آج سے ٹھیک 44 سال پہلے، فروری 1982 میں، اسرائیل کے ایک عبرانی جریدے "کیوونیم" میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔
لکھنے والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا ایک سابق سینیئر اہلکار اور سٹریٹجک تجزیہ کار تھا۔ اس کا نام تھا اووڈ نیون (Oded Yinon)۔
اس مقالے کا عنوان تھا: "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمتِ عملی"۔ دنیا آج اسے "ینون پلان" کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے کا لبِ لباب صرف ایک تھا: "اگر اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرنی ہے، تو اسے اپنے اردگرد موجود تمام عرب ممالک کو نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہو گا تاکہ 'گریٹر اسرائیل' کا خواب پورا ہو سکے"
۔اووڈ نیون کا استدلال بڑا سادہ لیکن ہولناک تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے "سائکس-پیکو معاہدے" کے تحت جو عرب دنیا بنائی، وہ ریت کی دیوار ہے۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں کیونکہ ان میں مختلف مسالک، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کر دی گئی ہیں۔
نیون نے لکھا کہ اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی اندرونی خلفشار سے تباہ ہو جائیں۔اس نے باقاعدہ ایک ایک ملک کا نام لے کر خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کے لیے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تین ٹکڑے کر دیے جائیں: شمال میں کُردوں کی الگ ریاست، وسط میں سنیوں کا علاقہ، اور جنوب میں شیعہ ریاست۔ اس نے لکھا کہ شام کو اس کی علوی، دروز اور سنی آبادی کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس نے لبنان کے بکھراؤ کی بات کی اور مصر کی معیشت کو اس حد تک توڑنے کی تجویز دی کہ وہ کبھی جزیرہ نما سینا پر اپنا حق نہ جتا سکے۔
آج 2026 میں، اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اووڈ نیون نے 1982 میں جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر ناچ رہا ہے۔ صدام حسین کا وہ طاقتور عراق کہاں گیا؟ آج وہ عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے۔ شام کا کیا حشر ہوا؟ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری خانہ جنگی نے شام کو کھنڈر بنا دیا اور وہاں مختلف نسلی گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیبیا، یمن اور لبنان کی صورتحال دیکھ لیں۔ کیا یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے؟ جی نہیں! یہ اسی ینون پلان کی حرف بہ حرف تعمیل ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔
عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ جب اسرائیل کے معروف دانشور اسرائیل شاہاک نے اس منصوبے کا انگریزی ترجمہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا، تو عرب حکمرانوں نے اسے محض ایک "خیالی پلاؤ" کہہ کر مسترد کر دیا
آج عرب دنیا کی آپسی نااتفاقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اپنی سٹریٹجی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر، شیعہ سنی کی خلیج کو وسیع کر کے، اور نسلی تعصبات کو ابھار کر پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اسرائیل کی سٹریٹجی کو ناکام کرنے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے لیے کانٹا ہے
سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا
ترکی نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا
اب
مصر اور آذربائجان جیسے ممالک بھی معاہدے میں شامل ہونا چاہ رہے ہیں
لیکن ذرا سوچئے
جس کی لیڈر شپ ماری گئی جسکے ہتھیاروں پر حملے ہوئے جس ملک میں بمباریاں کر کے تیس نہس کر دیا گیا
اور
جو پاکستان کا ہمسایہ ہے اس نے ابھی تک معاہدے میں شامل ہونے کا ذکر تک نہیں کیا
بلکہ
الٹا پاکستان سعودیہ اور ترکی معاہدے پر شر انگیز بیانات داغ رہا ہے
انکے شر انگیز الفاظ میں ان کے مقاصد واضح ہیں
میں اپنے بچوں پر یہ کیمرے لگا کر انہیں باہر چھوڑتا ہوں اور خود کھڑا ہوتا ہوں تاکہ یہ میرے بچوں کے قریب نہ آئے۔۔۔ پلیز ہماری ہیلپ کریں۔ میں اس طرح نہیں تھا۔۔۔۔'
یہ الفاظ وحدت کالونی کوئٹہ کے رہائشی سرکاری ملازم اور چار بچوں کے باپ محمد آصف کے ہیں۔ اس نے یہ الفاظ اپنی ایک ویڈیو میں کہے اور پھر اپنے ہاتھوں سے اپنی پوری دنیا ختم کر لی۔
کوئٹہ کی وحدت کالونی میں محمد آصف نے مبینہ طور پر فائر۔نگ کرکے اپنی بیوی اور چار بچوں کو ما۔ر دیا ہے اور پھر خود کو بھی گو۔لی ما۔ر لی۔ جا۔ں بحق بچوں میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل تھے۔
یہ وحدت کالونی میں واقع سرکاری گھر میں مقیم تھے۔ اس واقعے سے پہلے انہوں نے اپنے بھتیجے کو وٹس ایپ پر پیغام بھیجتے ہوئے کہا 'سب کچھ ختم ہو گیا ہے میں خود کو ما۔ر رہا ہوں' بھتیجے نے ایسا کرنے سے منع کیا اور انہیں بتایا کہ وہ ان کے پاس آرہے ہیں۔ ان کے بھتیجے اپنے والد کے ساتھ آصف کے گھر پہنچے لیکن دروازہ بند تھا اور بار بار آواز دینے پر بھی دروازہ نہیں کھولا گیا۔
کچھ دیر بعد محمد آصف نے انہیں دو بچیوں کی تصاویر بھیجیں جنہیں وہ ما۔ر چکے تھے جس پر انہوں نے فوری طور پر اپنے رشتہ داروں کی اطلاع دی۔ یہ دروازہ کھٹکھٹاتے رہے لیکن کوئی جواب نہ آیا جس کے بعد مزید فائرنگ کی آواز آئی۔ جس پر اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس آئی تو دروازہ تو۔ڑ کر اندر داخل ہوئی اور لا۔شو۔ں کو تحویل میں لیا۔ محمد آصف نے اپنی دنیا ختم کر دی تھی۔
محمد آصف نے واقعے سے قبل ریکارڈ کی ہوئی تقریباً 13 منٹ کی ویڈیو اپنے رشتہ داروں، سوشل میڈیا کارکنوں اور دیگر افراد کو بھیجی۔ ویڈیو میں محمد آصف دو سرکاری ملازمین کے نام لے کر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ ان پر سرکاری گھر خالی کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پانی کا کنکشن تک کاٹا گیا۔
محمد آصف نے ویڈیو میں یہ الزام بھی لگایا کہ مذکورہ افراد ان کے بچوں کا حوالہ دے کر انہیں دھمکا رہے ہیں۔ انہوں نے صدر پاکستان، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے مدد کی اپیل بھی کی۔
محمد آصف نے ویڈیو میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو بہت پیار سے پالا ہے وہ انہیں کسی کی جانب سے نقصان پہنچانے سے پہلے ہی خود ہی مار کر خودکشی کرلیں گے۔ ویڈیو میں وہ مزید بتاتے ہیں:
'میں اس طرح نہیں تھا۔ یہ لوگ مجھے ذہنی ٹینشن دیتے ہیں کہ گھر خالی کر دیں۔ میرے بچوں کے سامنے مجھے تھپڑ مارتے ہیں۔ میرے بچے کیا سوچتے ہوں گے کہ ہمارا باپ اتنا کمزور ہے؟ میں اپنے بچوں پر یہ کیمرے لگاتا ہوں، خود کھڑا ہو کر دیکھتا ہوں۔ میرے بچے دن میں کھیل نہیں سکتے جبکہ ان کے بچے کھیلتے ہیں۔ پورے محلے میں ان کے رشتہ دار ہیں۔ پانی کی لائنیں کاٹ دی ہیں۔ میری پری جیسی بچی ہے۔ میری لاڈو ہے۔ میری زندگی ہے۔ تم کیا کہہ رہے تھے آسان ہے کسی پر تیزاب پھینکنا، غائب کرنا۔ تم کرو غائب۔۔۔' آصف نے خود۔کشی سے قبل یہ ویڈیو بیان مبینہ طور پر محلے کے وٹس ایپ گروپ اور دیگر لوگوں کو بھیجا۔
واقعے کے اگلے روز تحقیقات نے ایک اور پرت کھولی۔
پولیس نے مقتول کے بھائی ظریف خان کی مدعیت میں نامزد سرکاری افسران کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تھانہ شہی۔د امیر محمد دستی میں درج مقدمے میں قتل اور خود۔کشی پر اکسانے کی دفعات شامل کی گئیں۔
مقدمے میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے ایک افسر، ان کی اہلیہ، ڈائریکٹر سمال انڈسٹریز اور ایک شخص کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی ظریف خان کے مطابق محکمے کا ایک ملازم ان کے بھائی کو بیٹی کے نام پر ڈراتا اور دھمکاتا تھا۔ محمد آصف مسلسل دھمکیوں اور بلیک میلنگ کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکا تھا اور اسی دباؤ میں اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ بلوچستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور ویڈیو میں نام آنے والے دونوں سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
آصف کے بھتیجے حاتم نے ان دعووں کو مسترد کیا کہ ان کے چچا ذہنی طور پر بیمار تھے۔
آصف نے ویڈیو بنائی۔ واٹس ایپ پر بھیجی۔ بھتیجے کو فون کیا۔ وزیراعلیٰ سے مدد مانگی۔ ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ کوئی نہ آیا 'ہر دن کے مرنے سے ایک دن مرنا بہتر ہے' آصف نے ویڈیو میں یہ بھی کہا تھا۔ جب ایک آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے تو بظاہر قصور اس پورے نظام کا ہے جو اسے اس مقام تک لے گیا اور پھر بھی خاموش رہا۔
ادیب یوسفزئی
@MujahidMu12081@Wabbasi007 کمینے جب عروج پاتے ہیں تو اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
کتنے کمظرف ہیں یہ غبارے چند پھونکوں سے پھول جاتے ہیں
۔
یہ آپکے لئے ہی تھا تبھی تو یہ کمینٹس دے اپنے
فوجی میسسز گالف کلبوں کی ویڈیوز نشر کرنے کا اچھا سلسلہ شروع کیا ہے
معلوم تو سب کو ہی تھا لیکن اچھا ہے سب آنکھوں سے دیکھ لیں کہ کینٹ ایریاز اور گالف کلبز میسسز میں فوجیوں کی ایک الگ دنیا آباد ہے جہاں ماں پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ناں ایسی جگہوں پر عیاشیاں کرنے والوں کا پاکستان کی عوام سے کوئی تعلق ہے ۔
اس جرنیلی طبقے کی پہلے دن سے تربیت ہی ایسی ہوتی کہ عوام کو اچھوت سمجھنے لگتے ۔۔
عوام کو سوئے رہنے کی لوریاں دے کر
جو رنگ لگائے وہ اب دنیا کے سامنے ہیں ۔۔۔
کشمیر کی خوبصورت وادی میں بھی اس خوبصورت پہاڑوں پر مشتمل وسیع علاقے پر فوج نے قبضہ کر کے اپنے آفیسرز کو تفریح کے لیے مہیا کر دیا۔ عوام جاۓ بھاڑ میں۔ اتنی عیاشیوں والے کیا خاک جنگیں لڑیں گے۔ یہ صرف اپنی طاقت اپنا اقتدار بچانے کے لیے عوام سے لڑنے کے قابل رہ گیے ہیں
ٹک ٹاک ایک بیماری بن چکی ھے۔ ٹک ٹاک پر ہونے والی تلخ کلامی یہاں تک پہنچ گئی کہ اگلے بندے کو سبق سکھانے اسکی گاڑی تک پہنچ گے اور ساتھ دیدہ دلیری دیکھے کہ وڈیو بھی خود بنا رھے ہیں۔ اتنا خیال بھی نہیں کیا کہ لیڈیز ساتھ ھے۔
حکومت کا صاف صاف اعلان ہے کہ آپ بجلی استعمال کریں نہ کریں، سولر لگائیں، بجلی بند کر کے بیٹھ جائیں، آپ نے سیٹھ کے لگائے نجی بجلی گھر کا بھتہ ہر حال میں دینا ہے۔ فکسڈ چارجز اسی کا نتیجہ ہیں۔ آر اے شہزاد @RShahzaddk
پرائیویٹ کالونیوں کے مالک بدمعاشوں والا کام کرتے ہیں ان پر کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا بجلی کے میٹر اور بجلی کے یونٹ کا ریٹ اپنی مرضی کا لیتے ہیں اگر کوئی آواز اُٹھائے تو کہتے عدالت جاؤ جہاں مرضی جاؤ ہمارا کچھ نہیں کر سکتے
اس بندے نے کسی ناانصافی پر احتجاج کیا تو اسکے گھر کا پانی بند کر دیا ان یزیدیت کی سوچ والوں کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ھو سکتی ؟
کچھ دیر پہلے پشاور کے ایک سکول کئ ویڈیو لگائی بچیاں بغیر بجلی کے بیٹھی ہیں اب یہ ویڈیو دیکھ لیں وزیراعلی سہیل آفریدی سرکاری گاڑیوں کا جلوس لے کر اڈیالہ جا رہا ہے صوبے کا بائیس سو ارب کا بجٹ ان کاموں پر لگتا اور آخر میں نسل پرستی بیچ دیتے کہ پنجاب کھا رہا
تم ایک بزدل fake account ھو جسکے پیچھے بہتان تراشنے کی فیکٹری ھے ، تمھیں اور تم جیسے بے شمار اکاؤنٹس کو اندھے اور بدبودار کلٹ فالورز fake news پھیلا کر پیسے کمانے ، اپنے مالکان کے احکامات کی تعمیل کرنے یا پاکستان میں انتشار اور سنسنی پیدا کیلئے استعمال کرتے ھیں ، اگر سچے ھو تو اپنے نام کے ساتھ سامنے آؤ ۔۔ ثابت کرو کہ مذکورہ بیان خواجہ صاحب نے کب اور کہاں دیا ؟؟ انکے ، انکے خاندان یا کسی نام نہاد سوشل میڈیا مینیجر کے نام کونسے اپارٹمنٹ ھیں ؟ اگر تمھیں یا تمھارے مالکان کو زیادہ خارش ھے تو جنھیں نوٹس گئے ھیب انھیں ثبوت مہیا کرو ۔۔گروک کے ذریعے مس گائیڈ کرنے کی بجاۓ خواجہ صاحب کا بیان دلھاؤ !! تم عادی بہتان تراشوں کا پیشہ ور گروہ ھو ۔۔تم جیسے zombies کا پیچھا کرنا ، منہ توڑ جواب دینا اور محاسبہ کرنا کار خیر ھے ۔۔ اگر ھم نے کوئ بھی لوٹ مار کی ھے تو یہاں بھی اور آگے اسکی سزا ملے گے وگرنہ بہتان تراشی کرنیوالے کو اللّٰہ کریم تباہ کرے ۔ آمین
@KhSaad_Rafique میرے نزدیک آپ شروع ہی سے قابل احترام پولٹیشن رہے ہو ۔۔۔ طلبہ تنظیم کے نمائندہ کی حیثیت سے ایک پرانی ملاقات ماڈل ٹاؤن آفس میں غالباً 2003 میں اج بھی یاد ہے جو کہ اپ سے ہوئی گفتگو شاندار رہی ۔۔۔