صبح 6 بجے آگ لگی تو عملہ ہمیں یہ بتائے بغیر ہی بھاگ گیا کہ یہاں پر آگ لگ چکی ہے، اپنی مدد آپ کے تحت بھتیجے اور دیگر خواتین کو بچایا، 15 سالہ منیبہ کی گفتگو
انتظامیہ بھاگ گئی تھی ، ہم نے تالے توڑے ، اندر جانے کی کوشش کی تو آگ نے اٹھا کر باہر پھینکا ، میں باپ ہوں، زبردستی اندر گیا ، چار پانچ بچوں کو باہر نکالا لیکن وہ جھلس چکے تھے ، ایک باپ کی دکھ بھری گفتگو 💔
میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا
میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی
اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے
شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو
بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی
اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے
پمز کے سامنے غمزدہ والدہ کی دہائی: ’مجھے میرا بچہ دو، ورنہ میں یہاں سے نہیں اُٹھوں گی۔ میں یہیں بیٹھی رہوں گی۔ میں کہیں نہیں جا رہی، مجھے میرا بچہ دو۔۔۔‘
مکمل خبر: https://t.co/y1DaHZrqF0
میں پمز میں بھتیجا پیدا ہوا، آج صبح تقریباً 6 بجے آگ لگی اور عملہ ہمیں بتائے بغیر بھاگ گیا اور ہماری کوئی مدد نہیں کی نہ ہی یہ بتایا کہ آگ لگ گئی ہے۔ میں نے اپنے بھتیجے کو بچایا اور جب ہم بھاگ کر نیچے آئے تو عملے نے ہمیں باہر نہیں جانے دیا، عینی شاہد
پمز ہسپتال لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے اسٹاف خود بھاگ گیا، جبکہ مریضوں کو باہر نکالنے میں مدد کرنے والے افراد کو بھی روک دیا گیا۔ پورے اسٹاف کے کردار کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر غفلت یا ذمہ داری ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی اور سزا دی جانی چاہیے۔
#pims
ایک باپ کا دُکھ
4 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا، آگ لگی تو انتظامیہ کا کوئی بندہ نظر نہیں آیا، نرسری کے تالے توڑنے کےلئے کوئی بندہ نہیں تھا، اندر میرا بیٹا تھا، تالہ توڑ کر اندر گیا، آگ نے اُٹھا کر مجھے باہر پھینکا، میں نے اپنے ہاتھوں سے چار سے پانچ جلے ہوئے بچے باہر نکالے
یا اللہ ہم کس قدر ظالم معاشرے میں پیدا ہوئے ہیں جہاں پر غریب کی آہ و بقا سننے والا کوئی نہیں کیا کوئی بھی دولت کوئی بھی اسائش ان لوگوں کی بچوں کی زندگیوں کی تلافی کر سکتی ہے ؟؟