افریقہ میں قادیانیوں کے غیرمسلم ہونے سے متعلق کیس چل رہا تھا، اور عدالت میں دلائل دینے تھے‘
تو افریقہ کے مسلمانوں کی پوری دُنیا میں اِس مقصد کے لئے جس ہستی کی طرف نظر گئی‘
وہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب تھے
اور کورٹ مین اپنے دلائل سے قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے میں کامیاب رہے
"قیامت میں اقتدار کا نہیں، دین کے لیے محنت کا حساب ہوگا"
"" مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہم ""
امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا جےیوآئی ا��لام آباد کے زیر اہتمام سیرت النبی کانفرنس سے خطاب ۔۔۔!
ہم دن رات ایک کرتے ہیں، گلی گلی، گاؤں گاؤں پھرتے ہیں، آزمائشیں بھی مول لیتے ہیں اور اس راستے میں شہادتیں بھی آتی ہیں تو اسے برداشت کرتے ہیں۔ لیکن اگر قوم ہماری بات نہیں مانتی، پیغام کو قبول نہیں کرتی اور انتخابات میں ہمیں ووٹ نہیں ملتا تو کیا ہمیں اس راستے کو چھوڑ دینا چاہیے؟
اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ نتیجہ آپ کے ذمہ نہیں ہے۔ لوگوں کے دلوں میں بات اتارنا، اسے قبول کروانا یا نہ کروانا آپ کا کام نہیں۔
وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
اللہ تعالیٰ جس کے حق میں ہدایت نہیں لکھتا، آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ
لہٰذا نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں۔
ہمیں دو باتیں سمجھنی چاہئیں۔ جس دین کی خدمت کے لیے ہم نکلے ہیں، جو پروگرام اور منشور لے کر میدان میں آئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے کہ ہمیں ہماری استطاعت کے مطابق مکلف بنایا ہے۔ اللہ نے ہمیں ہماری طاقت سے بڑھ کر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔
جو ہمارے بس میں ہے، وہ ہمیں کرنا ہے؛ اور جو ہمارے بس میں نہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا ہمیں مکلف نہیں بنایا۔
دوسری بات یہ ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا مکلف بھی ہمیں نہیں بنایا گیا۔ کامیابی اللہ کی مرضی ہے، وہ چاہے تو کامیابی دے اور چاہے تو نہ دے۔
قیامت کے روز اللہ تعالیٰ یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے اسلامی نظام نافذ کیا یا نہیں، لیکن ضرور پوچھے گا کہ اللہ کے دین کے لیے تم نے محنت کی یا نہیں؟
اگر ہم اقتدار تک نہیں پہنچ پا رہے اور اللہ کے دین کے نفاذ کی قدرت ہمارے ہاتھ میں نہیں آ رہی تو کم از کم یہ قدرت تو ہمارے پاس ہے کہ ہم اس کے لیے محنت کریں، عوام کو سمجھائیں اور حق کی بات ان تک پہنچائیں۔
یہی وہ حق ہے جس کے بیان کرنے میں آزمائشیں آتی ہیں۔
ہمارے علماء لکھتے ہیں کہ حق کا پرچار کیا کرو۔
حق کے مقابلے میں باطل ہے۔ حق اس چیز کو کہتے ہیں جو قائم رہنے والی اور ثابت ہونے والی ہو، جبکہ باطل مٹ جانے والی چیز کو کہتے ہیں۔
باطل کی عملی صورت اگر باطل حکمرانی ہے تو حق کے معنی بھی باطل حکمرانی کے مقابلے میں حق کی آواز بلند کرنا ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جب حق کے پرچار کا حکم دیا تو فوراً فرمایا:
وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
یعنی حق کی تلقین بھی کرو اور صبر کی تلقین بھی کرو۔
کیونکہ جب آپ عوام کے سامنے حق کی بات کریں گے تو پہلے سے اقتدار میں موجود طاقتور قوتوں کی طرف سے آزمائشیں آئیں گی؛ اور جب یہ آزمائشیں آئیں گی تو پھر استقامت، استقلال اور صبر کی ضرورت ہوگی۔
لہٰذا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اگر معاش��ے میں جبر، ظلم، استبداد اور معاشرتی اضطراب ہے تو اس کے مقابلے میں وہ نظام کیا ہے جو ہمیں عدل کا تصور دیتا ہے؟
اقتدار بذاتِ خود ہمارا مقصودِ اصلی نہیں۔ اقتدار ہو تو اس لیے ہو کہ ہم عدل نافذ کر سکیں۔
ظلم اور جبر کے مقابلے میں عدل و انصاف کا نفاذ، معاشرے میں انصاف اور مساوات کا قیام ، یہی وہ دین ہے جو رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے لے کر آئے تھے۔
#سمیع_سواتی
#TeamJUISindh #TeamJUIPak #DefendersOfJUI
خدا کی قسم جمہوریت کی ایسی وضاحت پہلے کبھی نہیں سنی، جمہوریت کو کفر کہنے والوں یہ ضرور سن لے۔ ان شاء اللہ اسکے بعد کفر کا فتویٰ نہیں لگاؤ گے۔ مولانا صاحب کی #جےیوآئی_ورکرزکنونشن_پشاور سے خطاب
1971 ہتھیار ڈالنے سے ایک دن پہلے کہا کہ ہم لڑینگے ‘ اگلے دن ہتھیار ڈال دئیے
ملک اور عوام کو کیوں امتحان میں ڈال رہے ہو ‘
قوم کو اپنے اصل ارادوں سے آگاہ تو کرو ‘ ظلم کے دن توڑے ہیں
مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں اہم خطاب
#MaulanaFazlurRehman#1971Surrender#PeshawarJalsa
مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کے اندر کچھ اپوزیشن جماعتوں کے کردار سے مطمئن نہیں انکا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک حالیہ قانون کو پڑھے بغیر منظور کروا دیا جو آئین سے متصادم تھا مولاناکا خیال ہے اپوز��شن جماعتوں کو آئندہ پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے
ایک جبر کا ماحول ہے اور ہم اس ماحول کے اندر وقت گزار رہے ہیں۔اسلام میں جبر کی کوئی اجازت نہیں ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابُ الدَّعْوَةِ،
(چھ اشخاص ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی، اللہ نے بھی ان پر لعنت کی، اور ہر وہ نبی جس کی دعا قبول ہوتی ہے، اس نے بھی ان پر لعنت کی)
ان چھے میں ایک ہے:
الْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ، يُعِزُّ مَنْ أَذَلَ�� اللَّهُ، وَيُذِلُّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ۔
(طاقت کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والا تاکہ اس کے ذریعہ اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے، اور اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت بخشی ہے)
جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے، قوم کی مرضی نہیں ہے، طاقت کی بنیاد پر جو قوم پر مسلط ہوگا اور عزت والوں کو بے عزت کرے گا، جیسے ابھی دو چار روز پہلے بلوچستان سے معززین بلائے گئے اور یہاں پر جو ہماری مقتدرہ نے ان سے خطاب کیا اور گفتگو کی، جو انتہائی توہین آمیز تھی۔ تم باعزت لوگوں کو ذلیل کرو گے اور جو دو ٹکے کے لوگ نہیں ہیں، وہ ہمارے وزراء اور منسٹر ہم پر حکومت کریں گے۔ جو آپ کے وفادار ہو سکتے ہیں، وہ قابلِ انعام ہیں، اگر پاکستان کا وفادار ہے تو وہ غدار ہے۔
تو یہی سیاست تو انگریز کی تھی کہ انگریز کے وفادار کو وفادار کہا جاتا تھا، ہندوستان کے وفادار کو غدار کہا جاتا تھا۔ آج وہی رویے ہمارے ملک کے اندر ہم دیکھ رہے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں خطاب
"جو برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہے وہ خدا کا پیغمبر نہیں ہو سکتا!"
مولانا فضل الرحمٰن کا عق��دہ ختمِ نبوت اور آئینی حقوق کے تحفظ پر اہم ترین بیان۔
#FazlurRehman #KhatmeNabuwat #JUI #Pakistan
افغان وزیر داخلہ کی بیرونِ ملک مقیم تاجروں سے وطن میں سرمایہ کاری کی اپیل
امارت اسلامیہ کے وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے بیرونِ ملک مقیم افغان تاجروں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے بجائے اپنے وطن میں سرمایہ کاری کریں۔
وزیر داخلہ نے یہ بات خوست میں بجلی کے نیٹ ورک کی توسیع کے پانچ منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے بیرونِ ملک مقیم افغان تاجروں اور سرمایہ کاروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ اس سے بہتر وقت نہ پہلے آیا ہے اور نہ آئے گا؛ اپنی سرمایہ کاری وطن لے آئیں۔ آئیں، اپنے وطن کی حفاظت اور تعمیر کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں، ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور اپنے ملک کو خود تعمیر کریں۔
قائد جمعیت شیخ الاسلام شیخ العرب والعجم امام الاولیاء محدث کبیر حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ کی قبر مبارک پر اللہ تعالیٰ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔۔!
افغان ایمبیسی کی تقریب میں مولانا فضل الرحمان کا شاندار خطاب ؛ عمار خان یاسر کا تبصرہ
گزشتہ روز اسلام آباد کے موو این پِک ہوٹل میں افغانستان کے سفارت خانے کے زیرِ اہتمام افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے پانچ سال مکمل ہونے پر ایک اہم تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب میں پاکستان کے چیدہ چیدہ سیاستدان، قومی و مذہبی رہنما، مختلف ممالک کے سفراء ، صحافی اور مختلف شعبہ ہ��ئے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شریک تھیں۔ لیکن اس اجتماع کی ایک خاص بات یہ تھی کہ صرف دو شخصیات نے خطاب کیا۔ افغان سفیر سردار شکیب احمد خان نے مختصرا خیرمقدمی کلمات کہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کی بات کرتے ہوئے افغانستان کا پالیسی بیان دیا جسکے بعد دعوت مولانا فضل الرحمن کو دی گئی۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنی گفتگو کی بنیاد اقبال کے ان اشعار پہ استوار کی کہ؛
آسیا یک پیکرِ آب و گِل است
ملتِ افغان در آں پیکر دِل است
از فسادِ او فسادِ آسیا
از کشادِ او کشادِ آسیا
اقبال نے افغانستان کو ایشیا کے جسم میں دل قرار دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی خطے میں ایک غیر معمولی جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان مل کر مشرق و مغرب کے درمیان ایک اہم پل بن سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطی ایشیا ہو یا جنوبی ایشیا، دونوں ممالک کی جغرافیائی حیثیت انہیں خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
مولانا نے زور دیا کہ افغانستان اور پاکستان، دونوں کو اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ایک مشترکہ مستقبل کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ پاکستان افغانستان کا سہارا بنے اور افغانستان پاکستان کا سہارا۔
انہوں نے اس تعلق کو صرف دو پڑوسی ممالک تک محدود نہیں ��کھا بلکہ اسے پوری امتِ مسلمہ کے مستقبل سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ جیسے اہم مسلم ممالک باہمی تعاون کی طرف بڑھیں تو مسلم دنیا کے دوسرے ممالک بھی اس سفر میں شریک ہو سکتے ہیں۔
مولانا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک عالمی طاقتوں پر اپنا انحصار کم کریں، اپنی قوت اور وسائل کو مجتمع کریں اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں زیادہ خود انحصار بنیں۔
انہوں نے پاکستان کی طرف سے افغانستان کے عوام کو یہ پیغام بھی دیا کہ دونوں ممالک صرف ہمسائے نہیں بلکہ برادر اسلامی ممالک ہیں۔ جو مشکلات موجود ہیں، انہیں مکالمے، تفاہم اور مسلسل بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دونوں طرف یہ خواہش موجود ہے کہ تعلقات بہتر ہوں۔
میرے خیال میں مولانا فضل الرحمن کا یہ خطاب صرف افغانستان یا پاکستان کے تعلقات پر ایک سیاسی گفتگو نہیں تھی۔ اس میں ایک ایسے سیاستدان کی سوچ نظر آتی ہے جو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو صرف موجودہ اختلافات کی نظر سے نہیں بلکہ تاریخ، جغرافیہ، دین اور مستقبل کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
اور شاید آج سب سے زیادہ ضرورت بھی اسی سوچ کی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل یقیناً ہیں، اختلافات بھی ہیں، لیکن مستقل کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ملک اگر سنجیدگی سے بیٹھ کر اپنے اختلافات کو حل کریں، ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھیں اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کریں تو یہ صرف دونوں ملکوں کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی سمت کا آغاز ہو سکتا ہے۔
مولانا کا یہ خطاب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس نے ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھا ہے: کیا پاکستان اور افغانستان اپنی جغرافیائی، تاریخی اور دینی قربت کو اختلاف کی وجہ بنانے کے بجائے اپنے مشترکہ مستقبل کی طاقت بنا سکتے ہیں؟
ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔
آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔
اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔
اشتہار پر ان کی تصویر کیوں نہیں جنہوں نے ملک کو توڑا ۔۔!
بے نظیر کو مارنے والا دہــــ ـــشـــــ تگرد کیوں نہیں؟
کیا داڑھی، پگڑی اور پردے دہشتگردی کی علامت ہے؟
بے نظیر کو مارنے والا دہشتگرد کیوں نہیں؟
شاہینِ جمعیت نے پروپیگنڈے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھ دی
#Teamjuipak#TeamJuiKp #JuiUpdates @MudasirFurqan@marwat_anis