القرآن:
بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے.
مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے.
آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی.
سورۃ المطففین (83)
آیت 22-24
اللہ کریم اپنے لاڈلے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے
عاطف بھائی (ہائیڈ)
کی کامل مغفرت فرمائے
🕋🤲
Reporting threats & cyber harassment by @Self_Made003
. This account is openly threatening the Chhauni team and demanding action against @shafqatmm1
& others, while calling them a “gang”. Screenshots attached. Evidence uploaded on FIA portal. Immediate action requested. @FIA_Agency@CyberCrimeFIA
#ReportCyberCrime
Reporting threats by @Self_Made003
:
“Don’t worry چھاؤنی will be finished inshallah. I am behind you all. You can’t escape from @FIA_Agency
...” Wrongly accusing @shafqatmm1
, @irumrae
& @Maria
. Screenshots attached. Evidence on FIA portal. Action requested. @FIA_Agency@CyberCrimeFIA
#ReportCyberCrime
یہ تحریر خالصتاً عاطف بھائی کے لیئے ہے،
ہمارا تین چار سال پرانا ساتھ تھا،
دو ڈھائی سال پہلے ایک دوست کی توسط سے معلوم ہوا کہ عاطف بھائی کے کاروباری حالات ٹھیک نہیں ہیں اور بلا کا خوددار ہے یہ مدد قبول نہیں کرے گا۔
اور اس بھائی کے کہے الفاظ سچ ثابت ہوئے۔ لاکھ کوشش پر بھی اس بندے نے کسی قسم کی مدد قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ میں جب بھی تہمید باندھتا تھا تو یہ بات ہی گھما دیا کرتا تھا۔
پچھلی عید پر فیملی کو دانستہ کچھ خاص خریداری سے منع کر دیا تھا اور وہ چیزیں بھائی کے پاس سے خریدنے کا ارادہ کیا تاکہ غیر محسوس انداز میں مدد بھی ہوجائے اور احساس بھی نہ ہو۔ میرے مرحوم بھائی نے جو قیمت مجھے بتائی وہ اسکی اپنی قیمت خرید سے بھی کم تھی، اور لاکھ اصرار کے باوجود جو پیسے بچوں کو عیدی کے لیئے دے رہا تھا وہ بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
کھلے الفاظ میں جو سامان بھائی نے مجھے 24000 کا دے دیا تھا، اسی سامان کی بولٹن مارکیٹ میں 36000 کی لاگت بنتی تھی۔
یہ تھا اسکی غیرت اور خودداری کا وہ ثبوت جو مجھے اسکا گرویدہ بناتا ہے، بھائی کہا کرتا تھا کہ یہ مشکلات بندے اور اسکے ربّ کے درمیان ایک امانت ہیں،
اور میں گواہ ہوں کہ اس نے کبھی خیانت نہیں کی۔
اللّٰہ تبارک وتعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطاء فرمائیں 🤲
آمین یا ارحم الراحمین
ہم نے سماج کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جرنیلوں اور مولویوں کے حوالے کر دیا ہے۔ ایک جہنم کا ڈر بیچتا ہے، دوسرا دشمن کا۔
دوست ہو گیا دشمن تو فوجی کھیل ختم، خ��د قرآن و حدیث پڑھ لی تو مولوی کا کھیل ختم۔
کھیل تب ختم ہوگا جب ہم خود سوچنا، سوال کرنا اور علم کی روشنی میں چلنا شروع کر دیں۔
مائدہ کی پوسٹ کو اگر حقائق جاننے کیلئے علمی سوال سمجھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ جس پر وضاحت ضروری ہے
قرآنِ کریم میں عیسی علیہ السلام کی واپسی کے متعلق سورہ نسا کی آیت میں ایک اہم اشارہ موجود ہے
وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا
"اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے، اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔" (النساء: 159)
قرآن نے یہ واضح کیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نہ مصلوب ہوئے نہ قتل، بلکہ معاملہ مشتبہ کر دیا گیا اور انہیں اٹھا لیا گیا۔ اب حقیقت یہ ہے کہ ان پر (ابھی تک تمام) یہود و نصاریٰ تو ایمان لائے نہیں، اور ان کی موت واقع ہونے کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس لیے ان کی موت اور تمام اہل کتاب کے ان پر ایمان لانے کا واقعہ ہنوز Pending ہے۔
حضرت عیسیٰؑ کے متعلق قرآن میں ہے کہ انہیں "اپنی طرف اٹھا ��یا" دو ہزار سال یا زائد کیلئے اٹھا کر ایک ہی حالت میں رکھنے کیلئے عمومی طور پر یہ ضروری ہے کہ وہ زمینی ماحول میں نہ رہیں یعنی وہ کسی اور یونی��رس یا ماحول میں شفٹ کر دیئے گئے جہاں عمر کا سلسلہ رک جاتا ہے یا بہت سست ہے۔ ایک حدیث ہے کہ: "اس وقت جو روئے زمین پر ہے وہ سو سال بعد نہیں ہوگا" (اور عبداللہ بن زبیرؓ وہ آخری شخص تھے جو سو سال بعد شہید ہوئے)۔ یہ حدیث بھی کہتی ہے عیسی علیہ السلام کو اٹھا کر جہاں رکھا گیا وہ زمین تو ہر گز نہیں
دوسری اہم بات یہ ہے کہ کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کسی نئی شریعت کا دعویٰ لے کر آئیں گے یا کوئی نئی ہدایت لائیں گے۔ وہ تو اپنے دور میں بھی یہی کہتے تھے کہ "میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہوں"۔ ان کی دوبارہ واپسی بھی یہود کے (جھوٹے) مسیحا کے خاتمے اور عیسائیوں کے عقیدہٴ الوہیت کے خاتمے کے لیے ہوگی۔ یعنی اس بار بھی ان کا ہدف بنی اسرائیل ہی ہوں گے، وہ مسلمانوں یا اسلام کو نہیں چھیڑیں گے۔ ان کی آمد سے یہودیت اور نصرانیت کا خاتمہ ہوگا اور لوگ اسلام کی طرف کنورٹ ہوں گے۔ یوں ان کا یہ کہنا برحق ثابت ہو گا کہ "میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہوں"۔ یہ کہنا کہ وہ "امتی نبی" بن کر آئیں گے، محض ذاتی تشریحات ہیں، ایسا کسی حدیث میں مذکور نہیں۔
پھر یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت رسول اللہ ﷺ سے ہونے چھ سو سال پہلے عطا ہوئی ۔ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم ہوا ۔ آپﷺ کے بعد کسی پر نبوت نہیں اتری نہ اترے گی۔ اس لئے اسے خاتم النبیین سے متصادم نہیں کہہ سکتے
قرآن میں جو ذکر ہے کہ ان کے پیروکار آخر تک منکرین پر غالب رہیں گے، تو اس سے مراد کون لوگ ہیں؟
کیا یہود ہیں؟ وہ تو انہیں نعوذ باللہ "ولد الزنا" کہتے ہیں۔
کیا عیسائی ہیں؟ وہ تو ا��ہیں "خدا کا بیٹا" قرار دیتے ہیں۔
حضرت عیسیٰؑ نے تو انجیل میں کہا تھا: "اپنے خداوند ایک ہی خدا کی عبادت کرو"۔ پس توحید پر عمل کرنے والے ہی ان کے اصل پیروکار ہیں اور وہی قیامت تک غالب رہیں گے۔
رہی یہ بات کہ صحابہ کا اس کے بارے کیا عقیدہ تھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں احادیث صحابہ کی ایک بڑی تعداد نے روایت کی ہیں جن میں حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ��ابر بن عبداللہؓ، حضرت حذیفہ بن اسیدؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت نواس بن سمعانؓ شامل ہیں۔
بخاری اور مسلم کی مشہور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور وہ وقت آئے گا جب تم میں ابن مریم ایک عادل حکمران بن کر نازل ہوں گے۔"
اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہؓ فرماتے تھے: "اگر تم چاہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو: وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ"۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے آیت "وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ" (اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہے) کی تفسیر میں صراحت فرم��ئی کہ اس سے مراد قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔
یہاں ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ عیسی علیہ السلام کے معجزات جس طرح خدائی طاقت والے تھے مردہ زندہ کرنا وغیرہ۔ اسی طرح جس۔ کے مقابل آئیں گے یعنی دجال وہ بھی خدائی طاقت والے کارنامے دکھانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔ یعنی یہود کے سرغنہ کی طاقت کے مقابل بنی اسرائیل کے نبی ہی نامزد کئے گئے جو انجیل کے کلام الٰہی کے مطابق بنی اسرائیل کو ہدایت دیں اور سیدھی راہ دکھائیں
اس کی ایک وجہ اور بھی خاص ہے کہ۔
یہود و نصاری انبیاء کی امتیں ہیں انہیں دوسرے نبی کی امت نابود نہیں کر سکتی۔ انہیں الٰہی عذاب ختم کر سکتا ہے یا اپنے نبی کی ہدایت راہ دکھا سکتی ہے