انصاف پسند معاشرے کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہاں شیر اور بکری اکٹھے پانی پیتے ہیں
پاکستان اب ایک ایسے معاشرے میں ڈھل چکاہے جہاں شیر اور بکری ایک ساتھ پیاسے مرتے ہیں
یہ نہتی لڑکی اپنی قوم کے حقوق کے لیے بندوق والوں سے لڑی ہے۔ اسکا پرامن احتجاج دہشت گردی نہیں ہے۔ جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں میں اصل دہشتگردی ہے جسے روکنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔
ماہرنگ کے لیے آواز اٹھائیے ورنہ کل آپکی بیٹی بھی یہاں ہو سکتی ہے۔پاکستان زندہ باد بلوچستان پائندہ باد
ماہ رنگ بلوچ کسی افسر کی بیٹی نہیں ہے ورنہ نئے نئے پاسپورٹ بنتے اور سیریں کرتی۔
سزائیں دینے والوں اور دلوانے والوں کو نا غیرت ہے نا شرم۔
خواتین سے مقابلہ کرنے والے بزدل۔
ایک نہتی بلوچ لڑکی نے پوری ریاست کو بے بس کر دیا ۔ جھوٹ اور مکّاری سے بننے والی پاکستانی ریاست ماہ رَنگ سے ہار گئی ۔ عمر بھر قید کی سزا ماہ رنگ کی جیت ہے ۔
جب اپنوں میں غدار اور چال چلنے والے پیدا ہو جائیں تو میدان میں کھڑا شیر بھی کتوں سے بازی ہار جاتا ہے، جو انسان اپنوں کو گرانے میں اپنی جیت سمجھتا ہے تو سمجھ لینا کہ وہ انسان سچ میں ب��ت گرا ہوا ہے۔
خود چھینک بھی آئے لندن جنیوا نکل جاتے ہیں اور پاکستان کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل نہیں جانے دے۔ جو روایت قائم کررہے ہیں کل کو خود بھی جھیل پائیں گے ؟؟
اس میں کوئی دوسری رائے ہی نہیں کہ کھمبے صرف وقت گزاری کر رہے ہیں پہلے خان صاحب کی قید کو نارملائز کیا گیا پھر خان صاحب کی ملاقاتوں کو نارملائز کیا گیا پھر ان کی قید تنہائی کو نارملا��ز کیا گیا اور اب ان کی صحت کو بھی کمپرومائز کیا جا رہا ہے ۔۔۔صحت مطلب ان کی زندگی 😓
ذرا سوشل میڈیا پر کوئی کچھ بول دے تو پریس کانفرنس آ جاتی ہے کہ ایسی چیزیں کر کر ملک کو بدنام کیا جا رہا ہے دشمن ملک کو شے مل رہی ہے۔
اب جو کچھ راولا کوٹ میں کیا جا رہا ہے اس پر کس کو شے مل رہی ہے؟ اب دشمن ملک پراپیگینڈہ کا کیا کرنا ہے؟
کیلیبری فونٹ والی عادات نے ہمارے دوستوں کی مت ہی مار دی ہے۔ کشمیر میں بھارت نے 2019 میں اسٹیٹس بدلا اور ایکشن کمیٹی اسکے 4 سال بعد وجود میں آئی۔ تو اپنے وجود سے 4 سال قبل وہ کیسے احتجاج کرتے؟
رجیم چینج سازش کے بعد آنے والی تبدیلیاں۔
1) لوگوں نے نیوز چینل دیکھنا چھوڑ دیا
2) کرکٹ دیکھنا ختم کر دی
3) اخبارات بند کروا دئیے
4) لوگ��ں نے ملی نغمے سننا چھوڑ دیے
5) فوج اور ایجنسیوں سے اعتبار اٹھ گیا
6) سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے باقاعدہ نفرت ہوگئی
7) کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں سے گھن آنے لگی
8) مذہبی جماعتوں کی منافقت مذید عیاں ہو گئی
9) فتویٰ ساز ملاں ننگے ہو گئے
10) عمران خان کی عزت و احترام دل میں اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔