کراچی کو لسانی فساد میں جھلسانے کے بعد مصطفیٰ کمال کو وفاقی وزیرِ صحت بناکر پورے ملک پر مسلط کیا گیا اور نتیجہ سانحہ PIMs میں معصوم بچوں کا زندہ جل جانا‼️
اس دل دہلا دینے والے سانحےکے ذمہ دار صرف یہ وزیر نہیں، بلکہ وہ قوتیں ہیں جو ایسے مسترد شدہ کرداروں کوملک پر مسلط کرتی ہیں🛑
ہمیں ہمہ وقت اپنے بابا جانم کے مشن کو ہمیشہ اپنے دل و دماغ میں رکھنا چاہیے۔ ہمیں کسی کی بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ کون کیا کہہ رہا ہے یا کیا کر رہا ہے۔
”جو کوئی ہماری تحریک کے بارے میں بات کرتا ہے۔۔۔
👇 کومنٹ
کیا وجہ ہے کہ یہ نام کرتے ہی اکاؤنٹ اڑ جاتا ہے بہت دن سے دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔؟ کوئی اور نام ہو تو ایسے نہیں جاتا۔۔۔؟۔۔۔۔خیر ابھی تو نام چینج بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔؟
کسی کو معلوم ہے کچھ۔۔۔۔🙂
امید کرتی ہوں اب یہ بھی نہیں بچے گا۔۔۔۔نام۔۔۔🙂
راجـپوتRajpoot۔۔۔😀
مرید کے میں ہمارے 1500 سے زائد بچے شہید ہوئے،6000 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں،ہمارے قائدین کو جبری گمشدہ کیا ہوا ہے اصل خوف تحریک لبیک ❤️🥀❤️سے ہے
ابھی ہم نکلے نہیں‼️
ان کو ٹوپیوں، جھنڈوں، نعروں سے ڈر ہوگیا ہے۔۔۔
مفتی وزیر احمد رضوی صاحب
مجھے یقین ہے کہ جب ہمارے امیرِ محترم آئیں گے تو ہم سب کے لئے صبح کا پیغام لائیں گے
صرف ہم سب کے لیے نہیں
وہ صبح امت مسلمہ کی تمام بیٹیوں اور بیٹوں کے لئے مسرّت ہوگی
انشاء اللّٰه عزوجل
تمہاری اتنی جرات کے تم چند ٹکوں کی خاطر اور بیرونی آقاؤں کی چاپلوسی کے لئے ہماری شہ رگ پر وار کرو۔بےغیرتو لعنتیوں گٹر کی پیداواروں کچھ شرم کرو۔اس قانون پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔
#295C_is_our_Red_Zone_in_all_over_the_world
مجھے یقین ہے کہ جب ہمارے امیرِ محترم آئیں گے تو ہم سب کے لئے صبح کا پیغام لائیں گے
صرف ہم سب کے لیے نہیں
وہ صبح امت مسلمہ کی تمام بیٹیوں اور بیٹوں کے لئے مسرّت ہوگی
انشاء اللّٰه عزوجل
حساس کیس پر بار بار ججز کی تبدیلی اور چھٹیوں کا عذر پیش کر کے سماعت اکتوبر تک لٹکانا انصاف کو دھچکا ہے۔ جج چھٹی پر جائے مگر فیصلہ تو سنا کر جائے کہ ریاست رضوی برادران کی جبری گمشدگی اور تشویش کا جواب کیوں نہیں دے رہی یا پھر جج صاحب بھی حکومت اور اداروں کی مرضی سے حکم سناتے ہیں
اگر اداروں اور حکمرانوں کی تذلیل پر پرچے اور گرفتاری ہو سکتی ہے، تو ناموسِ رسالت ؐ پر بات کرنے والوں کو تحفظ کیوں نہیں؟ ناموسِ مصطفیٰ ؐ سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی طاقت یا کرسی نہیں ہے۔ 295C کے خلاف بولنے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
لاہور ہائی کورٹ میں ٹی ایل پی قائدین کی جبری گمشدگی سے متعلق کیس میں سماعت چھٹیوں اور عدم دستیابی کے عذر کی بنیاد پر 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی۔ وکلاء کی طرف سے زندگی کو لاحق خطرات اور 318 دن سے گمشدگی کا مؤقف پیش کیے جانے کے باوجود عدالت نے اگلی تاریخ تقریباً 49 دن بعد مقرر کی ہے
لاہور ہائی کورٹ میں ٹی ایل پی قائدین کی جبری گمشدگی سے متعلق کیس میں سماعت چھٹیوں اور عدم دستیابی کے عذر کی بنیاد پر 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی۔ وکلاء کی طرف سے زندگی کو لاحق خطرات اور 318 دن سے گمشدگی کا مؤقف پیش کیے جانے کے باوجود عدالت نے اگلی تاریخ تقریباً 49 دن بعد مقرر کی ہے،
لاہور ہائی کورٹ میں جبری گمشدگی کے کیس کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
وکلا نے بتایا کہ دونوں قائدین 318 دن سے لاپتا ہیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
عدالت سے فوری کارروائی کی اپیل کے باوجود سماعت آگے بڑھا دی گئی۔
15 اکتوبر تک گمشدگی کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہوگا۔