یہ آفیشل ترانہ لانچ کیا گیا ہے پی ٹی آئی کی طرف سے،الیکشن کیمپین کے لیے۔
اسے سب سنیں،ذہنوں میں بٹھائیں،ٹک ٹاک سمیت باقی جگہوں پر اسکا استعمال کریں۔
اور آگے شئیر کرتے جائیں۔
امریکہ کی طرف سے بھی تصدیق ہوگئی کہ اسد مجید اور ڈونلڈ لو کی عمران خان سے متعلق گفتگو پر شائع ہونے والی دستاویزات بالکل درست تھیں۔
مان گئے ہیں امریکی عمران خان کے روس کے دورہ کی وجہ سےخوش نہیں تھے
اللہ الحق ہے
میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے وہ سچے ہیں جس کی وجہ سے آج وہ سائفر کے معاملے میں سرخرو ہوے ہے.
#سائفر_ایک_حقیقت
#خان_تیرے_ساتھ_رہیں_گے
نوجوانی میں تقریروں میں یہ شعر اکثر پڑھا تھا؛
تو پرندے مار دے سرو صنوبر مار دے
تیری مرضی جسکو دہشتگرد کہہ کر مار دے
تیرا اس کے ماننے والو سے پالا پڑ گیا
جو پرندے بھیج کر لشکر کے لشکر مار دے
روایت ہے کہ ابرہہ خدائ کا دعویدار تھا۔ لیکن خلق خدا رب واحد کے کعبے کی زیارت کو جاتی تھی۔ ابرہہ کو گمان تھا کہ جب تک خانہ کعبہ سلامت ہے اسکی ��دائ مشکوک ہی رہیگی۔ سو اس نے نعوذ باللہ کعبہ پر چڑھائ کا منصوبہ بنایا۔ جب ابرہہ کا لشکر مکہ کی جانب بڑھ رہا تھا تو حضور پاک کے دادا حضرت عبدالمطلب جو کہ قریش کے سردار اور خانہ کعبہ کے والی تھے، اپنے قبیلے کو لیکر مکہ سے نکل گئے۔ کسی نے پوچھا کہ اے عبدالمطلب خانۂ خدا کا کیا ہوگا؟ عبدالمطلب نے جواب دیا اللہ اس کی حفاظت کرےگا۔ اور پھر مکہ کی پہاڑیوں سے اہلِ قریش نے ابرہہ کے لشکر کو ننھی ابابیلوں کے ہاتھوں غرق ہوتے دیکھا۔ صدیوں سے قران ابرہہ کے لشکر کی بربادی پر گواہ ہے۔
عبدالمطلب کا ایمان کمزور نہیں تھا، انہیں ابرہہ کا خوف نہیں تھا۔ انہیں اللہ کی کبریائ کا یقین تھا۔ عبدالمطلب جانتا تھا یہ لڑائی عبدالمطلب اور ابرہہ کی نہیں ہے۔ ابرہہ نے جسکی بڑھائ کو چیلنج کیا تھا اس ذات کی ناپسندیدہ ترین شے شرک ہے۔
لڑائ آج بھی فقط اتنی ہی ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ “لا الٰہ الا للہ”؛ نہیں ہے کوئ خدا اللہ کے س��ا اور وہ اسکی زمین پر خدائ کے دعویدار ہیں۔
ہم کہتے ہیں ہم غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکیں گے وہ کہتے ہیں وہ ہر اس سر کو کاٹنے پر قادر ہیں جو جھکنے سے انکاری ہے۔
ہم کہتے ہیں ہم کسی خوف و حرص کے بت کی پوجا نہیں کریں گے۔ وہ کہتے ہیں ہم اطاعت کے علاوہ کوئ اور بولی بولنے والی زبانیں کھینچ لیں گے۔
طاقت کے نشے میں دھت ابرہہ کے ہاتھیوں کے مدمقابل آج بھی وحدہ لا شریک لہُ کا کلمہ ہے۔ اور وہ ذاتِ واحد معمولی پرندوں کے ذریعے لشکر غارت کرنے پر قادر ہے۔
آج عمران خان جیل میں اسی یقین کی رسی تھامے بیٹھا جسکی بنیاد پر عبدالمطلب نے مکہ کی پہاڑیوں کا رخ کیا تھا۔ عبدالمطلب جانتا تھا اسکا اللہ ہر دنیاوی خدا سے طاقتور ہے اور اسکا ایمان تھا کہ اللہ اس ظالم کے سامنے اسکے اعتقاد اور اسکی بے بسی دونوں کی لاج رکھے گا۔ عمران خان بھی جانتا ہے کہ عبدالمطلب کا رب سچا ہے۔
آج پاکستان کی تقدیر پاکستانی قوم کے اس فیصلے سے منسوب ہے کہ وہ ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلی گئ گھاس بنتے ہیں یا وہ پرندے کہ جنکی چونچوں میں پکڑے کنکریوں نے اللہ کے حکم سے ابرہہ کا غرور تاراج کیا تھا۔ عمران خان کی تقدیر بہرحال قوم کے اس فیصلے سے آزاد ہے۔
خان صاحب
آپ کو اتنا مقبول نہیں ہونا چاہیے تھا کہ الیکشن کچھ کیلئے موت کا پیغام بن جاۓ
جن کو اپنی نوکری سے اتنا پیار نہیں، جتناخوف آپ کے آنے سے نوکری کے جانے کا ہے
آپ نے سانپوں، مگرمچھوں،لگڑ بگڑوں، بچھوؤں،لومڑیوں،آوارہ کتوں اور گینڈوں سب کو ایک ساتھ دشمن بنا لیا ہے
لیکن شاید قدرت نے اس ملک کی سُن لی جو آپ جیسا ضدی اور چٹان کی طرح مضبوط شخص پاکستان کو عطا کر دیا
مجھے تو یہ قدرت کا کھیل لگتا ہے کہ آپ کو چنا گیا ہے،اس زمین سے ظلم ختم کرنے کیلئے،قوم کو ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ یہ موقع پھر نہیں آۓ گا
منقول⬇️
کہنے والے کہتے ہیں کہ جرنیلوں کی اگلی چوائس بلاول ہے
یوں تو حکومت بظاہر نون لیگ کو دی گئی ہے۔ پر شہباز شریف ہو نواز شریف ہو، مفتاح ہو یا ڈار، سب بلاتفریق گالیاں کھا رہے ہیں
جبکہ کہ بلاول مزے سے وزیرخارجہ لگا ٹھنڈے ٹھنڈے دوروں میں مصروف رہتا ہے یا صرف زبانی کلامی بیانات سے کام چلا رہا ہے
اس کے لئے سوچی سمجھی امیج بلڈنگ کی جا رہی ہے جس میں لفافہ صحافی سمیت سوشل میڈیا پر موجود احمقوں کی ایک بڑی اکثریت شامل ہیں
قصہ کچھ یوں ہے کہ آصف زرداری جرنیلوں کے لیے بروکری کرتا ہے۔ یہ حقیقتاً اسٹیبلشمنٹ کا بروکر ہے
بروکر انگریزی زبان کا لفظ ہے جو بالکل مزے دار نہیں
بروکر کا اردو ترجمہ بہترین ہے جو "ب" سے آتا ہے
زرداری پر یہی لفظ بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔
جرنیلوں کے اشاروں پر اسمبلی ممبران خریدنے ہوں، سینیٹ کے لیے گھوڑے خریدنے ہوں، سندھ ہاؤس کے لیے بکرے گھیرنے ہوں یا صوبائی حکومت الٹانی ہو، یہ ساری ڈیوٹی زرداری ہی انجام دیتا نظر آتا ہے
زرداری کی انہی خدمات کے عوض بلاول کو حکمرانی کے لئے تیار کیا جارہا ہے اور اس کی پلینڈ امیج بلڈنگ کی جا رہی ہے
اب آپ جرنیلوں کا طریقہ واردات ملاحظہ فرمائیے:
بلاول سے بھارت کے خلاف ایک گرما گرم بیان دلوایا گیا ہے جو ہاتھوں ہاتھ بک رہا ہے۔
جرنیل یہ سمجھ گئے ہیں کہ کشمیر اور اسرائیل کے نام پر کیسے سیاسی چورن بیچ کر احمقوں کو گھیرنا ہے
غلط مت سمجھیے گا،
کشمیر اور اسرائیل پر جو موقف ہے وہ میرے بھی دل سے بہت قریب ہے پر اگر بنیادیں ٹھیک ہوں، تو۔۔۔۔۔۔۔
اب بلاول کے زریعے کس طرح جرنیلی گیم کھیلا گیا ہے؟
کس طرح ہماری اسٹیبلشمنٹ مائنڈ گیمز کھیلتی ہے؟
پاکستان نے پہلے روس کے ساتھ ڈسکاؤنٹ پر تیل خریدنے کے لیے مذاکرات کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی اٹھانی پڑی
اس لیے خاموشی کے ساتھ اس خبر کو دبا دیا گیا
اس کے فوراً بعد بلاول نے امریکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان روس سے تیل نہیں خرید رہا
(یہ روس تھا جس نے آپ کو ڈسکاؤنٹ پر تیل فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی)
یہ کہہ کر امریکہ کو رام کیا گیا۔۔۔۔۔
اس کے بعد بلاول نے بھارت اور مودی کے خلاف بیان داغ ڈالا
اس بیان کی دھول میں روس سے تیل کا معاملہ اور امریکہ میں جا کر چاپلوسی پر مبنی بیانات دب گئے
بلاول کے اس بیان کی پروموشن کے لیے ایک بھرپور کوآرڈینیٹڈ مہم چلائی گئی جس میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد اس بیان کو لے کر ڈھول پیٹتی نظر آرہی ہے
اس مہم سے متاثر ہو کر سوشل میڈیا پر موجود احمقوں کی ایک بڑی تعداد نے بلاول کے حق میں پوسٹیں کرنا شروع کردیں
یہی جرنیلی پلان تھا جو لفافہ صحافیوں اور سوشل میڈیا پر موجود احمقوں کی بھرپور سپورٹ کے طفیل کامیابی سے execute کیا گیا
کشمیر اور اسرائیل کا چورن بیچ کر حماقت کی حد تک جذباتی قوم کو اسی طرح چونا لگایا جاتا رہا ہے
اب بلاول سے کوئی نہیں پوچھے گا کہ سندھ میں آپ کی حکومت:
1- کراچی حیدرآباد میں کیوں کر بلدیاتی انتخابات ٹالے جارہی ہے؟
2- اتنے ماہ گزرنے کے باوجود سیلابی پانی کی اب تک نکاسی کیوں نہیں ہو سکی؟
3- کراچی میں ��من و امان کی انتہائی حد تک بگڑی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟
سندھ میں موجود انتہائی درجے کی کرپشن اور بدترین بدانتظامی ایک طرف۔۔۔۔۔
ان اہم ترین عوامی مسائل کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے اور کشمیر اسرائیل پر منہ زبانی بیان دلوا کر ڈھول پیٹے جاتے ہیں
ذرا اس ماں کا تصور کیجئے جن کے نوجوان بیٹے معمولی وارداتوں میں قتل کئے جا رہے ہیں۔ اس ماں کو جاکر یہ کشمیر اسرائیل والے بیانات دکھائیے۔ وہ تڑپتی ہوئی ماں آپ کا گلا دبادے گی کیونکہ اس کی قیمتی اولاد صوبے میں موجود بدانتظامی اور کرپشن کا شکار ہوگئی
سندھ میں دربدر ہوئے سیلاب متاثرین ان بیانات کو لالی پاپ بنا کر چوسیں؟
پیپلز پارٹی کی یہ سندھ میں مسلسل تیسری حکومت ہے
بلاول صرف وزیرخارجہ نہیں، سندھ حکومت کو چلانے والی سیاسی پارٹی کا چیئرمین بھی ہے
وزیر خارجہ بننے تو اسے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں جبکہ چیئرمین بنے ہوئے اسے کئی سال ہو چکے ہیں
سلام ہے لفافہ صحافیوں اور فیس بک پر موجود احمق لکھاریوں کو، جنھیں وزیر خارجہ تو نظر آ رہا ہے ہے پر پیپلز پارٹی کا چیئرم��ن بالکل نظر نہیں آرہا۔۔۔۔۔
یہی تو جرنیلی پلان ہے!
.
اب آپ آپریشن سائیکلون کی تفصیلات دوبارہ پڑھیں۔
کمال بات ہے جو عدیل امجد چار ہزار گاڑیوں کے سکینڈل میں گرفتار ہوا جو خود ضمانت پر ہے اُس نے زمان پارک میں شوکت خانم کے نام کا نوٹس بھیجا ہے بھئ واہ https://t.co/JZTq0HnN1V
ارشد شریف شہید کتنا بڑا صحافی تھا صرف اس ھفتے میں ان کی دو اسٹوریز نے پاکستانی صحافت میں ہلچل مچادی ہے
پہلے شریف خاندان کی bmw چوری اور اب مفتی سعید دہشت گرد کی اصلیت 8 سال پہلے بتا دی تھی
https://t.co/10jsUWwYMZ