اس وقت میں شوکت خانم ہسپتال لاھور میں موجود ہوں یہ سینٹرلی ائیر کنڈیشنڈ ھے۔ یہاں کا فرش دیواریں حتی کہ یہاں کی کرسیاں بھی مسلسل اے سی چلنے کی وجہ سے ٹھنڈی ٹھار ہیں، اتنی ٹھنڈی کے آپ ان پہ بیٹھیں یا ان کو ہاتھ لگائیں تو جسم میں ایک ٹھنڈی سی سرسراہٹ محسوس ھوتی ہے اور جھرجھری آ جاتی ہے
مگر
اسی شوکت خانم کا بانی پچھلے تین سال سے اپنے ہی ملک میں جیل کی گرم جہنم جیسی چکی میں پڑا ہے۔
قصور یہی ہے کہ وہ اپنے ملک اپنے لوگوں کی بات کرتا ہے
اور ہم مزے میں اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں،
کتنی بے حس قوم ہیں ھم،
عمران خان ہم شرمندہ ہیں، بہت شرمندہ،
ھم سب آپ کے مجرم ہیں۔
(فیاض بلوچ)
اسلام آبادہائیکورٹ میں عمران خان کی 3 درخواستیں،تینوں مسترد۔۔
1.عمران خان کو شفاء ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے،درخواست مسترد
2.عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹروں سے ملایا جائے،درخواست مسترد
3.عمران خان سےانکی فیملی سےملاقات کرائی جائے،درخواست مسترد۔۔
یقین کریں دکھ یہ بھی کہ عدلیہ ختم ہو چکی مگر زیادہ دکھ اس بات کا جج بھی سرنڈر کرچکےاور دکھ یہ بھی کہ عدلیہ کی نہ عزت رہی اور نہ ڈر اور زیادہ دکھ اس بات کا یہ بات ججوں کو محسوس ہی نہیں ہو رہی۔۔
🚨🚨🚨بے حس قوم 🚨🚨🚨
موٹر سائیکل کی ٹینکی زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر کی ہوتی ہے اور عام 1300cc کار کی ٹینکی زیادہ سے زیادہ 50لٹر کی ہوتی ہے
ساری ساری رات لائن میں لگ کر ملک بھر سے لاکھوں لوگوں نے موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کروا کر 550روپے اور گاڑی کی ٹینکی فل کروا کر 2500روپے کی بچت کی
یہ پٹرول کتنے دن چلا لو گے چار دن ایک ہفتہ بس اور پھر اس کے بعد پھر مہنگا پٹرول ہی ڈلواؤ گے نا
اس کی بجائے اگر پٹرول مہنگا ہونے پر یہی لاکھوں لوگ صرف ایک بار تمام روڈ جام کر دیں اور واپس سستا ہونے تک نہ کھولیں تو 24 گھنٹوں میں قیمتیں واپس آ جائیں
لیکن افسوس صد افسوس یہ بات سمجھاتا سمجھتا عمران خان اڑھائی سے جیل میں پڑا ہؤا ہے کہ میں تو برداشت کرلوں گا آپ نہیں کر سکو گے آج بھی یہ قوم لاکھوں کی تعداد میں نکلتی ہے تو پٹرول ڈلوانے نہ کہ پٹرول سستا کروانے
اعتزاز احسن نے حق ادا کردیا!!
تاریخی الفاظ!!
عمران خان میرا دوست بھی ہے ہمسایہ بھی!
عمران خان کی آنکھ کو نقصان پہنچانے والے کسی غلط فہمی میں مت رہنا!!
عمران خان کی آنکھ نقصان ہوا تو پورے پاکستان میں ایک تباہی کی کیفیت ہوگی!!
یہ 1989 نہیں یہ 2026 ہے!!
لوگ سب کو کھا جاینگے!!🔥✊
تھوتھا چنا باجے گھنا
جب ڈیل کیساتھ جیل ختم اور اقتدارِ بے اختیار شروع ہو جائے تو مخالفین کیخلاف ایسی جگتیں مارنا آسان ہو جاتا ہے-
جب جیل پمز اسلام آباد اور لندن کے ھسپتالوں میں کٹی ہو تو مخالفین پر ایسی سستی جگتیں مارنا ایک بے اختیار صدرِ مملکت کو زیب نہیں دیتا۔ ُ
آئینی طور پر بے اختیار اور سیاسی طور پر غیر مقبول لوگ سارا دن بیٹھ کر خود کو اہم ثابت کرنے کے طریقے سوچتے رہتے ہیں
موجیں لگیں ہوئی ہیں چوروں کی ڈاکوں کی
مذہب کے تاجروں کی رقبوں کے مالکوں کی
دعوی محافظی کا،پیشہ بشر کشی کا۔
یہ ظلم یہ اذیت یہ ننگی بربریت ۔
ڈنڈیں بھی کھائیں انکے ،جھنڈے بھی ہم لگائیں
کہ یہ جا بسیں گے مکہ ،ہم کدھر کو جائیں ۔
یہ آرٹیکل آج ایکسپریس ٹربیون سے ڈیلیٹ کروا دیا ہے میں اس اردو ترجمہ جاری کر رہا ہوں اسے خود بھی پڑھیں اور آگے بھی پھیلائیں تا کہ دوبارہ ڈیلیٹ کروانے سے پہلے دس بار سوچیں
Title: It is over
Author: ZORAIN NIZAMANI
طاقتور بوڑھے مرد اور عورتیں جو اقتدار میں ہیں، ان کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل آپ جو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کچھ بھی نہیں خرید رہی۔ آپ سکولوں اور کالجوں میں جتنے بھی لیکچر اور سیمینارز کا اہتمام کر لیں، patriotism کو فروغ دینے کی کوشش کر لیں، یہ کام نہیں کر رہا۔ patriotism فطری طور پر آتا ہے جب برابر مواقع ہوں، مضبوط انفراسٹرکچر ہو اور موثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں، وہ ویسے بھی کریں گے۔
نوجوان ذہن، جنریشن زیڈ، الفا، وہ بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کی مسلسل کوششوں کے باوجود کہ آپ انہیں اپنا patriotism کا نقطہ نظر بیچیں، وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت، جو تھوڑی بہت تعلیم ہمارے پاس باقی ہے اس کی بدولت، آپ کی بہترین کوششوں کے باوجود کہ عوام کو جتنا ہو سکے ان پڑھ رکھا جائے، آپ ناکام ہو گئے۔ آپ ناکام ہو گئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیا سوچیں، وہ خود سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ آپ کے خود ساختہ نیکی اور فضیلت کے نقاب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ آپ کی عوام میں مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
نوجوانوں نے کافی ہو گیا ہے اور کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بہت مثالی ہو گا اگر سوچیں کہ وہ کرپشن کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جائیں گے اور مڑ کر نہیں دیکھیں گے کیونکہ ان کے دوست جو بولے تھے، خاموش کر دیے گئے۔
لیکن بومرز کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے۔ کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ جنریشن زیڈ تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، اقتدار والے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ سستے سمارٹ فونز چاہتی ہے، بومرز ان پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ فری لانسنگ پر پابندیاں نرم چاہتی ہے، بومرز ریگولیشن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ نکتہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بومرز ہار گئے ہیں۔
آپ جتنی جنگیں چاہیں کروا لیں، جنریشن زیڈ ان پر میمز بنا لے گی۔ مین سٹریم میڈیا کو سینسر کر لیں، جنریشن زیڈ Rumble، YouTube اور Discord جیسے پلیٹ فارمز پر چھلانگ لگا کر اپنی رائے دے گی۔ بومرز، اب آپ خیالات کو سینسر نہیں کر سکتے۔ وہ دن گئے جب آپ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے تھے۔ اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں۔ ہاں، اپارٹمنٹ کرائے پر لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہاں، کار خریدنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ آپ کی محنتوں کی بدولت، جو معیشت ہمیں سونپی گئی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم چلتے رہتے ہیں، کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس (جتنا میں ان سے نفرت کرتا ہوں) اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں تسلی ڈھونڈتے ہوئے۔ ہم گندے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں۔ ہم آپ کی ٹی وی پر تقریریں نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر جو آپ کہتے ہیں وہ ہنسی کا سامان ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے پاس سٹینڈ اپ کامیڈی ہے، مین سٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟
وقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی آپ سمجھیں اتنا بہتر۔ لیکن آپ کو پرواہ بھی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پرواہ کیوں ہو گی؟
تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔
جانتے ہیں کیوں؟
جنریشن زیڈ نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور Spotify پیڈ ہے، اگر صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو آدھے کے پاس جانے کے وسائل ہوں گے، باقی آدھے آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے اور اچھے انداز میں نہیں۔
بومرز، ہم تنگ آ چکے ہیں۔ ہم آپ کا بیانیہ اب نہیں خرید رہے۔
یہ پرانا ہو چکا ہے۔
عظمیٰ بخاری کا بیان: "یہ محض ایک بیان نہیں، ایک ذہنیت کا انکشاف ہے"
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک ویڈیو پیغام میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو طنزیہ انداز میں "خوش آمدید" کہا: "بتیاں دیکھیں، روٹی کھائیں، تصویریں کھینچیں، یہ پاکستان کا یورپ لاہور دیکھنے آئے ہیں۔"
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ "جنگلی لوگ" یا منشیات لانے والوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
پنجاب حکومت کے سرکاری اکاؤنٹ سے بھی آفریدی کو "ڈرگ مافیا" قرار دیا گیا اور تصاویر کے ذریعے تضاد دکھایا گیا—
ایک طرف ترقی کی چمک دمک، دوسری طرف منشیات کا الزام۔
یہ بیان محض ذاتی نہیں، بلکہ پنجاب کے حکمران طبقے کے اس مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے جو صوبے کو "پاکستان کا دل" سمجھتے ہوئے باقی صوبوں کو کمتر اور "جنگلی" گردانتے ہیں۔
"عظمیٰ بخاری کا بیان محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک پوری ذہنیت کا پردہ چاک کرتا ہے۔
یہ کسی فرد کی لغزش نہیں بلکہ اُس طاقتور طبقے کی اجتماعی سوچ کا اظہار ہے جو غرور، اقتدار کے نشے اور تاریخی لاعلمی میں مبتلا ہو چکا ہے۔"
پنجاب کی ترقی کے پیچھے چھپے تاریخی اور ساختاری حقائق
1- برطانوی فوج کی ریڑھ کی ہڈی اور آج بھی وہی کردار
برطانوی ہندوستانی فوج میں پنجابی سپاہیوں کی بھرتی 1857 کے بعد تیزی سے بڑھی اور 1929 میں عروج پر پہنچ گئی، جب کل 139,200 بھرتیوں میں سے 86,000 پنجاب سے تھے (یعنی تقریباً 62 فیصد لڑاکا افواج)۔ یہ تاریخی "مارشل ریس" کا لیبل آج بھی پنجاب کو عسکری اور پولیسی طاقت کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔
2- گیریژن اور پولیس اسٹیٹ کا ماڈل
مغلیہ دور سے لے کر آج تک پنجاب کو پولیسنگ اور کنٹرول کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
آزادی کے بعد پنجاب پولیس فوج، ایجنسیوں اور سیاستدانوں کے ماتحت رہی۔ "رول بائی فئر" (خوف سے حکمرانی) کا نظام یہاں پولیس کے ذریعے چلتا ہے، اور حالیہ آپریشنز (جیسے رجیم چینج) میں پنجاب پولیس نے غیر قانونی اور ماورائے عدالت کارروائیاں کیں۔
3- پنجاب پاکستان ہے، پاکستان پنجاب ہے
پاکستان کی جغرافیائی سیاسی سوچ میں پنجاب کو مرکز قرار دیا جاتا ہے جبکہ باقی صوبوں کو "حملے کے راستے" سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ 75 سالوں میں پنجاب نسبتاً پرامن رہا، جبکہ دیگر صوبوں میں مسلسل عسکری آپریشنز، چیک پوسٹیں اور اجتماعی سزائیں جاری رہیں۔
4- خیبر پختونخوا: مسلسل فوجی لشکر کشیاں
نائن الیون کے بعد درجنوں آپریشنز ہوئے—راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب، ردالفساد وغیرہ—اربوں ڈالر خرچ ہوئے، میڈیا نے کامیابی کا راگ الاپا۔
مگر دہشت گردی نہ رکی۔ یہ جنگ اب ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہو کر نسل در نسل چلی آ رہی ہے، اور صوبہ ترقی سے محروم رہا۔
5- بلوچستان: وسائل کی لوٹ مار اور سرداروں کی خریداری
بلوچستان کے قدرتی وسائل (خاص طور پر گیس) پر مکمل قبضہ ہے۔
رائلٹی کے نام پر قومی دولت مٹھی بھر سرداروں کو دی گئی، جنہیں ہنی ٹریپ اور دیگر طریقوں سے کنٹرول کیا گیا۔ گیس پنجاب لے جا کر وہاں چوری ہوئی، جبکہ بلوچستان کے بیشتر علاقے محروم رہے۔ اسمگلنگ کو سرپرستی ملتی رہی، اور فوج کے کچھ عناصر ارب پتی بن گئے۔
6- سندھ اور ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشنز
پکا قلعہ (1990)، آپریشن کلین اپ (1992-94)، 1994-96 کا آپریشن، 1998 کا گورنر راج، اور 2013 سے جاری کراچی آپریشن
سب کے نتائج صفر رہے۔ ہزاروں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور جھوٹے مقدمات۔ کراچی کو کھنڈر بنانے میں یہ سب آپریشنز شریک ہیں
7- پنجاب کی ترقی: لاہور کی چمک، باقی صوبوں کی لوٹ
پنجاب کی "ترقی" دراصل لاہور تک محدود ہے، جہاں سی پیک سمیت دیگر صوبوں کے وسائل اور عالمی قرضوں سے اربوں ڈالر کے پروجیکٹس (میٹرو وغیرہ) بنائے گئے۔ اصول وہی ہے: "دکھتی ہے تو بکتی ہے"
خلاصہ
پنجاب کی خوشحالی محض محنت کا نتیجہ نہیں، بلکہ طاقت، اسلحے، اور ریاستی ترجیح کا شاخسانہ ہے۔
جب تک یہ سچ تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ پاکستان میں مسئلہ دہشتگردی نہیں بلکہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے، تب تک نہ پنجاب محفوظ ہوگا، نہ بلوچستان مطمئن، اور نہ ہی ملک متحد۔یہ محض ایک بیان نہیں — یہ ایک آئینہ ہے، جس میں ریاست کو خود کو دیکھنا ہوگا۔
عظمیٰ بخاری کا طنز کوئی ذاتی بات نہیں۔
یہ پنجاب کے اس تاریخی اور ساختاری برتری پن کی عکاسی ہے جو برطانوی دور سے چلا آ رہا ہے:
پنجاب فوج اور پولیس کا گڑھ، وسائل کا مرکز، اور باقی صوبوں کو دہشت گردی، بغاوت یا کمتر سمجھ کر مسلسل آپریشنز اور لوٹ مار کا نشانہ بناتا رہا۔ نتیجہ؟
لاہور چمکتا ہے، باقی پاکستان جلتا اور برباد ہوتا ہے۔ یہ ترقی نہیں، طاقت کا کھیل ہے جو "پنجاب پاکستان ہے" کے نعرے تلے چھپا ہوا ہے۔
کھلے دماغ سے سوچئے کہ کیا ایسے حالات میں پاکستان ترقی کرسکتا ؟
نفرتوں سے نکل کر ایک پاکستانی ہونے کے ناطے جواب دیجئے ۔
شیئر کیجئے
سالگرہ مبارک ھو میرا بھائی.
ایک اور سال، ایک اور موقع، امید، حوصلے اور قیادت کی نئی کہانی لکھنے کا۔
اللہ آپ کو صحت، خوشیاں، اور اپنے مقصد میں کامیابی عطا کرے۔
#HappyBirthdayImranKhan
معافی کیوں منگوا رہے ہیں؟ CCTV فوٹیج عدالت میں پیش کرو اور عدالت کو فیصلہ کرنے دو، لیکن اگر سارے فیصلے بادشاہ سلامت نے کرنے ہیں تو پھر عدالت کو تالا لگا دو،
علیمہ خان