ایکو سسٹم کو بحال رکھنے کیلئے کم از کم پچیس فیصد رقبے پر جنگلات ہونا لازم ہیں
جبکہ پاکستان میں جنگلات اب ایک فیصد بھی نہیں رہے
پاکستانی شہری ایسی عجیب و غریب بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں کہ جن کی نہ تشخیص ممکن ہے نہ ہی علاج میسر ہے
مگر کوئی اس طرف توجہ نہیں دے رہا
پاکستان کو شجر ایمرجنسی کی اشد ضرورت ہے
#پاکستان
یہ کمال کی خاتون ہیں۔ کمال کی موسیقار اور گلوکار ہیں۔ انہوں نے بھی مقامی مولویوں کے ہاتھوں بہت بکواس سن رکھی ہے۔ انہوں نے جب 1990 کی دھائی کے آغاز میں کیریر کا آغاز کیا تو ان کا پہلا گانا "جیون" تھا۔ یہ یوٹیوب پر آج بھی موجود ہے اور مجھے اپنی قبل از مسیح کی جوانی کی یاد دلاتا ہے۔
شروع میں (شاید) ان کے بھائی ان کے نغمات کی موسیقی ترتیب دیتے تھے۔ اور یہ بھی مقامی ملائیت کے لیے اک بہت بڑا گناہ تھا۔ پھر انہوں نے اک بچہ گود لیا۔ وہ عمر میں بڑا ہوا تو مولویوں نے اس پر بھی اعتراضات کر دئیے۔ مگر خاتون چونکہ کمال کی تھیں، آگے بڑھتی چلی گئیں اور اس لیے کہ انہوں نے بکواسیات پر نہ صرف دھیان نہ دیا، بلکہ اس کا جواب تک نہ دیا۔ آج تک، ان کی طرف سے، ان پر کیے گئے ملائیت کے اعتراضات پر ایک بات بھی پڑھنے کو نہیں ملی۔
بحثیت اک پاکستانی، میں معاشرت میں ملائیت کے سپیس کا احترام کرتا ہوں اور اس کا دفاع بھی کرتا ہوں کیونکہ یہ بھی دنیا کے ہر معاشرے کا حصہ ہے۔ معاشرے کا حصہ مگر فنون لطیفہ اور وہ لوگ بھی ہیں جو ملائیت کی لے کو تسلیم نہیں کرتے، اور اِن دونوں کو باہمی احترام اور مہذب اختلاف کی بنیاد پر باہمی جینے کا حق حاصل ہے۔ اول الذکر کے دامن پر مختلف اقسام کے تشدد کے دھبے ہیں۔ مؤخرالذکر اس سے بری الذمہ ہے۔ یہ فرق بہرحال موجود ہے۔
حدیقہ کیانی، پاکستانی معاشرت کا ناز ہیں۔ خدا انہیں زندگی، صحت اور مزید ترقی عطا کرے۔ ان جیسے لوگ معاشروں کو اپنی طرز سے بناتے چلے جاتے ہیں۔
یہی وہ انمول پنکی تھی جو کل تک اداروں کو دھمکیاں لگا رہی تھی.. خود کو ایک برینڈ سمجھ بیٹھی تھی، یہ تو اسکی قسمت اچھی کہ کراچی میں ہے ورنہ پنجاب میں ہوتی تو سی سی ڈی برینڈ ویلیو زیرو کردیتے ابھی تک..!
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں کمی کی منظوری
وزیرِاعظم کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 12 پیسے کی کمی کی منظوری۔
منظوری کے بعد ڈیزل کی قیمت 385.54 روپے سے کم ہوکر 353.43 روپے ہوگئی۔
"تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جس قدر جلدی ممکن ہوا عوام تک پہنچائیں گے۔"
وزیرِ اعظم
احسن اقبال آپ کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی ہے۔ میں نے وقت لیا آپ کو جواب دینے میں۔ کچھ لحاظ کے تقاضے تھے۔ مگر اب جواب دے رہا ہوں۔ نواز شریف کی جس ترقی کے سفر کا ڈھول آپ پیٹ رہے ہیں اس نے ملک کو تباہ کر دیا۔ آج پاکستان اس قرضوں کے جال میں ان کی غلط پالیسی اور آپ جیسے پلاننگ کے مشیروں کی وجہ پھنسا ہوا ہے۔ دو پراجیکٹ جس کے لیے وہ کریڈٹ مانگتے ہیں وہ پاکستان کا ناسور تھے۔ پہلا لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے پہلے نوے کی دہائ اور پھر اپنی تیسری گورنمنٹ (2014-15) میں کیے آئ پی پی کے کرپٹ معاہدے تھے۔ اس میں ریاست کا مفاد نہی دیکھا گیا اور ان سیٹھوں کو جو یا رشتہ دار تھے یا پارٹنر نوازا گیا۔ اب بھی ہم ان کو دو ہزار ارب سالانہ سے زیادہ منافع دے رہے ہیں چاہے وہ اک یونٹ بھی بجلی نہ بنائیں۔ چھیالیس ہزار میگا واٹ بجلی کی کہیسیٹی ہے مگر پچیس بھی نہی بنا پا رہے۔ اس جرم کا کون زمہ دار ہے۔ دوسرا جو سڑکوں کا جال بنانے کا تمغہ لیا جاتا ہے۔ مودی نے اسی ہزار کلومیٹر سڑکیں بھارت میں بنائیں مگر اپنے پیسے سے۔ ہم نے اس کے مقابلے بہت کم بنایا مگر ڈالر کے قرضے میں۔ میں مال بنانے کا الزام نہی لگا رہا مگر ملک اس وقت ان دو بڑے پراجیکٹ کی وجہ سے قرضے کے جال میں پھنسا ہے۔ ہمارا ڈیبٹ یعنی قرضہ بحران جس سے ہمارا کرنٹ اکائونٹ، تجارتی اور بجٹ خسارے جنم لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ موقع نہی ملا۔ کتنا موقع چاہیے۔ پچھلے چار سال سے پورا موقع تھا۔ نہ عدالت نہ اپوزیشن نہ پارلیمان نہ میڈیا۔ ایسا موقع تو آمریت میں نہی ملا۔ کیا کیا آپ نے۔ قرضے چتالیس ہزار ارب سے اسی ہزار ارب تک ہو گئے۔ پاکستان کی تاریخ چھوڑیں مونجھوداڑو کے زمانے سے پنتالیس فیصد غربت پانچ دریاؤں کے دھرتی میں نہی دیکھی گئ۔ بائیس فیصد بیروزگاری۔ پچاس سال میں پہلی دفعہ ساری بڑی فصلوں میں گراوٹ۔ اس پر بھی آپ شرمندہ نہی بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہمیں موقعہ نہی ملا۔ اگر میرے کسی خیال سے اختلاف ہو تو میں کئ دفعہ آپ کو ٹی وی پر بلا چکا کہ مجھے غلط ثابت کر لیں۔ محظ پراپیگنڈا نہ کریں۔ مزید جواب پر میں پھر حاظر ہوں۔ اب اس جواب کو کتنا تھراٹل کروائیں گیں۔
وہ شرمیلا جی سے پوچھنا یہ تھا کہ پیرس میں بھی 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے؟
وہاں بھی 15 ہزار کا ٹینکر ڈلوانا پڑتا ہے؟
وہاں بھی 30 منٹ کی بارش سے نظام زندگی درہم برہم ہو جاتی ہے اور لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں؟
وہاں بھی بھٹو زندہ ہے؟
@sharmilafaruqi
کراچی میں رہنا ایسے ہی ہے جیسے پیرس میں رہنا۔۔شرمیلا فاروقی
شرمیلا صاحبہ گوکہ آپ کا بیان پڑھکر مجھے دکھ پیرس کی بےعزتی پر بھی ہوا ہے مگر زیادہ دکھ اس بات پر ہوا ہے کہ ابھی تک آپ نے پیرس نہیں دیکھا،ویسے کیوں نہیں گئیں آپ فراس،ویزا نہیں لگا،ٹکٹ مہنگی ہے یا گھر والے نہیں مان رہے،ویسے ایک چکر لگا آئیں،میں نہیں چاہتا کہ کل کلاں آپ یہ کہہ دیں کہ مجھے آصف زرداری میں نپولین بونا پارٹ دِکھتا(نظر آتا) ہے۔۔
UPDATE: Within an hour, around 10 aircraft reportedly landed at Islamabad’s Nur Khan Air Base, with arrivals including flights from Tehran and Istanbul.