پلیجو صاحب آپ کے بڑے بھی یہی فرماتے تھے جب پنو عاقل چھاؤنی بننے جا رہی تھی کہ ہماری لاشوں پہ بنے گی،کوئی بنا کر تو دِکھاۓ ،اور جب وقت آیا تو ہوا کچھ یوں کہ چھاؤنی کی بیرکوں کے ٹھیکے لےلیئے گئے اور خاموشی ہو گئی،صوبے بنانے والوں کو سب کی اوقات کا پتہ ہے تو جناب صوبے تو بنیں گے
ملک میں نئے صوبوں کےقیام کے لئے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے۔
الطاف حسین کاہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ جس ملک میں جتنے زیادہ صوبے اورانتظامی یونٹس ہوں گے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے وہاں عوام کے مسائل کے حل میں اتنی ہی مدد ملے گی، عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے اِدھراُدھر بھاگنے کے بجائے علاقائی سطح پر ہی مسائل کرلیں گے، انہیں دوردرازشہروں میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔میں برسوں سے یہ بات کہتا رہا کہ موجودہ سسٹم نہیں چل سکتالیکن میری بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی،آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف چوہدری صاحب وہی بات کہہ رہے ہیں کہ موجودہ سسٹم تباہ ہوچکا ہے، گڈگورننس کےلئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانا چاہیے۔آج ڈی جی ISPR کہہ رہے ہیں کہ1972ء میں پاکستان کی آبادی 7کروڑ تھی، اُس وقت چار صوبےتھے،آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سےزائد ہوچکی ہے، پھر بھی چار صوبے ہیں ،لہٰذا نئے صوبے ہونے چاہئیں۔وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف کی تقریر کےجواب میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کےرہنماؤں نے اپنے بیانات اور پریس کانفرنسز میں نئے صوبوں کےقیام کو قطعی ناممکن اور out of question قراردیا ہے، پیپلزپارٹی کےبعض رہنماؤں نے تو اسے سندھ کی تقسیم قرار دیکر یہاں تک کہہ دیاہےکہ”نئے صوبے بناکر دیکھو پھرتمہیں پتہ چلے گا“۔ پیپلزپارٹی نے یہ چیلنج الطاف حسین کو نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اورمحسن نقوی صاحب کوکیاہے اوران کی طاقت کوللکارا ہے کہ اگرفوج میں ہمت ہے تو صوبے بناکر دکھائے۔اب فیلڈمارشل صاحب اورمحسن نقوی ان دھمکیوں کانوٹس لیں گےیانہیں۔اگرانہیں اس میں کوئی مشکل پیش آرہی ہوتو الطاف حسین اس مشکل کوحل کرنے کےلئے یہ دلیل دیتاہےکہ آپ تویہ کہیں گےکہ ہم تو پیپلزپارٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گڈگورننس اورملک کی ترقی کےلئےمزید صوبے بنارہے ہیں،جہاں تک سندھ کی تقسیم کی بات ہے توہم توپیپلزپارٹی کی تقلید کررہے ہیں،وہ اس طرح کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے1973ء میں سندھ میں دیہی اورشہری کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھ کی تقسیم کردی تھی۔یہ کوٹہ سسٹم دس سال کےلئےنافذ کیا گیا تھا لیکن 53سال گزر جانےکےباوجود بھی کوٹہ سسٹم نافذ ہے، دیہی شہری کی تقسیم آج بھی موجود ہے۔
اور پیپلزپارٹی دیہی شہری کوٹہ کےنام پر سندھ کی تقسیم کو جاری رکھے ہوئے ہے اور آج بھی اس کوٹہ سسٹم کوجائزقراردے رہی ہے اوریہ دلیل دیتی ہےکہ کوٹہ سسٹم سندھ کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنافذ کیا تھا، اگردیہی اورشہری کی بنیاد پر کی گئی یہ تقسیم اتنی ہی اچھی اور جائزتھی تویہ تقسیم صرف سندھ میں ہی کیوں کی گئی تھی؟ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بھی یہ تقسیم کیوں نہیں کی گئی؟ صرف سندھ میں دیہی اورشہری کی بنیادپر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنہیں بلکہ شہری علاقوں کے عوام سےتعصب کی بنیاد پر لایا گیا تھا۔
سرکاری محکموں میں ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کےلئے نافذ کیا جانے والایہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کے غریبوں کے مفاد کےلئے نہیں بلکہ سندھ میں وڈیرہ شاہی کوتقویت دینے کےلئےنافذ کیا گیا تھا، یہ سسٹم غریب سندھیوں کے بچوں کے لئے نہیں بلکہ سندھ کےوڈیروں کے بچوں کے مفاد کے لئے ہےجنہیں ان کے میرٹ کے خلاف داخلے دیے جاتے ہیں، انہیں سندھ پبلک سروس کمیشن میں مقابلوں کے امتحانات میں پاس کرایا جاتا ہےاور اعلیٰ پوسٹوں پر فائز کیا جاتا ہے جبکہ اردو بولنے والوں کو جان بوجھ کرنظرانداز کیا جاتا ہے، ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔کوٹہ سسٹم کے تحت نہ صرف اردواسپیکنگ نوجوانوں کے ساتھ حق تلفی کی جاتی ہے بلکہ اہلیت رکھنے والے غریب سندھیوں کے بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جاتی ہے۔جس کاثبوت ہے کہ گزشتہ تین روز سے کراچی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفترکے سامنے سندھی بولنے والے نوجوان احتجاجی دھرنادیے ہوئے ہیں، وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور کھل کرکہہ رہے ہیں کہ ”سندھ پبلک سروس کمیشن وڈیرہ کمیشن ہے“۔ مجھے ان سندھی نوجوانوں سے ہمدردی ہے۔وڈیروں نے سندھ کےنام پر بہت کمایا ہےجبکہ غریب سندھیوں اور ہاریوں کے پاس کھانے کےلئے روٹی تک نہیں ہے۔
فیلڈ مارشل صاحب اور محسن نقوی سے کہتا ہوں کہ اب کوئی بھی سسٹم کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ایسا سسٹم ہونا چاہیے جس میں تمام قوموں کوان کے حقوق میسر آئیں اورکسی کے ساتھ بھی کوئی حق تلفی نہ ہو۔
میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹوں کے قیام کی بات پر گالیاں اوردھمکیاں دینے والوں سے یہی کہوں گا کہ گالیاں اوردھمکیاں دینے کے بجائے شرافت کامظاہرہ کیجئے، بیٹھئے، ڈسکشن کیجئے، ڈائیلاگ کیجئے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 440 ویں فکری نشست سے خطاب
یکم اگست 2026
اپنا حق مانگنے پر بے گناہ کشمیریوں کو گولیاں مارکر شہ رگ کوکاٹ دیا گیا ہے۔ الطاف حسین
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا#RightsMovementAJK#Kashmir
پاکستان کی حکومتیں اورتمام سیاسی وعسکری حکمراں آزادکشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیتے آئے ہیں، کشمیرکے عوام کو ” کشمیربنے گا پاکستان“ کے نعرے بھی دیے گئے، کشمیریوں کواپنے مفادات کے لئے استعمال کیا گیا لیکن جب سے آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے بنیادی حقوق مانگنا شروع کئے ہیں توانہیں حقوق دینے کےبجائے گولیاں ماری جارہی ہیں، راولاکوٹ، میرپور اور آزاد کشمیر کے دیگرعلاقوں میں کشمیریوں پر ریاستی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، پرامن احتجاج کرنے پر راولاکوٹ، میرپور کے ساتھ ساتھ اب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اورلاہورمیں بھی کشمیریوں نےپرامن احتجاج کیا تو وہاں بھی کشمیریوں کولاٹھی چارج، آنسو گیس، فائرنگ اورطاقت کے ذریعے کچلا گیا، اپنے حقوق مانگنے والے کشمیریوں کو گولیاں مارکر، ان کا خون بہایا گیا، پاکستان کی شہ رگ کوزخمی کیا گیا، ریاستی مظالم کی وجہ سے اب تک 100 سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں، اگر کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے تو اصولی طورپرپورے پاکستان کو کشمیر کے دکھ اوردرد کو محسوس کرنا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ پاکستان میں کشمیر کی صورتحال پر خاموشی ہے، کوئی کشمیرکے دکھ کومحسوس نہیں کررہا ہے اور وہاں حالات زندگی نارمل ہیں۔
آزاد کشمیرکوشہ رگ قراردیا جاتا ہے لیکن اپنا حق مانگنے پر ریاست کشمیر میں معصوم وبے گناہ کشمیریوں کو گولیاں مارکر، انہیں مظالم کا نشانہ بنا کراوران کاخون بہا کراس شہ رگ کوکاٹ دیا گیا ہے، اب کشمیر شہ رگ نہیں رہا، پاکستان کی فورسزنے کشمیریوں کو گولیاں مارکر، ان کامحاصرہ کرکے،ان کاخون بہاکر اس شہ رگ کو خود ہی اپنے سے کاٹ کر رکھ دیا ہے، اسے اپنے سے جدا کردیا ہے، لہٰذا اب کشمیریوں پر ظلم کرنے والے وہاں سے اپنا بوریا بسترگول کرلیں اورکشمیر کا مستقبل کشمیریوں پرچھوڑدیاجائے، اس کافیصلہ وہی کریں گے۔
میں ظلم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے کہتاہوں کہ آپ کے زخموں اوردکھ درد کو صرف الطاف حسین سمجھ سکتا ہے، ہمارے بزرگ جنہوں نے قیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی،جب وہ 1947ء میں پاکستان کے لئے اپناسب کچھ چھوڑ کر ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے لیکن ان کے ساتھ حق تلفیاں کی گئیں، جب ہم نے ایم کیوایم بناکر ان ناانصافیوں اورحق تلفیوں کے خلاف جدوجہد شروع کی توہمارے خلاف 19جون 1992ء کوفوجی ا ٓپریشن شروع کردیا گیا، ہمارے خون سے ہولی کھیلی گئی، ہمارے ہزاروں معصوم وبے گناہ ساتھیوں کو سفاکی سے شہیدکردیا گیا، لیکن افسوس کہ اس وقت پنجاب اور کشمیر سمیت پورے ملک نے ہم پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کی بلکہ اس ظلم کی حمایت کی۔ ہماری دعاہے کہ کشمیریوں یا کسی بھی قوم پر وہ ظلم نہ ہو جو مہاجروں پر ڈھایاگیا۔
میں کشمیریوں کے لئے برسوں سے آوازاٹھاتا رہا ہوں، آج بھی اٹھارہا ہوں اور اٹھاتا رہوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیریوں کوان کاحق ملنا چاہیے اوران کے خلاف طاقت کااستعمال بند ہونا چاہیے۔
میں کشمیریوں سے بھی کہوں گا کہ ان مظالم کی وجہ سے مایوس نہ ہوں بلکہ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہیں۔ میں کشمیری جین زی اورتمام نوجوانوں سے کہوں گا کہ وہ کاکروچ پارٹی کے نوجوانوں سے کی مثال سامنے رکھیں اورتمام مشکل حالات کے باوجود اپنی جدوجہدکوجاری رکھیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 439 ویں فکری نشست سے خطاب
31 جولائی 2026ء
کراچی کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے 25 سالہ تاجر میر رضا علی کی مسخ شدہ ل-!-ش گلستانِ جوہر بلاک 1 میں شادی ہال کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی ہے؛ پولیس کے مطابق بہادر آباد چورنگی پر مشہور فوڈ برانڈ 'واف لکس' کا آؤٹ لیٹ چلانے والے مقتول کو بدترین تشدد کے بعد س-ر میں گ-و-لی مار کر ق-ت-ل کیا گیا۔ مقتول کے والد نے فیروز آباد تھانے میں 27 اور 28 جولائی کی درمیانی شب 10 منٹ کا کہہ کر گھر سے نکلنے کے بعد اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا؛ ایس ایچ او گلستانِ جوہر اور ضلع شرقی پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ٹیکنیکل بنیادوں سمیت تمام زاویوں (بشمول مالی لین دین کے تنازعات) سے تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
ایم کیوایم کے سینئر کارکن سمیع الدین رحمانی کی شہادت پر متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار تعزیت
لندن……29 جولائی 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کراچی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایم کیوایم کےسینئر کارکن سمیع الدین رحمانی کی شہادت اوران کے بیٹے فصیح رحمانی کے زخمی ہونے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہارکیا ہے۔ جناب الطاف حسین نے سمیع رحمانی شہید کے تمام لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ میں اور ایم کیوایم کے تمام کارکنان دکھ اور صدمے کی اس گھڑی میں آپ کے غم میں برابرکے شریک ہیں۔ جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے ۔ انہوں نےدعاکی کہ اللہ تعالیٰ سمیع رحمانی شہید کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اوراہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جناب الطاف حسین نے سمیع رحمانی شہید کے بیٹے فصیح رحمانی کی صحتیابی کے لئے بھی دعاکی ہے۔
کراچی: عزیز آباد بلاک 8 میں فائرنگ سے ہلاک و زخمی ہونے کا معاملہ
کراچی: مقتول سمیع الدین بینک سے ریٹائرڈ تھے، پولیس
کراچی: مقتول کا زخمی بیٹا فصیح بھی بینک میں ملازم ہے، پولیس
کراچی: چار ملزمان گھر کا عقبی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے، پولیس
کراچی: ملزمان نے باپ بیٹے پر فائرنگ کی اور فرار ہوگئے، پولیس
کراچی: جائے وقعہ سے نائن ایم ایم پستول کے چھ خول ملے، پولیس
کراچی: کرائم سین یونٹ نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے، پولیس
کراچی: اطراف کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، پولیس
کراچی: ملزمان گھر سے کچھ لے کر بھی نہیں گئے، پولیس
کراچی: واقعے کی تمام پہلووں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، پولیس
عروج کی جب یہ ویڈیو آئی تھی تو اس وقت تحریک انصاف کا سوشل میڈیا ونگ جو کہ اس وقت کے جلوے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ففتھیا بریگیڈ کا خاصہ دار بنا ہوا تھا اس نے ایک انتہائی گندی کمپین چلائی تھی اور اس کے پہناوے اور گانے جو براہ راست پاکستان کی اقدار کیلئے خطرہ قرار دیا تھا۔
آج بیشرم لوگ اس کی پرانی ویڈیو لگا لگا کر اس کو پاکستان کے حالات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر باہر نکلنے کیلئے کہہ رہے ہیں۔
اپنا گھو کھانے میں تحریک انصاف ید طولی رکھتی ہے۔
@PTIofficial https://t.co/DFbVMZ0tDk
قائد کا غدار
کون کون رہا۔
عامر خان ۔۔۔۔ آج تک زندہ ہے۔
آفاق احمد ۔۔۔ آج تک زندہ ہے۔
سلیم حیدر ۔۔۔ آج تک زندہ ہے۔
خالد مقبول ۔۔۔ زندہ ہے۔
فاروق ستار زندہ ہے۔
ایم کیو ایم پخانستان، حقیقی، پی ایس پی، عشرت العباد کی ابا جی گروپ سب زندہ ہیں
اس کے پتا شریٰ مر گئے اور پیچھے چھوڑ گئے توتیا اولاد
اور تو جھونپڑی کا آج تک زندہ ہے اور گاف سے ہگ نہیں رہا لکھ رہا ہے
جو قائد کا غدار ہے ۔
اور ہاں سچ یہ ہے کہ جو زندہ نہیں ہیں وہ اس لئے نہیں ہیں انہوں نے غداری سے انکار کیا تھا۔
جیسے عمران فاروق، عظیم احمد طارق، حسن ظفر عارف، امجد صابری ، علی رضا عابدی اور بہت سے
پاکستان میں ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے جین زی کوآگے آنا ہوگا۔الطا ف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، ہمیں ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا، غوروفکر کرنا ہوگا اورحکمراں اشرافیہ کے جابرانہ دور اور جرنیل شاہی سے نجات کے لئے سخت جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہونا ہوگا۔ملک میں جاری اس ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے پاکستان کے نوجوانوں، جین زی کوآگے آنا ہوگا، جس طرح پوری دنیا میں انقلابات آئے ہیں اسی طرح پاکستان کے نوجوانوں اورتمام شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ملک میں انقلاب برپا کرنے اورحکمراں اشرافیہ سے نجات کے لئے ملکر جدوجہد کرنی ہوگی، انقلاب کے بغیرپاکستان میں مسلط کرپٹ نظام اورحکمراں اشرافیہ سے نجات اورملک کی ترقی واستحکام بہت مشکل نظرآتا ہے، اگر پاکستان کے عوام صرف نعروں پر اورباتوں پر چلتے رہے تواس سے کچھ نہیں ہو گا۔
پاکستان میں نظام انصاف حکمراں اشرافیہ کے تابع کردیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں نے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بعض مقدمات میں مرضی کے فیصلوں کے لئے دباؤ ڈالنے کی سپریم کورٹ میں شکایت کی تھی،ان کی اس سنگین شکایت پر کاروائی کرنے کے بجائے انتقام کا نشانہ بنایا گیا اوران کے دوسری ہائیکورٹس میں تبادلے کردیے گئے ہیں، اس طرح انصاف کے راستے بند کئے جارہے ہیں۔عمران خان تین سال سے قید ہیں، ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان کے وکلاء کی ان سے ملاقات نہیں کروائی جارہی ہے، قید میں عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے لیکن انہیں پیش نہیں کیا جارہاہے، کیا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے علم میں یہ بات نہیں ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو9 مئی 2023ء کے واقعات میں جوسزا دی گئی ہے وہ بھی غلط دی گئی ہے کیونکہ عمران خان کو توایک روز قبل یعنی 8 مئی 2023ء کواسلام آباد ہائیکورٹ کے اندرسے رینجرز نے گرفتارکرلیا تھا اوروہ 9 مئی کووہ رینجرز کی حراست میں تھے، 9 مئی کوملک میں ہونے والے احتجاج کے دوران جوبھی واقعات ہوئے تھے،عمران خان ان میں کہیں بھی موجود نہیں تھے، پھرعمران خان کے خلاف 9 مئی کے واقعات کامقدمہ عمران خان کے خلاف کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ مجھے حیرت ہے کہ اس کیس کے ٹرائل کے دوران عمران خان کے وکلاء نے اتنا اہم نکتہ عدالت کے سامنے کیوں نہیں اٹھایا؟جب تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمودقریشی کو عدم موجودگی کی بنیاد پر 9مئی کے مقدمات سے بری کیا جاسکتا ہے تو عمران خان کوسزا کیسے دی جاسکتی ہے؟
موجودہ دوراس طرح کا ہوگیا ہے کہ صرف انصاف مانگنے کےلئے پاکستان کا شہری جائے تو کہاں جائے؟ جب وہ نیچے کی عدالت میں نہیں بلکہ عدالت عالیہ میں جائے توہائیکورٹ کے ججوں پر حکمراں اشرافیہ کی جانب سے دباؤ آجاتا ہے کہ” فیصلہ وہ کرنا جیسا ہم چاہیں“۔ وہ ججز سپریم کورٹ میں درخواست دیں کہ ہم پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، ہمارے اہل خانہ کوہراساں کیا جارہا ہے، ہمیں بلیک میل کیا جارہا ہے، لیکن انہیں انصاف دینے کے بجائے سزا دیدی جاتی ہے۔ملک میں جاری اس ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے پاکستان کے نوجوانوں ،جین زی کو آگے آنا ہوگا، ابھی انڈیا میں جین زی نے کاکروج جنتا پارٹی نے مظاہرہ کیا جن کا کوئی لیڈرنہیں،کوئی جماعت نہیں، ان پرلاٹھی چارج کیا گیا، تشدد کیا گیا، کچھ نوجوان ہلاک اورزخمی بھی ہوئے لیکن نوجوانوں نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا، بالآخر حکومت کوان کے مطالبات ماننے پڑے، وزیرتعلیم کواستعفیٰ دینا پڑا اور نوجوان اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئے۔
ہماری جین زی کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے نظام کوبدلنے کے لئے، ظلم و جبر کے خاتمے کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کا آغاز کریں، اگر وہ بھی اس جدوجہد میں کاکروج جنتاپارٹی کی طرح لاٹھی چارج، شیلنگ کا سامنا کرنے، گرفتارہونے اورقربانیاں دینے کے لئے تیارہوجائیں تویہاں بھی بڑی بڑی طاقتوں کوگھٹنے ٹیکنا پڑیں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 436 ویں فکری نشست سے خطاب
25 جولائی 2026ء