تنظیم اسلام کے زیرِ اہتمام 3 ہفتوں پر مشتمل ملک گیر آگاہی مہم بعنوان ’’ اُمَّتِ مُسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات ‘‘
امیر تنظیم اسلامی جناب شجاع الدین شیخ حفظہ اللہ کا عوام الناس کے نام پیغام۔
#TanzeemeIslami#ShujauddinShaikh
Why did this Ummah decline? It deserted the very Book that once made it great. 📖
In this message, Dr. Israr Ahmed (rahimahullah) points to the real root cause of the Muslim Ummah's decline — not weapons, not wealth, not even numbers, but abandoning the Qur'an.
“And the Messenger has said, ‘O my Lord, indeed my people have taken this Qur’an as a thing abandoned.’” (Surah Al-Furqan, 25:30)
For centuries, the Ummah held the Qur'an as a living guide — not just recited, but understood, obeyed, and built into every part of life: its law, its ethics, its society. When that living relationship faded into ritual recitation without understanding or practice, decline followed. The very warning given fourteen centuries ago describes exactly where we stand today.
The cure is not more wealth or more numbers — it is returning the Qur'an to its rightful place, not as a book kept on a shelf, but as a living guide for every part of our lives.
This is the very reason Tanzeem-e-Islami exists: a call to return to the Qur'an (Da'wat-e-Rujoo ilal Qur'an). Watch the full message, reflect, and take the first step.
Watch the full message and reflect. This is the very heart of our campaign this year.
💬 WhatsApp us: 0332-4353693
📧 Email us: [email protected]
🌐 Visit our website: https://t.co/lBdNTEencc
----------------------------------------------------------------
یه امت زوال کا شکار کیوں هوئی؟ کیونکه اس نے وه کتاب چھوڑ دی جس نے اسی عروج بخشا۔
ڈاکٹر اسرار احمد رحمه الله اس پیغام میں امتِ مسلمه کی زوال کی اصل اور بنیادی وجه بیان کرتے هیں — نه ہتھیار، نه دولت، نه تعداد، بلکه قرآنِ مجید کو چھوڑ دینا۔
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
(ترجمه: اور رسول کہیں گے : اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا.) — سوره الفرقان، آیت 30
صدیوں تک امت نے قرآن کو ایک زنده رهنما کی طور پر تھام رکھا تھا — صرف تلاوت کی لیے نهیں بلکه سمجھنے، عمل کرنے اور زندگی کے ہر شعبے، قانون، اخلاق اور معاشرت میں نافذ کرنے کی لیے. جب یه زنده تعلق محض رسمی تلاوت میں سمٹ گیا، زوال کا آغاز ہوا. چوده سو سال پہلے دی گئی یہ تنبیه آج ہمارے حالات پر حرف به حرف صادق آتی ہیں۔
اس کا علاج مزید دولت یا مزید تعداد نهیں — بلکه قرآن کو اس کا صحیح مقام واپس دینا هے: طاق پر رکھی کتاب نهیں، بلکه زندگی کا زنده رہنما.
یهی وجه هی که تنظیمِ اسلامی کا قیام عمل میں آیا — دعوتِ رجوع الی القرآن کی لیی. مکمل پیغام دیکھیں، غور کریں، اور پہلا قدم اٹھائیں۔
💬 WhatsApp us: 0332-4353693
📧 Email us: [email protected]
🌐 Visit our website: https://t.co/lBdNTEencc
"امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات"
"The Plight of the Muslim Ummah and the Path to Salvation"
The Ummah’s Crisis Is Deep—But the Path to Renewal Is Clear
The Muslim Ummah today faces division, moral decline, injustice and the loss of a shared collective purpose. But despair is not our destiny.
The path to renewal begins when we hold firmly to the Qur’an, follow the Sunnah, rise above sectarian divisions and accept our collective responsibility as one Ummah.
“Hold fast to the Qur’an. Rise above sectarianism.”
This is more than a slogan. It is a call to strengthen our relationship with Allah, reform ourselves, unite upon divine guidance, stand for justice and strive collectively for the establishment of Deen.
Tanzeem-e-Islami’s nationwide awareness campaign, “The Plight of the Muslim Ummah and the Path to Salvation,” invites every Muslim to reflect, reconnect and act.
Let us become part of the solution. Share this message and help awaken the collective conscience of the Ummah.
🌐 https://t.co/VCDSc3Aqfy
Connect with Tanzeem-e-Islami Official
WhatsApp: +92 332 4353693 Email: [email protected]
Website: https://t.co/lBdNTEeV1K YouTube: @struglefordeen
#TanzeemeIslami #drisrarahmedsahab #TanzeemUmmahCampaign #UmmahPathToSalvation #ReturnToQuranAndSunnah #UmmahUnityForSalvation #IqamatAdDinMission #IslamicRevival #ConnectToQuran #OneUmmahOneDivineMission
واہ! یہ تو واقعی چلتا پھرتا تندور ہے، ڈور ٹو ڈور سروس بھی۔ محنت کرکے حلال رزق کمانے والے لوگ قابلِ تعریف ہوتے ہیں۔ اگر انسان میں محنت کا جذبہ ہو تو وہ روزی کمانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیتا ہے۔ ایسے محنتی لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
قربان جاؤں!
فیفا ورلڈ کپ میں شریک سینیگال کی فٹبال ٹیم کے کوچ پاپے تھیاؤ (Pape Thiaw) اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ پریس کانفرنس میں دیئے گئے ان کے وہ جرات مندانہ بیانات ہیں، جنہوں نے سب کو حیران کر دیا۔
ایک صحافی نے سوال کیا:
''آج ریاست نیو جرسی میں تیز ہوائیں چل رہی تھیں اور سیکورٹی حکام نے وفد کے ارکان کو اپنی حفاظت کے پیش نظر باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا تھا، پھر آپ نماز کے لیے کیوں نکلے؟''
پاپے تھیاؤ نے جواب دیا:
''کیا نماز سے زیادہ بھی کوئی اہم چیز ہو سکتی ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ سوال آپ کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔ آپ ہواؤں سے ڈرتے ہیں، جبکہ ہم اُس اللہ سے ڈرتے ہیں جس نے ان ہواؤں کو پیدا کیا ہے۔ ہم یہاں ایک تفریحی کھیل کھیلنے آئے ہیں، مگر افسوس کہ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہماری اصل تخلیق اللہ کی عبادت کے لیے ہوئی ہے۔
اگر آج ورلڈ کپ کا فائنل بھی ہوتا اور ہم اس کے فائنلسٹ ہوتے، تب بھی ہم نمازِ جمعہ ادا کرنے ضرور جاتے، چاہے اس کی قیمت ہمیں چیمپئن شپ سے محرومی کی صورت میں ہی کیوں نہ چکانی پڑتی۔ ہمارے دینی شعائر کے بارے میں ہم سے اس انداز میں گفتگو نہ کی جائے۔''
اللہ کی قسم! مجھے سینیگال پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ افریقی براعظم کی نمائندگی کرنے کے لیے اس سے بہتر مثال شاید ہی کوئی ہو۔ پاپے تھیاؤ کے یہ بیانات آج بھرپور بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایمان اور یقین کی ایسی قوت کم ہی دیکھی ہے۔ صحافی حقیقتاً خاموش ہو گیا اور ان چند جملوں کے بعد اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہ بچا۔
ووٹ کاسٹ کرنے سے لیکر ووٹ کی حفاظت تک سادہ سا طریقہ اس مختصر ویڈیو میں سمجھا دیا گیا ہے۔ اسے فیس بک ، واٹس ایپ ٹک ٹاک پر زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اور ثواب دارین حاصل کریں۔
ویڈیو کریڈٹ ؛@Kaptaan_squad
دوستوں سے گزارش ہے کہ مہربانی فرما کر اس پوسٹ کو اتنا شیئر
کریں کہ یہ Unilever لائف بوائے کمپنی کے مالک تک پہنچ جائے۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف اصلاح کرنا ھے. اس شیمپو پر جو کمپنی نے اپنا
ایڈریس لکھا ہے، اس میں "فاطمہ جناح" لکھا ہوا ہے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ کمپنی سے گزارش کی جائے کہ ایڈریس میں صرف "جناح" لکھیں، "فاطمہ نہ لکھیں، کیونکہ "فاطمہ" ہمارے پیارے نبی صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی کا مبارک نام ہے، اور
یہ پاک نام گٹروں اور نالوں وغیرہ میں جاتا ہے، جو کہ بے ادبی ہے۔ دوستوں سے دوبارہ گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو اتنا شئیر کریں کہ کمپنی اس پر عمل کرے اور ایڈریس میں سے "فاطمہ" کا لفظ ہٹا دے۔
اللہ آپ سب کا بھلا کرے۔
کل اسلام آباد میں واپس آرہا تھا تو روڈ پہ مالٹے اور کیلوکا ایک سٹال دیکھا، میں اکثر فروٹ ایسے لوگوں سے ہی خریدتا ہوں۔ بہرحال بائیکل سائیڈ پہ کھڑی کی تونیچے دیکھا ایک بچی نماز پڑھنے میں مصروف ہے۔ میں انتظار کرتا رہا بچی نے نماز پڑھا اور روڈ کی طرف اگئی۔ میں نے کہا کہ مالٹے کتنے کے درجن لگائے ہیں تو اس نے کہا کہ 400 روپے ہے، پہلے میں نے ادھا درجن لیا لیکن پھر اس بچی کی معصومیت دیکھ کر پورا درجن لے لیا۔ بچی سے پوچھا کہ ابو کیا کرتے ہیں تو بتانے لگی کہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور ہم گولڑہ رہتے ہیں ہم چار بہنیں ہیں اور تین چھوٹے بھائی ہیں۔ پہلے امی یہ بیچتی تھی اب وہ بیمار ہے میں آرہی ہوں۔ عمر بچی کی زیادہ سے زیادی 16 سے 17 سال ہوگی۔
میں نے کہا کہ بیٹا گھر کا گزارا کیسے ہوتا ہے تو کہنے لگی کہ انکل بس یہاں سے ہزار یا 12 سو بچ جاتے ہیں اس سے ۔ میں نے پانچ سو کا نوٹ دیا اور چلنے لگا تو بچی نے کہا کہ انکل سو روپے لیتے جاو امی نے منع کیا ہے کہ کسی سے زیادہ پیسے نہیں لینے میں نے کہا کہ بیٹا کاش ہر غریب آپ کی طرح خوددار ہو۔ ہمارے معاشرے میں تو امیر غریب کا مال کھانے کے درپے ہیں اور آپ یتیم ہوکر بھی سو روپے لینے سے انکاری ہے۔ بائیک چلاتے ہوئے سوچنے لگا کہ یامیرے رب ہمارے بچوں پہ ہمارا سایہ قائم رکھ ، یتیم کی زندگی واقعی بہت مشکل ہوتی ہے۔
کوئی بھی دوست کشمیر ہائی پہ جائے تو آرامکو پیٹرول پمپ نزد ایچ 13 بریک لگا کر اپنی ذکواة اس باہمت بچی کو اپنے ہاتھوں سے دے سکتے ہیں یا پھل خرید سکتے ہیں۔
میں چونکہ اسی علاقہ میں رہتا ہوں، اس لئے اپنے دوسرے محلہ داروں کو بھی کہا ہے کہ فروٹ اپ لوگ ویسے لیتے ہیں آج سے اس بچی سے لیا کریں تاکہ یہ وقت پہ گھر جاسکے۔ آپ دوست بھی ایسی ہی مستحق سے لیا کریں تاکہ ان کا چولہا جلتا رہے۔