جو ترمیم ہوئی ہے، ہم آپس میں بیٹھے ہیں۔ میں کھل کر آپ سے کہنا چاہتا ہوں، ہم نے واک آؤٹ تو کیا، لیکن ہم نے قانون کا مطالعہ نہیں کیا۔اگر ہم اس قانون کا مطالعہ کر لیتے تو ہم پہلے لڑتے، اپنا پوائنٹ آف ویو دیتے، بحث کرتے۔ اگر وہ زبردستی ووٹ کا مرحلہ آتا تو پھر ہم نکل کر واک آوٹ لیکن نشاندہی تو ہونی چاہیے تھی۔
وہ جو کسی زمانے سے بات چلی آ رہی ہے کہ ملک کے سیاسی نظام میں فوج کا کردار ہونا چاہیے اور اس کو قانون کے حوالے سے، اس کو کردار دیں تو یہ تو ترکی بنانا چاہتے تھے۔ ہم اتا ترکی حکومت بنانا چاہتے تھے کہ اس میں فوج کا کردار ہونا چاہیے۔ آج اس قانون کے ذریعے ان کو یہ کردار دے دیا گیا ہے۔
اور میں درخواست کروں گا بیرسٹر گوھر، علی ظفر صاحب سے بھی، علی ظفر صاحب سے بھی، کامران صاحب سے بھی، یہ بیٹھیں آپس میں اور آپ ان چیزوں کو ڈسکس کریں کہ کہاں کہاں پر کیا کچھ ہوا ہے اس کے اندر۔
وہ جو فیڈرل گورنمنٹ کے اختیارات تھے، فوج کے ادارے کے اختیارات کے حوالے سے جو ایک اختیارات تھے، جس میں بری فوج ہو، فضائی فوج ہو، بحری فوج ہو، اس کی قیادت میں ردوبدل کرنا، چھٹی دینا نہ دینا، ترقی دینا نہ دینا، کسی کی ملازمت میں۔۔۔یہ سارے اختیارات جو فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تھے، وہ آپ نے آج چیف آف ڈیفنس فورسز کو حوالے کر دیے ہیں۔
اور ان کو اگر آپ نے ایڈوائزر بھی بنا دیا ہے، ڈیفنس ایڈوائزر، تو اب وہ کیبنٹ میں بیٹھے گا۔ اب فیلڈ مارشل بھی ہو، آرمی چیف بھی ہو اور وہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، اور وہ کیبنٹ میں بیٹھا ہو۔ آپ بتائیں، فیصلے کون کرے گا؟ فیصلہ شریف صاحب کرے گا؟ اس کی کابینہ کرے گی؟
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب
حضرت محمد ﷺ کی بعثت انسانیت پر اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہے۔ آپ ﷺ نے توحید، عدل، مساوات، بھائی چارے اور حسنِ اخلاق کا پیغام عام کیا۔ آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہر انسان کے لیے زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ ہے۔ درود و سلام ہو اس عظیم ہستی پر۔
#محمد_حبیب_کبریا#خیر_الانبیاء
#سراج_الہدیٰ
#شافع_امت
#رسول_آخر_الزمان
ان کو سیاسی جماعتیں بہت بری لگتی ہیں۔کہتے ہیں، ہارڈ اسٹیٹ ہونی چاہیے، سخت حکومت۔ بھئی سخت حکومت بھی، تم مسلمان ہو۔ ہمارے دینِ اسلام میں سیاست اور حکومت دونوں کے لیے یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ التعامل بین اللطف والعنف، سختی اور نرمی کے درمیان کے رویوں کا نام سیاست ہے اور اس کا نام حکومت ہے۔
بالکل بھی اگر سخت نظام آپ چلائیں گے تو گھٹن پیدا ہوگی اور لوگ متنفر ہو جائیں گے، اور اگر بالکل بھی آپ نرمی کریں گے تو نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، بد نظمی آ جاتی ہے۔
تو دنیا کو بتا رہے ہیں کہ آپ معتدل بنیں، یعنی اعتدال پسند بنیں، تو اس اعتدال پسندی کا اعلان تو قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے کیا ہے: وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا۔ ہم نے تمہیں ایک میانہ رو امت بنایا ہے۔
تو یہاں پر بھی ایک شخص کے خیالات چلتے ہیں، شوریٰ نہیں ہے۔
میں بڑے ادب و احترام کے ساتھ اپنے سپہ سالار سے بھی آراء کرنا چاہوں گا کہ آپ اگر سپہ سالار ہیں تو اس منصب کے حوالے سے بھی جناب رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل سے کچھ رہنمائی لیں۔
غزوۂ اُحد پر جانے کے لیے مشاورت ہوئی تھی اور نوجوانوں کی اکثریت نے کہا: ہم میدان میں جا کر لڑیں گے، جبکہ خود رسول اللہ ﷺ کی رائے نہیں تھی، لیکن اکثریت کو مان لیا اور کہا: چلتے ہیں۔
جب نقصان ہوا، ستر صحابہ کرام شہید ہوئے، آپ کے چچا شہید ہوگئے، آپ کو خود زخم آئے، آپ کو غار میں پناہ لینے پڑی، تو میں جب اپنے طور پر سوچتا ہوں کہ یہ منظر دیکھ کر ،،،، نبوی ﷺ کو کس کرب سے گزرنا پڑا ہوگا۔ اور امکان ہے کہ ان کو یہ بھی خیال آیا ہو کہ میں نے ان سے مشورہ کیوں کیا؟ میں تو خود پیغمبر ہوں، جو میں فیصلہ کروں ان کو ماننا پڑے گا۔
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ۔
یہاں صحابہ کرام کی سفارش ہو رہی ہے۔ اس سے مبارک جماعت کائنات میں اور ہو سکتی ہے کہ جس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اللہ سفارش کر رہے ہیں، ان کی، کہ ہم نے تو آپ کو ان کے لیے نرم پیدا کیا ہے۔ اگر آپ سخت رویوں والے ہوتے تو یہ تو آپ سے بھاگ جاتے۔ کون آپ کے سامنے صاف بات کرتا؟ یہ دِل دِل بکر جاتے، آپ کے نور اور آپ کی برکات سے محروم رہ جاتے، آپ کی تعلیمات سے محروم رہ جاتے۔
اب ایسا کرو کہ ان کو معاف بھی کر دو، ان کے لیے بخشش بھی مانگو اور ان سے مشورہ بھی کیا کرو۔
تو ہم اس لیے مسلمان ہیں کہ ہم اللہ کے قرآن سے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی لیں اور پھر عمل کریں۔ یہاں میں طاقتور ہوں اور بس، جب طاقتور ہوں تو پھر میں جیسے چاہوں کروں، تو یہ نہیں چلے گا۔
تو ہمیں رویوں میں تبدیلی لائیں۔ آج مغرب ہمیں کہتا ہے اعتدال، جبکہ اعتدال کی اولین تعلیم قرآن کریم نے دی ہے۔ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسلامی امت اور مسلمانوں اور مذہبی لوگوں کو آج شدت پسند اور انتہا پسند کہا جا رہا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 23 اگست 2026
صلی اللہ علیہ وسلم
" یوں آنے کو سب ہی آئے۔ سب میں آئے۔ سب جگہ آئے ( سلام ہو ان پر) بڑی کٹھن گھڑیوں میں آئے۔ لیکن کیا کیجیئے کہ ان میں جو بھی آیا، جانے ہی کے لئے آیا۔ پر ایک اور صرف ایک جو آیا اور آنے ہی کے لئے آیا۔ وہی جو اگنے کے بعد پھر کبھی نہیں ڈوبا، چمکا اور پھر چمکتا ہی چلا جارہا ہے، بڑھا اور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے، چڑھا اور چڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ سب جانتے ہیں اور سبہوں کو جانا ہی چاہیئے کہ جنہیں کتاب دی گئی اور جو نبوت کے ساتھ کھڑے کئے گئے، برگزیدوں کے اس پاک گروہ میں اس کا استحقاق صرف اسی کو ہے اس کے سوا کس کو ہوسکتا ہے جو پچھلوں میں بھی اس طرح ہے جس طرح پہلوں میں تھا۔
کتاب : النبی الخاتم از سید مناظر احسن گیلانی ؒ
#محمد_حبیب_کبریا
#خیر_الانبیاء
#سراج_الہدیٰ
#شافع_امت
#رسول_آخر_الزمان
ہمارے ملک میں اگ لگی ہوئی ہے 20 سال سے اپریشنز ہو رہے ہیں اور ہر اپریشن کے ساتھ فرق بڑھتا جا رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ تمہاری پالیسی غلط ہے اور غلط کے ساتھ ساتھ تم اپنی پالیسی میں بد نیت بھی ہو تم چاہتے ہی نہیں ہو کہ ارام ائے، اور پھر کہتے ہو ریاست ماں ہوتی ہے ماں تو اولاد کو اکٹا کرتی ہے لیکن ہمیں اللہ نے ایسی ماں دی ہے جو قوم کو تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہیں کہ "لڑاؤ اور حکومت کرو۔۔
کل مولانا فضل الرحمان صاحب نے ایسی شاندار تقریر کی کہ بلوچستان والوں کے دل جیت لیے۔
بس مولانا فضل الرحمان صاحب کی تقریر ہی سنائی دے رہی ہے۔ یہ تو صرف چند لوگوں کی ویڈیوز میں نے بنائی ہیں، ورنہ محبت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ماشاءاللہ، قائد کی آواز دلوں پر راج کر رہی ہے۔
مرکزی معاون سالار عبداللہ خلجی بلوچستان
#رہبر_ملت_مولانا
#ہم_فرعونیت_کے_منکر
#ملک_عوام_کا_ہے
#تنخواہ_دار_مالک
#بدامنی_کا_حساب_دو
تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔
اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔
ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔
اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔
اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔
اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔
اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔
تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب
25 اگست 2026
"آئین کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے،جعلی پارلیمان کے ذریعے من مانی قانون سازیاں ہو رہی ہیں،ایک ادارے کے سربراہ کو مضبوط بنانے کے لیے ترامیم کی جا رہی ہیں،پارلیمنٹ اور کابینہ کا اختیار بھی اسٹیبلشمنٹ کو دے دیا گیا ہے
مولانا فضل الرحمٰن
رسول اللہﷺ نے فرمایا 6 ایسے لوگ جن پر میں اور اللہ لعنت بھیجتے ہیں۔اُن میں ایک وہ ہے جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے اور جن کو اللہ نے عزت دی ان کو رسوا کرتے ہیں اور جو گھٹیا قسم کے لوگوں کو اوپر لاتے ہیں،
مولانا فضل الرحمٰن
" ھنگامی اعلان "
ٹیم جے یو آئی ٹوئٹر ایکس کی جانب سے سرکارِ دو جہاں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں نذرانۂ عقیدت و محبت پیش کرنے کے سلسلے میں آج شام 6 بجے ٹوئٹر (X) پر خصوصی ٹرینڈ چلایا جائے گا۔
احباب درودِ شریف کا اہتمام بھی کریں اور سیرت طیبہ کے حوالے سے بھرپور مواد کے ساتھ تیار رہیں۔
شکریہ
کل مولانا فضل الرحمان صاحب نے ایسی شاندار تقریر کی کہ بلوچستان والوں کے دل جیت لیے۔
بس مولانا فضل الرحمان صاحب کی تقریر ہی سنائی دے رہی ہے۔ یہ تو صرف چند لوگوں کی ویڈیوز میں نے بنائی ہیں، ورنہ محبت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ماشاءاللہ، قائد کی آواز دلوں پر راج کر رہی ہے۔