اب کیا میانوالی کو بھی پاکستان سے آزاد ہونے کا مطالبہ کرنا ہو گا؟
عوام دشمن جرنیل، عمران خان سے دشمنی اور نفرت میں اس قدر پاگل ہو چکے ہیں کہ مریم نواز کے ذریعے ضلع میانوالی کی عوام سے DHQ ہسپتال تک چھین لیا اور مریضوں کو سڑک پہ لا پھینکا ھے
These prisoners are not behind bars for committing crimes. Their only "crime" is standing firmly with truth, justice, and the voice of the people. Freedom for all political prisoners. #ReleasePoliticalPrisoners#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے
@NaziaKa81229091@TeamiPians یہ تو ہے چاروں غدار بکاو بے غیرت
لیکن سوال یہ یے میری بہن کیا یہ صرف پختون ہی کر رہے ہیں۔
پنجابی۔ سندھی اور دوسرے کسی بندے سے کوئی نہی پوچھ رہا ہے۔ وجہ کیا ہے ایسا۔
کیونکہ یہ پختون ہے اسلئے
حالانکہ جتنی غداری پنجاب سے ہوئی کہیں سے نہی ہوئی۔
کل رات تربت سے بی وائی سی کی کارکن سید بی بی بلوچ کی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتاری اور آج گلزار دوست سمیت متعدد مظاہرین کی گرفتاری ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں پرامن احتجاج اور بنیادی جمہوری حقوق کس حد تک پابندیوں ا��ر ریاستی دباؤ کا شکار ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ کے غیرمنصفانہ ٹرائل اور عمر قید کی سزا کے خلاف آج تربت میں ہونے والے پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے کارکنوں کی گرفتاری اور آج تربت میں کرفیو اور کسی قسم کی حرکت پر پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام پرامن سیاسی آوازوں اور عوامی احتجاج سے کس قدرخوفزدہ ہیں۔
اگر ایک پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے گرفتاریاں کرنا پڑیں تو یہ طاقت نہیں بلکہ خوف اور بوکھلاہٹ کی علامت ہے۔
سیاسی کارکنوں کو خاموش کرانے کے لیے ہراسانی، گرفتاریاں گھروں پر چھاپے اور دباؤ کے دیگر ہتھکنڈے استعمال کیے جا سکتے ہیں لیکن کسی نظریے مطالبے یا عوامی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا، لیکن یہ بات بندوق اور طاقت کے زور پہ بات کرنے والے کبھی بھی نہیں سمجھیں گے۔
#بلوچستان میں ریاست کی ان چشم کشا وارداتوں کورپورٹ کرنے کیلئے اسٹریم میڈیا مکمل طور پرچپ ہے جبکہ تمام صحافی غائب ہیں سوشل میڈیا واحد ذریعہ تھا مگرانٹر نیٹ ہی بند کر دیا گیا
#BalochFightForHumanRights#StopBalochGenocide
جب موت اتی ہے تو طاقتور سے طاقتور اور بڑے سے بڑا بھی سر تسلیم خم کر دیتا ہے ۔
خلاصی کسی کی بھی نہی ہے۔ یہ یاد رکھو کہ کل اللہ کے سامنے یش ہونا ہے اور رب العالمین کو جواب دینا ہے۔ تو کیا جواب دیں گے۔
ایمان خالص اور کتاب اللہ و سنت رسول پر عمل فرض ہے۔ خلاصی بھی اسی سے ہے۔
سمی دین بلوچ اور اُن کے خاندان کو ہراساں کرنا، اُن کے گھر پر چھاپہ مارنا، توڑ پھوڑ کرنا اور لوٹ مار کرنا اجتماعی سزا کی بدترین مثال ہے۔
ریاست پُرامن آوازوں کو دبانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کو پاؤں تلے روند رہی ہے۔
#StopHarassingSammiDeen