جو لوگ بیٹوں، بیٹیوں اور رشتہ داروں کو اقتدار منتقل کرتے ہیں، وہ لیڈر نہیں، گیدڑ ہیں۔ عمران خان نے مجھے متوسط طبقے سے منتخب کیا۔ میں نے رکشوں اور ٹیکسیوں میں سفر کیا۔ ہم عوام سے ہیں، ہمارے بیرونِ ملک فلیٹس یا جزیرے نہیں ہیں۔ — وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF#ImranKhan #PTI #PakistanPolitics
ایک دانا شخص نے ایک بار کہا تھا: ’’وہ میرے پیچھے نہیں آ رہے، وہ تمہارے پیچھے آ رہے ہیں، میں صرف ان کے راستے میں ہوں۔‘‘ تمام پاکستانیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ 27 ستمبر کو باہر نکلیں اور احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ جبران الیاس
#pakistan@agentjay2009
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
مجھے ایک سینیر پٹواری نے چیلنج کیا ہے کہ ان تین شہزادوں کی مقبولیت میں کمی آ گئی ہے، اب پہلی جیسی نہیں رہی ۔
اس سروے کے نتیجے سے پتا چل جائے گا کہ مقبولیت بڑھی یا کم ہوئی ؟
بیر سسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ جب کوئی جرم کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو نوجوانی میں 17 سال کی عمر سے آغاز کرتا ہے جبکہ عمران خان پر پہلا ایف ائی آر 71 سال کی عمرا میں ہوا۔
یہ ایک منفرد کیس ہے کیونکہ 71 سال ��ے پہلے عمران خان کا کوئی کریمینل ریکارڈ ہی نہیں
یہ بات پوری قوم کو بھی پتہ ہے کہ عمران خان جیل میں صرف پاکستان کے لئے ہیں، ورنہ حکومتی ٹاوٹ تو کھلے عام کہتے پھرتے ہیں کہ عمران خان اگر معافی مانگ لیں تو آزاد ہو سکتے ہیں ـ
سوال یہ ہے کہ کس جرم کی معافی مانگیں؟ پاکستان کو حقیقی آزادی دلوانے کی جدوجہد کرنا جرم ہے؟
#مزاحمت_بڑھاؤ_خان_چھڑاؤ
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ ��ہ لاوارث نہیں ہے۔ عاصم منیر، تم کون ہوتے ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔ جاوید ہاشمی
#pakistan @JavedHashmiJH
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
پنجاب میں اگر وزیراعلیٰ کو جہاز لینے سے فرصت نہیں ہے تو تھوڑی سی توجہ تعلیم کے شعبے پر بھی دے دیں۔ آدھے سے زیادہ طلبہ نائنتھ میں فیل ہو چکے ہیں، جبکہ سندھ میں تو اور بھی وارے نیارے ہو رہے ہیں، جہاں 1500 بھرتیاں اساتزہ کی انڈر میٹرک ہیں۔
اس ��قت آپ نے صوبوں، صوبوں کی بات شروع کی تو مجھے پتا ہے، تمہارے اندر کا حال میں جانتا ہوں۔ جب صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا، بہاولپور صوبہ، سرائیکی صوبہ، ہزارہ صوبہ وغیرہ وغیرہ، تو اس وقت تو آپ ہی مخالف تھے۔ آج کون سی نئی وہی آ گئی تم پر؟ پندرہ صوبے، تیرہ صوبے، بیس صوبے، پچیس صوبے، کچھ پتا ہی نہیں کیا ہو رہا ہے۔
تو یہی میں نے کہا کہ بھائی! گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، اِدھر کمروں میں آگ ہے، اُدھر کمروں میں آگ ہے، اور بھائی آپس میں بیٹھ کر کہتے ہیں: آؤ ذرا گھر کی تقسیم کر لیں۔ کوئی عقل دکھا لیں۔ ایسے عقل والے ہمارے اوپر مسلط ہیں، سمجھ میں نہیں آ رہے ہیں۔
میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کیوں ایسا ہو رہا ہے۔ معدنی ذخائر اب صوبوں کی ملکیت ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ ہضم نہیں ہو رہا ہے ان سے۔۔۔ کہ صوبے کے غریب عوام کون ہوتا ہے اتنے بڑے ذخائر کے مالک بننے والا!
اور دوسرا ہے ملک کی مجموعی محصولات میں صوبوں کا حصہ، جس کے بارے میں آئین کہتا ہے کہ بڑھ سکتا ہے، کٹ نہیں سکتا۔ یہ ہضم نہیں ہو رہا ان سے۔ اب کیا علاج کریں؟ صوبوں کو تھوڑیں؟ یعنی مرض کا علاج کرنے کے بعد بندے کو ہی دفن کر دو گے ؟
آج کہتے ہیں اتفاقِ رائے چاہیے، صوبوں کا اتفاقِ رائے، عوام کا اتفاقِ رائے۔ تو یہ تو ہم کہہ رہے تھے۔ اب جب صوبوں کے لیے عوام کا اتفاق، صوبوں کا اتفاق چاہیے،
نہ امن و امان ہو، نہ معیشت ہو، نہ جمہوریت ہے۔ اسمبلیاں بنائی جاتی ہیں عوام کے ووٹ سے نہیں، ڈمی قسم کی اسمبلیاں، اس سے حکومتیں بن جاتی ہیں۔
اب آپ باہر ملک میں بھی جائیں تو وہ ملک بھی آپ کی قدر نہیں کریں گے۔ وہ بھی سوچیں گے کہ ہیں تو پاکستان کے وزیراعظم، لیکن ان لوگوں کی حمایت تو نہیں ہے۔ کتنی بری بات ہے!
اپنی سرزمین خون سے سرخ ہے اور باہر جا کر آپ سرخ قالینوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ کون سی حکومت ہے؟
مولانا فضل الرحمان کا ساہیوال میں خطاب
@MoulanaOfficial