ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا جنازہ رکھا لیکن کوئی جنازہ پڑھانے نہیں آیا امام کہتا ہے کہ میرے پاس ٹائم نہیں دوسرا کہتا کہ میں ربیع الاول کی محفل میں ہوں....
پیسے نے انسانیت ہی ختم کر دی ہے..
کرنل کی بیوی! پاکستانی فوج کے نام پہ کلنک کا ٹیکا! ابھی تک کرنیلوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس عورت اور اس کے بےوقوف خاوند نے انھیں زہر کا ٹیکا لگا دیا ہے! اور ان کی بچی کچی عزت گٹر میں پھینک دی ہے! میجر عزیز بھٹی کے سہانے خواب سے بیدار ہو جاؤ کرنیلوں! آنکھیں کھولو!
شکریہ جمائمہ آپ 2007 میں بھی عمران خان کی رہائی کے لئے مشرف کے خلاف لڑ رہی تھی جب قاسم اور سلیمان چھوٹے بچے تھے
اور آپ آج بھی عمران خان کی رہائی کے لئے لڑ رہی ہیں جب قاسم اور سلیمان جوان ہیں ♥️
عمران خان کو 22 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھنا، کتابیں، اخبار اور ٹی وی تک نہ دینا.
یہ صرف ظلم نہیں، عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ قوم یہ سب دیکھ رہی ہے اور خاموش نہیں رہے گی۔
قائد کا حکم ہے کہ #حقیقی_آزادی_موومنٹ_تیز_کرو#StopRiskingImranKhansLife
#TorturingImranKhanIsACrime
عمران احمد خان نیازی کو میں دہائیوں سے جانتا ہوں۔۔۔وہ ذہین ترین لیڈر ہے۔۔ خان کے بیٹوں سے بات ہوئی ہے۔۔ہم 2 دن بعد پارلمینٹ میں آواز اٹھائیں گے
“خان کو رہا کرو”
برطانیہ کے جیرمی کوربن
🚨 لارڈز کے میدان سے عمران خان کے حق میں بین الاقوامی آواز! 🇵🇰🏏
اسکائی سپورٹس (Sky Sports) کی لائیو کوریج کے دوران سابق انگریز کپتان مائیکل ایتھرٹن نے سابق وزیراعظم اور قومی ہیرو عمران خان کی جیل میں صحت اور دیکھ بھال کا معاملہ اٹھا دیا۔
اہم نکات:
21 عالمی کپتانوں کا خط: دنیا بھر کے 21 سابق بین الاقوامی کرکٹرز (بشمول مائیکل ایتھرٹن، ناصر حسین، کپل دیو، اور سنیل گواسکر) نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کی ہے۔
صحت پر تشویش: 73 سالہ عمران خان کی جیل میں صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
عظیم کرکٹر کا احترام: کمنٹیٹرز نے واضح کیا کہ عمران خان پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں اور پوری دنیا کا کرکٹ طبقہ ان کی صحت کے لیے پرعزم ہے۔..
اب اگر آپ میں سے ہر بندہ اسے ۱۰ بندوں تک پنچا دے تو یہ واقعہ قوت بن سکتی ہے۔ سرحد یونیورسٹی کے ایڈمیشن ڈیٹ میں کچھ دن رہ گئے ہیں۔ اس کی بائیکاٹ کی مہم ہم سب کو چلانی چاہیئے۔
ان یونیورسٹیز کو کچھ نہ کچھ عوامی ردِ عمل ملنا چاہیئے۔
چند سال پہلے عمران خان نے اسی اینکر مائیکل ایتھرٹن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے بچوں کو خوف ہے کہ کہیں سیاست کی وجہ سے میری جان نہ چلی جائے۔
آج اسی مائیکل ایتھرٹن کے سامنے عمران خان کے بیٹے اپنے والد کی جان کو جیل میں لاحق خطرے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں
جب میں صدر تھا تو مجھے claim کیا جاتا تھا کہ تم دیکھنا عمران خان کا کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا ، جب 8 فروری کا الیکشن ہوا تو پھر میں نے ان کو آئینہ دکھایا
یہ عمران خان سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ کہیں کوئی عمران خان کی شکل ہی نا دیکھ لے
سابق صدر عارف علوی