پمز ہسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے میں 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر دل شدید رنجیدہ اور غمزدہ ہے۔ ننھی جانوں کا یہ المناک سانحہ پورے ملک کو سوگوار کر گیا ہے جس کا کرب لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔اس ناقابلِ تلافی نقصان پر میں غمزدہ والدین اور لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام سوگوار خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے سانحے میں 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر سن کر دل رنجیدہ ہے۔ میں غمزدہ والدین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ حکومت کو ذمہ داروں کا تعین کر کے سخت کارروائی کرنی چاہئے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا چاہئے۔
اچھا ہوا اس زہریلے ذہنی مریض تھرڈ ڈگری یوتھیے کو جلد سرکاری نوکری سے فارغ کر دیا گیا اس نے استعفیٰ کا ڈرامہ کر کے سیاسی فائدہ اٹھا لیا تھا
پاکستان کی کونسی یونیورسٹی ایسی نہی ہے جہاں سٹوڈنٹ کے پاس ناجائز اسلحہ اور منشیات تک نہی ہوتی ہے؟
اور یہ کہاں لکھا کہ ایک خاتون کو ایک مرد پروفیسر سٹوڈنٹ سے بل کر یرغمال بنوا لے ؟
اس بد نسل بد دماغ کو ہر معاملے پر تبصرے کا حق ہے مگر عاصمہ شیرازی جو ایک خاتون صحافی وہ رائے دینے کا حق نہی رکھتی ہے
عطا تارڑ صاحب کو ایسے چ کیوں پسند آتے ہیں ؟
ورلڈ کپ جیتا تو میں عمران کی فین ہو گئی میں اس سے ملنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ایک دن کام سے واپس آئی تو دیکھا عمران بیٹھا تھا میرے گھر، میں شاک میں میں نے پوچھا ادھر کدھر تو کہتا دوست نے کہا شبنم کا گھر ہے تو میں نے کہا چلو مل آتے اور کھانا کھاتے جاتے،
اس دوران کھانا لگا تو اس نے ماں کو فون کیا بولا ماں میرا کھانا نا بنانا میں کھا کہ آؤں گا،
کتنا اسے ماں کا خیال تھا کہ 1985 میں فوت ہوئی ماں کو 1993 میں فون کر کہ بتا رہا تھا کہ کھانا نا بنانا....!!
ہر کھانے والی چیز نواز شریف نہی ہوتی ہے ۔۔جیو چینل کا وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کو خراج عقیدت
وزارت اطلاعات کا پسندیدہ ترین چینل جسے وزارت سب سے زیادہ اشتہارات دیتی اور جب توہین کی وجہ سے بند ہوا تو اس کے حق میں سرکاری مہم بھی چلتی رہی
نقوی صاحب سسٹم ھر وقت evolve ھو رہے ھوتے ھیں اور ھونے چاہییں ۔ نمونے کے طور پہ PCB میں کوئی انقلاب لائیں کرکٹ کے شائقین PCB کی پرفارمنس سے کوئ اتنے مطمئن نہیں۔ PCB میں تو اقتدار کل آپ کے پاس ھے نہ وزیر اعظم ھے نہ پارلیمنٹ ھے نہ کوئ فرسودہ سیاسی نظام رکاوٹ ھے۔
ہم ریاست سے شہری حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن ہم شہریوں پر ریاست کے حقوق کی بات نہیں کرتے اور یاد رکھیں ریاست ہے تو سیاست ہے اور ریاست ہے تو ہم ہیں
ناظرین ترجمان پاک فوج احمد شریف تشریف لا چکے ہیں
ٹرمپ نے بریک لگائی تھی کہ چلو عمان میں بات چیت چل رہی ہے پھر پاسدران نے عمان کو بھی آنکھیں دکھا کر بھتہ خوری ہی لینے کا کہہ کر اردن پر میزائیل چلوا دئیے
اب امریکہ پاسدران کو ٹھوک رہا ہے جب سے مروانڈی kuttay کا بچہ پاکستان پر بھونکا ہے تب سے ان کی تباہی دیکھ کر اب خوشی ہوتی ہے
خطے میں معاشی دہشتگردی پھیلانے والا مُلک ایران ایک پلید ترین مُلک بن چکا ہے
مجھے بیٹیوں کے آگے بڑھنے پر بہت خوشی ہوتی ہے۔ کوپن ہیگن بزنس سکول، کاروباری دنیا میں ایک نامور ادارہ ہے جہاں پڑھنے والے طلبہ گریجوایشن سے قبل ہی دنیا کے بڑے ادارے اپنے ماتھے کا جھومر بنا لیتے ہیں۔عزیزم جناب راجہ عامر شہزاد کی صاحبزادی کو وہاں میرٹ پرداخلہ ملا ہے، اللہ کامیابی عطا فرمائے اور بیٹی کے نصیب اچھے کرے۔ یادش بخیر یہ وہی بیٹی ہے جسے پہلے منت ترلا کرکے دعوت دے کر پاکستان بلایا گیا اور پھر سرکاری سوشل میڈیائی راتب خوروں نے سکول میں پڑھتی اس بچی کی تصاویر لگا کر جھوٹا پراپیگنڈا کیا کہ اس کی سرکاری ادارے میں تقرری ہوئی تھی اور راجہ صاحب اس کے لئے نوکری مانگنے آئے تھے۔
جنہوں نے یہ الزام لگایا تھا ان کی اپنی نوکری خطرے میں ہے۔
🤣
آٹھ ہزار ارب ہر سال قرضہ کے سود کی وجہ یہ ہے
یہ پنجاب میں تعلیم کی قائمہ کمیٹی کی کاروائی ہے اسے غور سے سنیں چیک کریں جب حکمران افسر شاہی کے پیچھے چلتے تو وہ کمشن اور کرپشن کے لئے سرکاری خزانہ کیسے لٹاتے ہیں
ایک پروگرام شروع ہوا کہ سرکاری سکول کا کمرہ بارہ لاکھ میں پرنسپل خود بنوا دے بہت کامیاب تھا مگر سیکٹری نے روک دیا اب وہی کمرہ چالیس لاکھ تک بن رہا ہے کام روکنے سے سیالکوٹ میں بچیاں سکول میں مر گئیں مگر سیکٹری نے پورا پلان بدل دیا بارہ لاکھ میں بننے والا کمرہ چالیس لاکھ تک پہنچا دیا اس طرح کمشن ٹھیکداری میں آٹھ سو ارب کا تعلیم کا بجٹ جا رہا جبکہ جاہل وزیر تعلیم ٹک ٹاک اور تماشوں میں مصروف رہتا ہے
مریم نواز کو افسر شاہی اس طرح بدنام کروا رہی ہے
میں نے اپنا بیٹا کیپٹن سلمان سرور شہید اس تنخواہ کیلئے شہید نہیں کروایا جس کا ذکر مولانا نے کیا ہے کیونکہ سیاست اور مذہب فروشی آپکا پیشہ ہے
شہدا کے وارثان میدان میں تشریف لاچکے ہیں اور اگر مولانا نے اپنے بیان پر رجوع نہ کیا تو یہ بیان مولانا کی سیاست مُکانے کیلئے کافی ہوگا
کیا کسی نے چیک کیا ہے متنازعہ ٹیلی کام قانون بنانے والی آئی ٹی کی وزیر محترمہ شزا فاطمہ کے شوہر کس سیکٹر اور فیلڈ میں کام کرتے ہیں ؟
وزیراعظم صاحب آپ کو تو پتہ یہ کونسے وزیر کے گروپ کا حصہ اور کیسے کس کی کہنے پر وزیر بنائی گئی ہیں ( وہ وزیر خواجہ آصف نہی ایک اور چہیتے اور نکمے ترین وزیر ہیں )
آئئ ٹی سیکٹر ایک بہت بڑا اور حساس سیکٹر ہے وزیر اعظم صاحب اسے غیر منتحب مخصوص سیٹوں والوں کے حوالے مت کریں