استغفراللہ، کراچی پاکستان، عباسی شہید ہسپتال میں جو لاوارث لاشیں ہیں، ان کے اعضا نکال کر چوری ہونے لگے، اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اللہ اس ملکِ پاکستان پر اپنا رحم فرمائے۔
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
❤️بیٹی🥰 یہ لفظ ہی دل کو نرم کر دیتا ہے۔ ایک باپ کےلیےبیٹی صرف اولاد نہیں ہوتی،وہ اس کی مسکراہٹ،اس کی کمزوری، اس کی طاقت اور اس کی دنیا ہوتی ہے۔میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ کاش میری بیٹی ہمیشہ گڑیا ہی رہےکبھی بڑی نہ ہو،کبھی وقت اس کےقدم نہ پکڑے،اور وہ ہمیشہ میری گود میں
@AkramRaee
👇
اٹھتا ہے کہ وہ دن جب میری بیٹی مجھ سے جدا ہوگی، وہ لمحہ میرے لیے موت کے جیسے ہوگا۔ مگر پھر خود کو سمجھاتا ہوں کہ بیٹیاں کبھی جدا نہیں ہوتیں، وہ بس گھر بدلتی ہیں۔ ان کی محبت،ان کی یادیں،ان کی خوشبو ہمیشہ باپ کےدل میں زندہ رہتی ہے۔
بیٹی واقعی اللّه ربّ العزت کی وہ نعمت ہے
👇
@IG_Zahra@noshigilani دینےسےپہلے خود آئینہ دیکھے۔کیونکہ دنیا اب صرف دعووں پر یقین نہیں کرتی،بلکہ عملی حقیقت کو دیکھتی ہے۔اور جب حقیقت یہ ہو کہ طاقت کا دعویدار خود غیر محفوظ ہو، تو پھر اس کی ساری برتری محض ایک طنز بن کر رہ جاتی ہے۔
یہ واقعہ ایک واضح پیغام ہےکہ طاقت کا شور مچانا آسان ہے،
@TZM_Zamzama
👇
@IG_Zahra سمجھتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو اپنے ہی لیڈروں کو محفوظ نہ رکھ سکے، وہ دوسروں کو کیا تحفظ دے گا؟یہ وہی ملک ہےجو دوسروں کےاندرونی معاملات میں مداخلت کو "امن مشن" کا نام دیتا ہے،مگر اپنےگھر کی دیواریں ہی کمزور پڑ چکی ہیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہےکہ امریکا دوسروں کو سبق
@noshigilani
👇
ہوتے ہیں، اور جیسے ہی گولی چلتی ہے، اچانک سب جاگ جاتے ہیں۔کیا یہی وہ ہائی "الرٹ سسٹم" ہے جس کا ڈھنڈورا پوری دنیا میں پیٹا جاتا ہے؟ اگر یہی معیار ہےتو پھر دنیا کےدیگر ممالک کو نصیحتیں دینا کچھ زیادہ ہی مضحکہ خیز لگتا ہے۔
امریکا خود کو امن کا علمبردار اور دنیا کا محافظ
@IG_Zahra
👇
اسلحہ پہنچ جانا اور کسی کو خبر نہ ہونا، یہ کوئی معمولی بات نہیں۔سوال یہ ہےکہ کیا واقعی امریکا اتنا مضبوط ہے جتنا وہ خود کو ظاہر کرتا ہے، یا یہ سب صرف ایک خوبصورت فریب ہے؟
مزید حیرت اس بات پر ہوتی ہےکہ جب تک حملہ ہو نہیں جاتا،تب تک سیکیورٹی ادارےجیسےگہری نیند میں
@MariaBalochPK
👇
زندہ مثال بنتا جا رہا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ جان ایف کینڈی کے قتل سے لے کر حالیہ ٹرمپ پر حملے تک۔یہ وہ ملک ہے جہاں طاقت کے ایوان بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
کل کے واقعے نے تو جیسے پردہ ہی چاک کر دیا۔جس وائٹ ہاؤس کو دنیا کی سب سےمحفوظ عمارت سمجھا جاتا ہے،وہاں تک
@AkramRaee
👇
کل بہت ہی عجیب منظر دیکھنے کو ملا ، یہ امریکا کیسا عالمی محافظ خود کو سمجھ رہا ہے جو اپنے ہی دروازے کی کنڈی ٹھیک سے بند نہیں کر سکتا، اور دنیا بھر میں سیکیورٹی، امن اور استحکام کے لیکچر دینے والا بڑا بنا پھیرتا ہے۔ لیکن کل کےواقعہ سےامریکا خود اپنی کمزوریوں کی
@realDonaldTrump
👇
ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایک واضح پیغام ہےکہ ایران کے ساتھ مذاکرات سےاجتناب کیا جائے،نہیں تو ایران کے میزائل سےمرو گے یا نہیں مگر امریکا میں ہی سیکورٹی کے حصار میں بھی نہیں بچ سکو گے۔
یہ حملہ اسرائیل نے ایپسٹین فائل سے ٹرمپ پریشر بنانے میں ناکامی کے بعد کیا۔
👇
اکثر میری عمر کا پوچھا جاتا اور جب میں انہیں بتاتی 50+ تو کوئی ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ کہ جتنی
آپ میں شرارت، بے ساختگی، چنچل پن ہے وہ اس عمر میں ہوتا نہیں۔
میں سمجھتی ہوں کہ ہر انسان کے اندر ایک فرشتہ(ہمارا ضمیر) ایک شیطان (ہمارا نفس) اور ایک بچہ (ہماری فطرت) موجود ہوتا ہے۔ اب آپ ان تینوں میں سے جس کی خوراک اور صحت کا خیال رکھیں گے وہی خوب پلا پوسا ہوا اور صحت مند ہو گا۔
تو جہاں میں نے یہ کوشش کی ضمیر کے سامنے شرمندہ نہ ہوں ، نفس کو اپنے اوپر غالب نہ انے دوں وہیں یہ کوشش بھی کی کہ اپنے اندر کے بچے کو مرنے نہ دوں۔
اس بچے کے بہت سارے خواب تھے، یہ دنیا گھومنا چاہتا تھا، سردیوں کی ٹھنڈی راتوں میں دودھ جلیبیاں کھانا چاہتا تھا، اچانک بجلی بند ہونے پر اپنے بچوں کا" تراہ،، نکال کر ان کے ساتھ ہنسنا چاہتا تھا، بیٹیوں کے ساتھ مل کر گڑیا کی شادی رچانا چاہتا تھا،
تو میں نے اس بچے کو آج تک اپنے اندر زندہ رکھا ہوا ہے۔
یقین کریں جو اس بچے کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہوگیا اس نے گویا زندگی جینے کا ہنر پالیا۔ کیوں کہ یہ بچہ ہی ہے جس کی مان کر آپ لوگوں سے نیکیاں کر کے بھول جاتے ہیں۔ کبھی لوگوں کی زیادتیوں پر انہیں نہ صرف معاف کردیتے ہیں بلکہ اپنے دل میں کسی کے لیے بغض بھی نہیں رکھتے اور سب سے اچھی بات کہ یہ بچہ کبھی اللہ سے لاڈیاں کرتا ہے، کبھی کسی بات منوانے پر آتا ہے تو رو، رو کر اللہ سے منوا کر ہی اٹھتا ہے۔
دیکھیں..! اپنے اندر کے ضمیر کو، اپنے اندر کے معصوم بچے کو اور اس کے مثبت خوابوں کو کبھی مرنے نہ دیں، یہی خواب ہوتے ہیں جو انسان سے ناممکن کام کروا لیتے ہیں۔ اور یہی بچہ تھا اور اس کے خواب تھے جنہوں نے
مجھے کہا کہ جو کچھ زندگی نے سبق پڑھائے انہیں بیان کرو۔
منتخب
میری یہ بات شاید آپکو عجیب لگے، کہ میں کبھی لوٹنے والے پر غصہ نہیں کرتا، بلکہ لوٹ جانے والے پر افسوس ضرور کرتا ہوں۔کیونکہ لوٹنےوالا تو اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتا ہے،وہ وہی کرے گا جو اس کی تربیت،سوچ اور کردار اسےسکھاتے ہیں۔لیکن جو شخص لوٹ جاتا ہے، وہ اکثر
@AkramRaee@IG_Zahra
👇
ہوتا ہے، کیونکہ وہ وقتی فائدے کے بدلے اپنی اصل کھو بیٹھتا ہے۔ لیکن جو لوٹ جاتا ہے،اس کے پاس ایک موقع ہوتا ہے سیکھنے کا، سنبھلنے کا، اور آئندہ کے لیے خود کو مضبوط بنانے کا۔
افسوس اس بات پر ہوتا ہےکہ ہم اکثر بغیر سوچےسمجھےہر کسی پر اعتماد کر لیتےہیں، ہر مسکراہٹ کو
@MariaBalochPK
👇
@MH242518@ammarmasood3@iemziishan بعض لوگوں کی پیدائش پر والدین نے کتنے بڑے خواب دیکھے ہوں گے کہ بڑا ہو کر یہ بنے گا وہ بنے گا مگر جب بڑا ہو کر پٹواری بنتے دیکھا ہوگا سوچتے ہوں گے کہ کسی گندگی والے ڈبے میں ہی چھوڑ کر آجاتے بہتر ہوتا 😢