Learn to stay away from arguments and other people’s drama. They sap your energy and rob your peace of mind. It takes a mature person to not get into an argument. Stay in your lane and watch from the sidelines if you must but don’t get involved. Maintain your calmness. Copied
Aleema Khan
Noreen Khan
Uzma khan
Qasim Khan
Hassan Khan
Four weeks of enforced disappearance. Four weeks of silence from justice.
Aleema Khan was detained under 3 MPO, and her sisters were arrested later that same night after they broke into Sohail Khan’s house.
Our family and lawyers have reportedly been denied access, while court petitions appear to be going unheard.
Tuesday two weeks ago our cousin Qasim Zaman was also abducted by government agencies under 3MPO.
Where are Pakistan’s courts?
Have they forgotten their constitutional duty?
Courts must WAKE UP,
hear these petitions,
uphold the rule of law,
and deliver justice.
No government is above the Constitution. No citizen is beyond the protection of the law.
Silence is not justice.
Delay is not justice. Pakistan’s judiciary must act NOW before it’s too late!
#JusticeForAleemaKhan
#RuleOfLaw #Pakistan
#justiceForNoreenKhan
#JusticeForQasimZaman
#JusticeForQasimZaman
بریکنگ نیوز🚨
برطانوی صحافی یلدا حکیم نے عمران خان پر قیدِ تنہائی میں ہونے والے مظالم پر پورے دنیا کے سامنے آواز اٹھا دی۔
خان پر ہونے والے مظالم پاکستانی اسٹبلیشمنٹ کروا رہی ہے۔یہ اب انٹرنیشنل مسئلہ بن چکا ہے
قومیں صرف اس وقت غریب نہیں ہوتیں جب ان کے خزانے خالی ہوں، بلکہ اس وقت بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جب ان کے باصلاحیت لوگ اپنا مستقبل کہیں اور تلاش کرنے لگیں۔
آئی ایم ایف کی تحقیق کے مطابق مشرقی یورپ سے نوجوانوں اور ہنرمندوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت نے معاشی ترقی کو سست کیا اور پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔
پاکستان کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ بیرونِ ملک جانے والے کتنے ڈالر بھیجیں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ ملک سے کتنی صلاحیت، جدت، قیادت اور مستقبل کی ترقی کے امکانات رخصت ہو رہے ہیں۔
ترسیلاتِ زر سے زرِمبادلہ تو واپس آ سکتا ہے، مگر قوم کا کھویا ہوا اعتماد واپس لانے کے لیے انصاف، میرٹ اور امید بحال کرنا پڑتی ہے۔/3
چالیس ارب کی فائر وال لگا دی۔ دو سو صحافی باندر بنادیے۔ نیوز چینلز کو سرکس بنا دیا اور اخے فرق نہیں پڑتا۔ اربوں کے اشتہارات چلا دیے۔ درجنوں نئے چینل چلا دیے، ہزاروں لوگ بھرتی کرلیے ، فوج کے کپتانوں اور میجروں کو عائشہ سنبل اور پاپا کی پری بنا دیا اخے فرق نہیں پڑتا۔ پوری کور جتنی فوج آئی ایس پی آر میں بٹھا دی اور کہتے ہیں فرق نہیں پڑتا۔ رجیم چینج کے بعد پہلا چھاپا سوشل میڈیا ورکرز کے گھروں میں مارا ، آخری بندہ ابھی بھی سوشل میڈیا کے ورکر کا بھائی اٹھایا اور کہتے ہیں فرق نہیں پڑتا۔ جن جوتوں سے تمہیں اصلی والا فرق پڑتا ہے وہ بھی ہمیں معلوم ہے۔ وقت اس کا بھی آجائے گا۔ لیکن جو فرق ابھی تمہارے سروں پر پڑ رہا ہے وہ بھی اتنا پڑے گا اتنا پڑے گا کہ پاڑ کے رکھ دے گا۔ اخے فرق نہیں پڑتا۔
چار ہمسائے ہیں۔ تین دشمن بنا لیے ہیں۔ تینوں سے تجارت بند ہے۔ چوتھے سے مہنگے قرضے لیے اب اسکے پراجیکٹس بھی ویران کردیے۔ پانچ صوبے ہیں۔ ایک میں فوج موومنٹ نہیں کرسکتی۔ دوسرے میں گورنر راج ، تیسرے میں کٹھ پتلی حکومت اور چوتھا حمایت کے بدلے ٹھگوں کو دے رکھا ہے پانچویں میں بھی عوامی نماندہ حکومت نہیں۔ ملحق ریاست میں شدید احتجاج دھرنے چل رہے ہیں۔
کچھ عرصے بعد کوئی جرنیل کہے گا یہ سارا سیاسی مسئلہ تھا۔ سیاستدانوں کی کمزوریاں تھیں۔ ملک ہی ایسا تھا۔ گرمی ہے بہت تھی۔ دور ہی بہت تھا۔
پاک فوج جس دن تسلیم کرلے گی کہ قوم کو اس سے نفرت ہوگئی ہے اس دن پاک فوج اس نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس نفرت ختم کرنے کا ایک ہی رستہ ہے جو سیدھا بیرکوں اور مورچوں کو جاتا ہے اور اس سڑک کا پہلا سٹاپ اڈیالہ ہے۔
جب تک فوج خود کو دھوکہ دیتی رہے گی ، خود سے جھوٹ بولتی رہے گی فوج کی ذلت بڑھتی چلی جائے گی۔ آج ہزاروں لاکھوں لوگ فوج پر ہنس رہے ہیں۔ جنازوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے۔ نہ فائر وال کام آئی ہے نہ چالیس نیوز چینلز کام آئے ہیں نہ آئی ایس پی آر کی اربوں روپے کی مہمات۔
یہ نفرت آسمان سے نہیں اتری ، کسی بھارتی، کسی جمائما ، کسی اوورسیز کسی یوٹیوبر کے کہنے سے نہیں آئی۔ یہ ذلت فوج نے بہت محنت سے کمائی ہے۔ فوج کے ساتھ جو ہورہا ہے اسکی ذمہ دار فوج ہے۔
Video for International Media & Observers on Pakistan’s Governor’s Rule in KP and imposing of Emergency in the province.
The mandate snatching and killing of democracy series in Pakistan continues.
ذرا سوچئے : "یہ برین ڈرین نہیں، برین گین ہے!"
یعنی ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی پروفیشنلز باہر جا کر دوسروں کی جی ڈی پی بڑھا رہے ہیں… اور ہم کہہ رہے ہیں "شکریہ، ہماری تعلیم و تربیت اور ٹریننگ کامیاب رہی!"
جو جا رہے ہیں، زیادہ تر وہ پڑھے لکھے ہیں۔
جو رہ رہے ہیں، وہ موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔
جو آگ 9 مئی کے بعد پنجاب میں لگی تھی آج اس آگ نے مکمل طور پر خیبرپختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے
پختون کلچر کی روایات کو اڑایا جا رہا ہے
گھروں کی دیواریں بغیر کچھ سوچے سمجھے پھیلانگی جا رہی ہیں
عمران خان ہمارے معاشرے کی ساخت کو سمجھ گئے تھے جب ان سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ آپ نے پارٹی میں کچھی ایسے لوگ لے لئے ہیں جن پہ سوالات اٹھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا تھا فرشتے کہاں سے لاؤں؟ ہم عام لوگ ڈر جاتے ہیں یا ہمیں خواہشات فتح کرلیتی ہیں عمران خان ایک ہی ہے!
وزرات اعلیٰ کے امیدواروں اور تمام لوگوں کو مشورہ ہے کہ عمران خان کی اجازت کے بغیر کسی بندے کو بھی وزیراعلی بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔
عمران خان کسی بھی xyz کو یا گنڈاپور کو۔ یا سہیل آفریدی کو یا جس کو بھی وزیراعلی نامزد کرے اسی کو وزیراعلی مانا جائے گا عوام اس کے علاوہ ہر چیز کو جرنیلی سازش سمجھے گی اور اس کی مخالفت کرے گی۔
میں ایسی مخالفت میں پہلی صف میں کھڑا ہوں گا۔ یہ استحقاق صرف عمران خان کا ہے۔ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی اس معاملے پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
پہلے گنڈاپور نے پھر سہیل نے جس طرح وقت ضائع کیا۔ وہ انتہائی افسوسناک اور خان سے سخت زیادتی ہوئی ہے۔ جب تک خان نے گنڈاپور کو نہیں اتارا ہم نے بد ترین حالات میں بھی اسے وزیراعلی مانا۔ کیونکہ خان کا فیصلہ تھا۔ سہیل آفریدی کے بارے بھی ورکر ، عوام یہی کرے گی۔
وزیراعلی صرف بنانے ہٹانے کا کام صرف خان کا ہے۔
جب کسی ملک کے باصلاحیت لوگ اچھی ملازمتوں کے باوجود وطن چھوڑنے لگیں تو یہ محض ذہانت کا انخلا نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل پر اعتماد کے فقدان کا اظہار ہے۔
پاکستانی صرف بہتر تنخواہوں کی تلاش میں ملک نہیں چھوڑ رہے۔ وہ عزتِ نفس، میرٹ، انصاف اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ لوگ وطن چھوڑ رہے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وطن میں رہنے کی امید چھوڑ رہے ہیں۔ قوموں کا اصل زوال تب شروع ہوتا ہے جب ان کے باصلاحیت لوگ ملک چھوڑنے سے پہلے اس کے مستقبل پر یقین چھوڑ دیتے ہیں۔ /2