شہباز شریف سے بڑا ڈرامہ باز بھی کوئی نہی ہو گا چیک کریں کیسے انقلابی نظمیں سنا کر ڈرامے کرتا تھا کہ میں نہی مانتا میں نہی مانتا
جبکہ اس وقت پورا بچہ جمہورا بنا ہوا الیٹ کی ہر بات مان رہا اور غریب کی دفعہ کہہ دیتا
میں نہی مانتا
میں نہی مانتا
حالیہ جنگ میں پاکستان کے کسی پڑوسی ملک نے تیل کی قیمت میں اضافہ نہی کیا ہے یہ شہباز شریف کی تجربہ کار حکومت اس خطہ کی واحد حکومت جس نے روزانہ کی بنیاد پر اپنی عوام پر مہنگائی کی بمباری شروع کی ہوئی ہے
پاکستان عالمی سطح پر بہت ٹاپ پر جا رہا تھا پاکستان بارے مثبت خبریں تھیں ایسے میں دو یورپی خواتین کے گینگ ریپ جس میں حکمران خاندان کے قریبی بندے کا نام نے انڈیا کو بہت بڑا چانس دے دیا ہے نون لیگ جتنا مرضی down play کرے یہ معاملہ عالمی میڈیا ، سفید فارم نسل پرست ، اور دیگر پاکستان کے خلاف استعمال کریں گے انڈیا نے اس کو اچھالنا شروع کر دیا ہے
شاید سہارا دینے والوں کو اس بات پر شدید غصہ اسی وجہ سے ہے
لاہور میں دل خراش واقعہ میں 14 جان بحق ہونے والے بچوں کے والدین نے CM پنجاب سے کہا کے جب بچوں کو سول ہاسپٹل لایا گیا تب تک ان کی سانسیں چل رہی تھیں۔پر ہاسپٹل میں کوئی بھی سہولت موجود نہیں تھی۔
اتنے بڑے شہر میں فوری طبی امداد کی سہولت موجود نہیں، سارا پیسہ کیا صرف لاہور کی چند سڑکوں پر خرچ کیا جاتا ہے؟
تماشا بنا کر رکھ دیا ہے اس ملک کو پورے ملک کو برباد کر دیا ہے ۔ ہر جگہ لوٹ مار ہے ۔
اس خاتون کی دن بارہ بجے ٹکٹ تھی ائیر بلیو کی جب یہ ائیرپورٹ پر پہنچی تو کہا گیا ٹکٹ کینسل ہو گی ہے ۔
اس نے بحث کی تو اگے سے ائیر بلیو والی لڑکی کہتی ہے اب تم نے ویڈیو بنای ہے میری ۔ مجھے تم ائیر بلیو سے اسلام اباد جا کر دیکھاو ۔
لڑکی کی ہمت کو سلام ہے جو دن بارہ بجے سے رات کے اٹھ بجے تک اپنے حق کیلے اواز اٹھاتی رہی ۔۔
یہ رعونت تکبر سرکاری اداروں میں تو پہلے سے ہی تھا اب یہ ادھر بھی اگئی ہے ۔ کیونکہ انکو پتہ ہے یہ عوام کیڑے مکوڑے ہیں ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتے ۔۔
زیادہ سے زیادہ عدالت میں چلیں جائیں گے اور عدالتیں ایسے کیسز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہیں ۔۔
اس وقت ملک میں ان لوگوں کا راج ہے ۔
اندازہ لگائیں زین قریشی کے والد صاحب گزشتہ 3 سال سے جیل میں ہے، لیڈر عمران خان صاحب بھی گزشتہ تین سال سے بےگناہ پابند سلاسل ہے۔ دوسری طرف، یہ مسلم لیگ ن کی خواتین کے ساتھ نتھیا گلی میں سیر و تفریح میں مصروف ہے۔ عوام خود فیصلہ کریں کہ ان کی ترجیحات کیا ہے؟ ان کو کسی کا احساس نہیں۔
فیصل کامران کی سخت ڈیوٹی ہے
پریس کانفرنس کے آغاز میں اس نے جھوٹ بولا ہے کہ کارلوس نامی شخص نے ہمیں کال کی کہ لڑکیاں اغوا ہو گئی ہیں
جبکہ حقیقت وہ ہے جو کل یاسر شامی نے دیکھائی تھی کال تو ۱۵ پر کی ہی اس متاثرہ فیملی نے تھی جن کی گاڑی کو رضا ڈار اور ساتھیوں نے ایکسیڈنٹ کیا تھا
غیر ملکی خواتین سے زیادتی کا کھرا نہ صرف اسحاق ڈار تک جاتا ہے بلکہ اس کا کھرا مریم صفدر تک بھی جاتا ہے مریم صفدر اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہی ہیں وہ پولیس کے ذریعے شہادتیں اور شواہد مٹا رہی ہیں ڈی آئی جی فیصل کامران اس مقدمے کا ملزم ہے اس مقدمے کے شواہد مٹانے میں ان کا کلیدی کردار ہے ! عمران شفقت ۔۔
DIG فیصل کامران نے شریف خاندان کی سہولت کاری کے لیے جھوٹی کہانی گھڑی ایسی کہانی جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، پھر وہی جھوٹی کہانی BBCکو سنائی اس میں افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ ریپ کا معاملہ تھا
سوچیں ایسے بددیانت آفیسر کیسے اشرافیہ کے پالتو کے طور پر کام کرتے ہیں اور نہ جانے کتنے خاندان، کتنی زندگیاں ایسے درندہ صفتوں نے برباد کیں ہیں
یہ لوگ معاشرے کا وہ ناسور ہیں جنہوں نے معاشرے کی بنیادوں میں زہر گھول دیا ہے اور ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے اشرافیہ کی غلامی شرط ہے