ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
سردار بابر منگوال کا تعلق سہنسہ آزاد کشمیر سے ہے یہ اسلام آباد SETTLED ہیں اور ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں۔ مصطفی کمال کے سامنے 47 فارم کا مدعا اُٹھا دیا۔ آپ لوگ ناجائز اسلام آباد پر ناجائز قابض ہیں۔
🇵🇰 Pakistan Puts Journalist on Terrorism Watchlist After He Interviews Families of Children Killed by Its Army
🔹Pakistani authorities have placed journalist Danish Irshad on its Fourth Schedule, designating him a suspected terrorist and subjecting him to restrictions on his travel, his banking, and his access to financial services.
🔹Irshad tells Drop Site there is no court order behind the listing and there has been no trial. The Fourth Schedule is an administrative designation under Pakistan’s Anti-Terrorism Act (not a criminal conviction).
🔹Irshad began reporting in Islamabad in 2015 has covered Azad Jammu and Kashmir for nearly a decade, most recently interviewing families whose children were killed by Pakistan’s armed forces.
🔹His listing, issued by the Azad Jammu and Kashmir Home Department without specific allegations against him, is part of a widening crackdown that has swept journalists and activists onto the watchlist since the June ban of the Jammu & Kashmir Joint Awami Action Committee.
🔹He told Drop Site News: “Adding someone’s name to the Fourth Schedule without any court order and without any trial raises a serious question about the state’s credibility. How did a journalist’s speaking and writing become an act of terrorism? Declaring anyone guilty without trial can never be justified.”
Imran Khan has become “a symbol of democratisation in a country that has been pillaged for decades by a military junta.”
Why is Khan still behind bars – and what happens next? Read the full column from @DanielJHannan 👇
https://t.co/4JsmtgMLEO
اخری چیک اپ ہوا جولائی میں عمران خان کو صحیح طرح سے کچھ یاد بھی نہیں ہے یہ عمران خان کے ساتھ بہت ظلم کر رہے ہیں میں نے ان کو بتایا کہ میرا بلڈ پریشر اور 42 سے زیادہ میری پلز اور 120 میرا بلڈ پریشر ہوتا ہے میرا سر پھٹنے لگتا ہے تنہائی میں رکھا گیا ہے ڈاکٹر نے کہا یہ
اپ کو کچھ ایسی دوائی دے رہے ہیں اور اپ کو انزائٹی ہو چکی ہے ڈاکٹر عظمی
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ
عمران خان پر ظلم کی داستان!!!
عمران خان نے کہا میرے ساتھ ظلم کر رہے ہیں مجھے ٹارچر کر رہے ہیں، دس ماہ سے مجھے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے کوئی Human contact نہیں ہوتا، مجھے پڑھنے کا مواد فراہم نہیں کیا جاتا، جیل میں کوئی میری بات نہیں سنتا، خیال ہی نہیں کرتے، ایک ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ آپ کو جو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا وہ ذہنی دباؤ کی وجہ بنا ہے، عمران خان نے مجھے کہا کہ تم بتاؤ یہ میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں، یہ انسان نہیں ہیں جو یہ سب کر رہے ہیں، ڈاکٹر عظمیٰ خان کی پریس کانفرنس
عمران خان نے بار بار ایک ہی چیز کہی کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، مجھے ٹارچر کر رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ایک کوئی اور ڈاکٹر بھی آیا تو اس نے کہا تھا، ہیومن کانٹیکٹ نہیں ہونے کی وجہ سے ان کو ان کی طبیعت خراب ہوتی ہے۔
عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کے بعد اہم ہے ان کی قید تنہائ ختم کی جائے اور ان کو ہسپتال منتقل کیا جائے، کروڑوں لوگوں کے واحد لیڈر کو علاج کی سہولت نہ دینا اور قید تنہائ میں رکھنا انتہائ قابل مذمت ہے!! #ReleaseImranKhan
"اور یہاں مجھے اپنے ہی ادارے کی بات کرنی ہوگی، کیونکہ سب سے بڑا نقصان جرنیلوں یا افسر شاہی نے نہیں بلکہ ججوں نے پہنچایا۔ عدلیہ کا کام شہریوں کی ڈھال بننا تھا، وہ واحد ادارہ جس کا مقصد قانون کے بل بوتے پر طاقتور کے سامنے ناں کہنا تھا۔ لیکن یہ بھی انگریز دور کا ہی ایک ترکہ تھی اور اس کے خمیر میں وہی سوچ شامل تھی: انگریز راج میں اس نے عوام کی نہیں بلکہ حاکم کی خدمت کی، اور آزادی کے وقت اس نے اپنی وفاداری رخصت ہوتے ہوئے تاجِ برطانیہ سے منتقل کر کے نئے مقتدر طبقے کے سپرد کر دی، عوام کے نہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی ٹینک سڑکوں پر آئے، عدالتوں نے بار بار 'ہاں' کہا۔ انہوں نے اقتدار پر قبضے کو قانونی جواز دینے کے لیے 'نظریۂ ضرورت' تراشا؛ غاصبوں سے حلف لیے؛ اور آئین شکنی کو قانون کا روپ دیا۔ عدلیہ کے اندر رچی اس نوآبادیاتی ذہنیت نے اس ملک کو کسی بھی ایک ڈکٹیٹر سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ اس نے آئین کے محافظ کو ہی اس کی پامالی کا سہولت کار بنا دیا"- جسٹس منصور علی شاہ
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
ایک لیڈر پیدا کرنے میں صدیاں لگتی ہیں۔جبکہ ڈکٹیٹرز تھوک کے حساب سے دستیاب ہیں۔ حسین ندیم
@HNadim87#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
It is shocking to hear reports that British nationals are now becoming casualties of the seriously escalating situation in Azad Jammu and Kashmir.
This violence and bloodshed must end. All Communications must be restored. All restrictions on food and medical supplies must be lifted. Peaceful table talks must be resumed immediately.
The UK must continue to use every diplomatic lever available to push for a de-escalation, restraint and peace, with Kashmiri human rights at the heart of any resolution.
https://t.co/sbYGhfGr3d