صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی کیا مزے کی زندگی تھی
جب بھی ذرا اداس ہوتے روح کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے مسجد نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو چل پڑتے
پہلی ہی ملاقات میں ایک بزرگ شخصیت نے عمران خاں سے پوچھا: زندگی میں آپ کی اولین ترجیح کیا ہے۔ بلا تامل انہوں نے جواب دیا: صرف پاکستان کی بجائے عالم اسلام کے لئے جدوجہد۔امریکہ سمیت مغربی مملک نے ادراک کر لیا۔خان کی قوم نہ کر سکی۔اس کی غلطیاں اپنی جگہ اور ناچیز سمیت کئی لوگ ان کی نشان دہی کرتے رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا عمل کیا ہے اور شخصیت کیا ۔ 1992 میں اس وقت خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا جب اس کی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں سمیت کرہ ارض پر کسی ایک شخص کو بھی اس کی امید نہیں تھی۔ شوکت خانم ہسپتال! اولین اجلاس میں 20 ڈاکٹروں میں سے 19 نے کہا: ہسپتال نہیں بن سکتا۔ ایک نے کہا: بن سکتا ہے، چل نہیں سکتا۔ ایک بے مثال ہسپتال، پھر دوسرا اور تیسرا۔ میانوالی
کی نمل یونیورسٹی ۔اتفاق سےاول دن سے یہ خاکسار اس کی کاوش کا گواہ ہے۔دوسرےتو کیا، Construction Company تپتے پہاڑوں کے دامن میں زیر تعمیر عمارت کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ سیاست کی تگ و تاز کے طویل عرصے میں کبھی وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوا۔ ایک ارب درختوں کے جنگل اور صحت کارڈ ایسے منصوبے وہی بروئے کار لا سکتا تھا۔ شریفوں اور زرداریوں سے اس کا کیا مقابلہ۔ پاکستان نہیں، وہ عالم اسلام کامقبول ترین رہنما ہے۔ فرسودہ نظام کے خلاف بغاوت اس نے پیدا کر دی ہے۔ ہزار حربوں اور عالمی قوتوں کی پشت پناہی کے باوجود یہ بغاوت تحلیل نہیں ہو رہی۔ ایک آدمی اس سے بڑھ کر کیا کر سکتا تھا، 42 برس کی عمر میں جس نے سیاست میں قدم رکھا ۔ مسئلہ اس کا یہ بھی تھا کہ مزاج سیاسی نہ رکھتا تھا۔ جوڑ توڑ سے ناآشنا ۔امید ہے کہ اسیری کے اذیت ناک برسوں میں بہت کچھ اس نے سیکھ لیا ہو گا۔ گھمبیر حالات میں اس کے تمام حریف بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ انشاء اللہ وہ آزاد ہو گا اور تاریخ کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو جائے گا۔ اہم ترین یہ ہے کہ حقیقی آزادی کے لئے دوسروں کو بھی شریک ہونا ہو گا، سبھی کو۔ کوئی بھی لیڈر اپنی جنگ تنہا نہیں جیت سکتا۔ ابرہام لنکن، ڈیگال اور قائداعظم محمد علی جیسے جلیل القدر رہنما بھی نہیں۔
دل کا اجڑنا سہل سہی پر بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے۔
حرف آخر یہ کہ مولوی حضرات اور نام نہاد لبرل ضرور اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ جس طرح کہ مذہبی جوش و خروش سےقائد اعظم کی مزاحمت کرتے رہے۔
عمران خان نے اپنے بیٹے سے صاف کہ دیا کہ آپ میں پیشن نہیں کرکٹر نہیں بن سکتے۔ ادھر نواز شریف اور آصف زرداری نے اپنی نالائق اولادوں کو وزیر اعظم بنانے کے لیے پورے ملک کا خشر نشر کر کے رکھ دیا ہے۔ کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کر دیا ہے۔
بڑا عوامی سروے!
ایک سینیئر پٹواری نے مجھے کہا ہے کہ الیکشن میں عمران خان کی مقبولیت بہت کم ہے۔
تو اس سروے سے پتہ چل جائے گا کہ کس کی مقبولیت زیادہ ہے
زیادہ سے زیادہ ریٹویٹ کریں
#ایاک_نعبد_و_ایاک_نستعین
پاکستان کی سیاست میں ٹھہراؤ اور بڑی اصلاحات کیلئے عمران خان کی فوری رھائ سب سے اہم شرط ہے، عمران خان کے بغیر ملک میں کوئ وفاقی لیڈر نہیں اور اصلاحات کے عمل میں ان کی حمائیت انتہائ اہم ہے!!
یہ لو پاکستانیوں۔۔ آپ لوگوں نے ان جعلی فارم 47 والوں کو اتنی اچھی طرح ان کی جعلسازی پر آئینہ دکھایا ہے ک
اب پروفیسر صاحب بھی اپنی حکومت کا تعارف فارم 47 سے کروا رہے ہیں۔ 😂😂
محسن نقوی کہتا ہے سسٹم ناکام ہو چکا ہے جبکہ مرد مجاہد نے تین سال پہلے کہا تھا۔ جیل میں تو میں چلا جاؤں گا لیکن کیا یہ پاکستان کی معیشت کے حالات کو برداشت کر لیں گے۔
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے 🔥
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی آج کل مل کر پورے اتفاق سے اقتدار کے مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ زبانی کلامی نورا کشتی دیکھ کر عمران خان کی بات یاد آ گئی۔
عمران خان نے کہا کہ، زرداری نے کہا کہ شریف خاندان چور ہے۔ شریف خاندان نے کہا کہ زرداری چور ہے۔
میں نے کہا کہ تم دونوں کی بات ٹھیک ہے۔
"میرے پاکستانیوں ! اگر آپ چُپ کرکے یہ ظلم سہتے رہے اور انصاف کے لیے نہ کھڑے ہوئے تو پھر یہ نہ سمجھنا کہ وہ اللہ اوپر سے ہماری مدد کرے گا اور ہم خود کچھ نا کریں۔ اللہ قرآن میں کہتا ہے ‘وہ کبھی اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود کچھ نہ کرے’"عمران خان
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔