🇳🇵🇨🇳 انتباہ: دل دہلا دینے والے مناظر
نیپال میں ریسکیو اہلکار ملبے اور کیچڑ میں دبے ایک نوجوان کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا صرف سر کیچڑ سے باہر نظر آ رہا ہے۔ 😢💔
اس کا پورا جسم مٹی میں پھنسا ہوا ہے، مگر خوف اور صدمے سے اس کا کانپتا جسم صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
نیپال-تبت سرحد کے قریب تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر کے تباہ کن واقعے کو دو دن گزر چکے ہیں۔ سینکڑوں افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ تقریباً 1,000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
ریسکیو آپریشن جاری ہے، جبکہ چین کی پہلی پیشہ ورانہ ریسکیو ٹیم شدید متاثرہ علاقے گیریونگ پورٹ تک پہنچ گئی ہے۔
قدرت کے سامنے انسان کتنا بے بس ہے… دعا ہے کہ ملبے تلے پھنسے مزید لوگ زندہ مل جائیں۔ 🤲🇳🇵
Source: CNN | Writer: Marie
لندن میں واقع بچوں کا ہسپتال Great Ormond Street Hospital دنیا کا بہترین ہسپتال ہے جہاں ہماری حکمران اشرافیہ کے بچوں کا علاج ہوتا ہے۔
اس ہسپتال میں 29 ستمبر 2008 کو سلنڈر میں دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی، ایمرجنسی سروسز حرکت میں آئیں اور تمام بچوں کو، جی، تمام بچوں کو کسی نقصان کی بغیر بچا لیا گیا۔
کسی ڈاکٹر کسی نرس کو نقصان نہیں پہنچا۔
کیوں ؟
اس لیے کہ حادثہ کبھی بھی ہو سکتا ہے، اس سے بچنے کی ایمرجنسی ڈرلز باقاعدگی سے ہوتی ہیں۔ ہر سرکاری عمارت، سکول، پلازہ پر لازم ہے کہ وہ آگ لگنے کی صورت میں فائیر ایگزٹ کا راستہ کھلا رکھے۔ کسی بھی ایمرجنسی میں متبادل نظام خودبخود حرکت میں آتا ہے اور جانیں بچ جاتی ہیں۔
اسی لیے ہماری حکمران اشرافیہ اپنے بچوں کا علاج پاکستان میں کروانے کی غلطی کبھی نہیں کرتی۔
کتنا مشکل ہے لندن کے ہسپتالوں سے وہ راز حاصل کرنا کہ آگ لگنے کی صورت، نقصان سے کیسے بچیں ؟
کتنا مشکل ہو سکتا ہے ؟
شاید ایٹم بم بنانے سے زیادہ مشکل کیونکہ ایٹم بم بنا لیا لیکن عمارتوں میں حادثاتی صورت سے بچنے کی کوئی ترکیب ہم نہ نکال سکے اور نکال سکتے بھی نہیں جب تک اشرافیہ کے بچے ان ہسپتالوں میں علاج کے لیے جانے پر مجبور نہیں ہوں گے۔
This young man is an uncut diamond that deserves a future.
The Cockroach Janata Party should enlist diamonds like him as members if they really want to go far with their movement and change India’s destiny.
If not, some rich NGO or a corporate CSR department should rehabilitate him by providing an interest-free loan and helping him set up a small business.
His name is Mohammad Irfan. He lives in a broken 12 sq yd 1-room slum (with tarpaulin roof) with his parents and two sisters in Delhi’s Laxmi Nagar.
For his livelihood, along with his father, he sells ice slabs as a roadside vendor.
He cannot write, he never went to school, and all his education is acquired by asking questions to Google several hours a day.
From the Preamble to the Indian Constitution (Hindi version) to Urdu Shayar Ahmed Faraz and Kavi Gopal Das Neeraj’s poetry to legal rights of workers and minimum wage & hour laws in India, his knowledge is 10x more than the average brainwashed WhatsApp University uncles of India.
In the video, Irfan emphasizes on “garima” (dignity). The Preamble to the Constitution explicitly states: “assuring the dignity of the individual,” irrespective of their caste, religion, education, or economic status.
Irfan was discovered by The Lallantop’s brilliant journalist Rajat Pandey @RajatpandeyJF during recent student protests at Jantar Mantar. That’s real journalism India needs instead of the shameless mainstream media that is digging India’s grave.
Rajat can provide the phone number and address of Irfan to anyone interested in supporting him.
Spare 20 minutes of your time this Sunday to watch this YouTube video:
https://t.co/fDFk8umLMb
@RShahzaddk آخری بیس منٹ کا کھیل دیکھیں ۔۔۔ ارجنٹینا کمال کھیلا ۔۔۔ تین چار مزید یقینی مواقع ضائع بھی ہوئے اس کے باوجود وہ دو گول سکور کر گئے
انگلینڈ آخری 20 منٹ انتہائی برا کھیل کر ہارا ۔۔۔ باقی سب چونکہ چنانچہ دل کی تسلی کے لیے ہی ہیں
جہاں رینالڈو جیسے کھلاڑی روتے ہوئے جا رہے وہاں ناروے کا Erling Haaland دنیا کا نیا ہیرو ہے ساڑھے چھ فٹ کا وائکنگ دیو ہے اس ورلڈ د کپ میں سات گول کر کے ٹاپ پر ہے زندہ دل فنی اور بہت سادہ مزاج کا ہے اسے فارغ وقت میں گھر میں گرل فرینڈ کے لیے کھانا بنانا پسند
چاچو نے حسب روایت ایک کمیٹی بنا دی ہے جس میں تقریباً وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے پہلے مرحلے میں یہ متنازعہ ٹیلی کام بل پاس کیا تھا۔ اس میں شیریں رحمان کا نام بھی ہے۔ شیریں پی پی کی سینیٹ کی اس کمیٹی کی ہیڈ ہیں جو قوانین دیکھتی ہے اور اسی سے بل نکلا تھا۔ لوگ شیریں پر بھی الزام لگاتے ہیں کہ ان کے شوہر ندیم حسین کا اس میں مفاد تھا۔ ان کی کمپنی Planet N Group ایک ٹیکنالوجی انویسٹمنٹ فرم ہے جو فِن ٹیک، ای کامرس، ایڈ ٹیک وغیرہ میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ اس نے Telenor کے اشتراک سے EasyPaisa لانچ کیا جو پاکستان کا سب سے بڑا موبائل پیمنٹس اور برانچ لیس بین킹 پلیٹ فارم بن گیا۔ قصہ مختصر ان کا بھی کانفلیکف آف انٹرسٹ بنتا ہے
جہاں شور پڑا وہ پلوشہ والی قائمہ کمیٹی الگ ہے۔ شیریں پی پی کی سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن بھی ہیں۔
کینسر کی بچی زہرہ بی بی کو شوکت خانم کینسر ھسپتال نے لینے سے انکار کردیا اسکے بعد راۓ ونڈ کئیر کینسر ھسپتال پہنچے تو انہوں نے بھی لینے سے انکار کردیا کہہ ھم 15 سال سے کم عمر نہیں لیتے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ ریاست تو ماں ھے اور آپ ماں ھو بچی زہرہ کو کہاں لیکر جائیں
نجی ہاوسنگ سوسائٹی
الرحمن گارڈن (فیز2 شرقپور شریف روڈ) نے سوسائٹی کی سیکیورٹی فورس کے نام پر اپنی غنڈہ فورس بنائی ہوئی ہے👇
شکایات کے ازالے کے بجائے رہائشیوں کو اغواء کر کے نجی ٹارچرسیلز میں تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔
@MaryamNSharif
Trump told me he was also open to a dramatic diplomatic step: meeting directly with Iranian leadership if the opportunity arises.
https://t.co/AoYYJBBjJW
#بم#شیل#نیوز
سی ڈی اے بمقابلہ طاقتور وفاقی وزیر، ہائی رینک پولیس افسر و بری امام کے گروپ دوئم “پیر صاحب“ کا چالاک بھتیجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سی ڈی اے غریب شہریوں کے مکان تو بلڈوز کر رہا مگر جب ٹاکرا ہوا مندرجہ بالا تکون سے تو دانت کھٹے کیوں ؟؟؟؟؟
زرائع مطابق اسلام آباد کے ریڈ زون (ڈپلومیٹک انکلیو) کے اندر اربوں روپے کی زمین پر ناجائز (غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ) Bonte Cafe کو بلڈوز کرنے سی ڈی اے انفورسمنٹ ٹیم بمعہ ہیوی مشنری پہنچی تو ان کا سامنا تین تکونی پہاڑ یعنی مسلم لیگ ن کے طاقتور وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی، بری امام کے گروپ دوئم کے انتہائی اثرورسوخ والے پیر راجہ سرفراز کے بھتیجے اور ایک ہائی رینک پولیس افسر سے ہوا
سی ڈی اے کی ہیوی مشینری اس طاقتور پہاڑ سے نہ ٹکرا سکی اور واپس آگئی
جبکہ دوسری جانب یہی سی ڈی اے صید پور ویلج میں غریب شہریوں خلاف دن رات آپریشن کر کے ان کے مکانات گرا رہی اور انہیں بے آسراء کر رہی
واضع رہے کہ ریڈ زون (Diplomatic Enclave) جیسے پاکستان کے سب سے انتہائی حساس ایریا میں غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ Bonte Cafe کے مالکان میں وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی کا بیٹا حماس عباسی، ایک طاقتور پولیس افسر اور بری امام کے متولی ہونے کے دعویدار راجہ سرفراز کے بھتیجے شامل ہیں
سی ڈی اے نے یہ پلاٹ اسلام آباد پولیس کے سکیورٹی ڈویژن کے افسران و ملازمین کی بیرکس بنانے لیے الاٹ کی تھی مگر طاقتور وفاقی وزیر و دیگر نے اس اب اربوں روپے کی زمین پر قبضہ کر کے غیر قانونی طور پر Bonte Cafe تعمیر کر رکھا ہے جسے بلڈوز کرنے جب CDA انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم گئی تو اسے تین طاقتور اشخاص نے واپس بجھوا دیا جس سے بڑا سوال کھڑا ہوگیا کہ سی ڈی اے غریبوں کو بلڈوزروں تلے کچل رہی جبکہ سیاسی اثر رسوخ والوں کو چھٹی دے رہی