party must immediately set aside all internal differences and focus solely on the movement planned for August 5th. I do not see any meaningful momentum building behind this initiative at present. I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
ضیا دور کو پیپلزپارٹی بدترین فسطائیت کا دور کہتی ہے، اور شاید ٹھیک کہتی ہے۔ ضیا دور میں سیاسی کارکنان پر ظلم تو ہوتا تھا لیکن عارضی بنیادوں پر۔ زیادہ سے زیادہ دو یا تین سال کیلئے جیلوں میں ڈالا جاتا لیکن ان کے غیرسیاسی اہلخانہ کو تنگ نہیں کیا جاتا تھا۔
اب حالات بدترین ہیں۔ سیاسی کارکنان تو ایک طرف، لیڈرشپ جیلوں میں ڈالی جاچکی۔ کارکنان کو دس، دس سال کی سزائیں سنانا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا، ان کے اہلخانہ کو بھی اغوا کرکے تشدد کرنا ایک معمول کا واقعہ بن چکا۔
عاصم منیر تاریخ کا بدترین فرعون بن چکا ہے۔ اس کے انجام سے متعلق مجھے کوئی شک نہیں، البتہ یہ بات یاد رکھی جائے گی کہ جب یہ حرامزادہ اپنی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا تھا، اس وقت پیپلزپارٹی، نون لیگ، مذہبی پیشوا اور میڈیا کے نام نہاد دانشور اس حرامی کے ساتھ تھے۔
فرعون اور اس کے ساتھی، سب کو اس کی قیمت چکانی ہوگی۔ اس میں کسی قسم کی کوئی رعایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!!!
🚨🚨
Must acknowledge screen smartness of @SkyYaldaHakim, the way she immediately finished the interview when Professor @s_m_marandi trashed her all “anchoring/journalism/career” in 2 minutes. One minute silence for #YaldaHakim in sympathy and @SkyNews for giving her screen 🤝
عمران خان کے اپنے خاندان سے دو ہیرے gem اس بحران سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ علیمہ خانم اور حسان نیازی۔
نہ علیمہ خانم جیسی بصیرت ابھی تک کسی دوسرے نے تحریک انصاف میں دکھائی ہے نہ حسان نیازی جیسی بہادری اور نظریے سے وفاداری۔
مشکل ترین حالات میں یہ خان کی بہنیں ہیں جو بھائی کے لئے کھڑی ہیں۔
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا ۔۔ لیکن کیا کوئی یہ راز جانتا ہے کہ انہوں نے خود یہ حساس معلومات کہاں سے حاصل کیں اور یہ سارا پروسس کیسے سیکھا؟
جانئے سب کچھ رفتار کی خصوصی ڈاکیومنٹری میں
#Raftar#AbdulQadeerKhan#PakistanNuclearProgram
صنم جاوید کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ سچ بولتی ہیں
اور سچ ان سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔شہر بانو چھوٹی سی بچی ہے اس کی والدہ کو اٹھایا اس کے گھر کی بجلی بند کر دی
ایم پی اے صائمہ کنول
معید پیرزادہ نے حد کردیا۔
چوٹی کے صحافی معید پیرزادہ انقلابی ثابت ہؤا, عمران خان کے جد وجہد کے ساتھ پاکستان کے لیے کھڑا ہوں🔥
ان تمام بہادروں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔✊
یہ ہے شرم حکومت
جس عورت کو مجبور کیا عمران خان کا ساتھ چھوڑ دے سیاست چھوڑ دے آج وفاقی وزیر اسی کے ساتھ تصویر بنا کر فخر محسوس کر رہا
یہ حکومت اور اسکے مالک بہت چھوٹی سوچ کے ہیں
#موناسکندر
ان لوگوں کا پلان یہی ہے کہ عمران خان کے مرنے کا انتظار کیا جائے اور پھر اس کا عظیم الشان مقبرہ بنا کر اس کے مجاور بن جائیں۔
پھر ہر کوئی تسبیح، ٹوپی، جائے نماز، پین، ڈائری، آٹوگراف لے کر آتا جائے گا کہ یہ عمران خان کے ہیں، چنانچہ لوگ اسے ووٹ دیں۔
عمران خان چھ بائی آٹھ فٹ کے تندور میں قید ہے، تم چار کروڑ کی اے سی والی گاڑی میں بیٹھی ہو۔
عمران خان کے بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، تم پارلیمانی لیڈر کا عہدہ انجوائے کر رہی ہو۔
ہمیں عمران خان کی تسبیح ہاتھوں میں اٹھا کر مت دکھاؤ،
ہمت ہے تو اس کا بیانیہ اٹھا کر دکھاؤ ۔ ۔ ۔!!!
افتخار چوہدری دور میں قاضی فیض عیسی کا نام بطور جج تجویز کرنے والا اعتزاز احسن
آج کھل کر بول رہے ہیں کہ قاضی فیض عیسی ملک میں آئین کا کباڑا کر کے گیا ہے