@AbuMuavia2089@PTIofficial Agr tm Imran Khan pr ye lanat plt rhy ho wo bhe is cypher pr to is k mamly agr tm jhooty ho to ALLAH PAK tm pr ye lanat wapis plt de. Aamen
@kukuking3@PTIofficial Jesa k tm ny 1 asi jhooti bnai hoi fake or out of contest video lagai a or tm pr is ka azab ho agr ye kisi bhe jhoot ko promote krny k liye bnai gai ha to tm is ka wazan uthao akhirat mein. Aamen
Amazing! Powerful Article by a John Hopkins University Professor that argues, after her recent visit to Pakistan, that how neat, clean and shining army structures contrast with dirt, squalor & hopeless lawlessness of civil life in Pakistan and what it all means? Must Read! Must retweet! https://t.co/RmqGG2akxr
@siasatpk Sir, you're the one who started @ImranKhanPTI, We appreciate your concerns for us, but your old decision of KPK has been copied by the form 47 punjab government this year.
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو!!
“آٹھ فروری کو ملک بھر بشمول پنجاب،سندھ اور صوابی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پر عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس ننگی فسطائیت کے دور میں بھی عوام ہر مرتبہ میری کال پر خوف کے بت توڑ کر نکلتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قوم اب ہر حال میں حقیقی آزادی کی منتظر ہے۔ اردلی حکومت اندر سے ڈری ہوئی ہے۔ ملک بھر میں چھاپے مارے گئے اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کرکٹ کا بہانہ بنا کر ہمیں مینار پاکستان جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کھوکھلی حکومت اندر سے کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
میں نے آرمی چیف کے نام خط ملک کی بہتری کے لیے نیک نیتی سے لکھا تھا۔ یہ میرا ملک ہے اور مجھے اس کی فکر ہے۔ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو کہنا چاہتا ہوں کہ فوج کی ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔آپ کہتے تو یہ ہیں کہ ہم سیاست میں مداخلت نہیں کرتے مگر بچہ بچہ واقف ہے کہ ملک کا نظام آرمی چیف ہی چلا رہا ہے۔ ملک پر محسن نقوی جیسے ٹاوٹس مسلط کر دئیے گئے ہیں جس نے کبھی کونسلر کا انتخاب نہیں لڑا، مگر اب وہ کرکٹ سے لے کر خارجی اور داخلی معاملات تک ہر چیز کا کرتا دھرتا ہے۔
ملک میں ہر جانب جبر و فسطائیت کا بازار گرم ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی خودمختاری کا جنازہ نکال دیا گیا۔ قاضی فائز عیسیٰ تاریخ کے جانبدار اور بے شرم ترین چیف جسٹس تھے جن کا کردار جسٹس منیر سے بھی زیادہ گھناونا تھا۔ ان کے دور میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا، انسانی حقوق بری طرح پامال ہوئے مگر انہوں نے بجائے کوئی ایکشن لینے کے، ہر غیر قانونی اقدام کی سہولتکاری کی۔ ملک میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق دونوں بری طرح پامال ہیں۔ انتخابات کے نام پر ڈھونگ رچا کر عوام سے ان کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر اور قاضی فائز عیسیٰ اس سب میں اسٹیبلشمنٹ کے سہولتکار بنے رہے۔ ان دونوں چہروں نے اپنے عہدوں اور عوام سے غداری کی۔ اس سب کے نتیجے میں جعلی ایم این ایز، جعلی پارلیمان جعلی وزیراعظم اور جعلی صدر کا وجود عمل میں آیا ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ کا کام اب آئینی بینچ سے لیا جا رہا ہے۔ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے۔ ججز کا یہ فرض ہوتا ہے کہ دو طرفہ مؤقف سنا جائے مگر یہاں ایک ہی طرف کا مؤقف سن کر فیصلے سنا دئیے جاتے ہیں۔
جسٹس یحیٰی آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جو ملک میں انسانی حقوق اور قانون کا حال ہے آپ کو اس کے خلاف کھڑے ہو کر تاریخ میں سرخرو ہونا چاہیئے اور قاضی جیسا شرمناک کردار ادا نہیں کرنا چاہیئے۔
پیکا کے کالے قانون کے ذریعے میڈیا اور سوشل میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔انٹرنیٹ کا جو حال کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔معیشت کو 1.7 بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔ملک میں brain drain تیزی سے جاری ہے۔17 لاکھ افراد بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔معاشی تباہی اور بے روزگاری سے پوری قوم پریشان ہے۔
ہم نے 9 مئی اور 26 نومبر پر کمیشن کا مطالبہ اسی لیے کیا تھا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ مذاکرات صرف ایک ڈرامہ ہیں۔ آٹھ فروری پر کمیشن بنانا تو ان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو 9 مئی اور 26 نومبر پر کمیشن بنا کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرتے کیونکہ یہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات تھے اور فوری طور پر ان پر ایکشن لیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ 26 نومبر کو اسٹیبلشمنٹ نے گولیاں چلوا کر نہتی عوام کا قتل کیا۔
ملک کے سب سے بڑے منی لانڈررز کو قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ 30 سال سے خفیہ ایجنسیاں ہمیں بتا رہی تھیں کہ ملک کو ان دو خاندانوں نے کس طرح لوٹا۔ سرے محل اور مے فئیر فلیٹس کی فائلیں انہوں نے ہمیں خود دکھائیں۔ نیب نے 1100 ارب ریکور کرنے تھے۔ ہمارے دور میں 480 ارب ریکور کیے گئے کیونکہ ہم احتساب کو لے کر سنجیدہ تھے جبکہ پچھلے 17 سال میں صرف 80 سے 90 ارب ہی اکٹھے ہو سکے۔ نیب ترامیم کر کے ان دو خاندانوں کے تمام مقدمات بند کر دیے گئے۔ مقصود چپڑاسی، مے فئیر، ون ہائیڈ پارک میں رشوت، اومنی گروپ سمیت تمام مقدمات بند کر دیے گئے۔ ہمیں خود ہی بتایا گیا کہ یہ لوگ کرپٹ ہیں اور اب دھاندلی کے ذریعے ان کو ہم پر مسلط کر دیا گیا صرف اس لیے کیونکہ بوٹ پالشی ان کی مہارت ہے۔ پاکستان کی عوام جن چہروں کو مسترد کر چکی ہے ان کو حکومت دے کر فوج نے اپنی ساکھ تباہ کر لی ہے اور عوام میں نفرت پیدا کی ہے۔ اس جعلی نظام کی بقاء صرف تحریک انصاف کو کچلنے اور ہمارے لوگوں کو جیلوں میں رکھنے میں ہے تاکہ اردلی حکومت قائم رہے اور انتخابی فراڈ سامنے نہ آئے۔ آپ کوئی بھی سروے کروا کر دیکھ لیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عوام اور فوج کے درمیان خلیج کس قدر بڑھ چکی ہے۔ 1/2
Second Open Letter to the Chief of Army Staff by Former Prime Minister Imran Khan - February 8, 2025
“I wrote an open letter to the Chief of Army Staff (you) with sincerity and in the best interest of the nation, aiming to bridge the widening gulf between the military and the people. However, the response to my letter was highly dismissive and irresponsible.
I am the former Prime Minister of Pakistan and the leader of the country’s largest and most popular political party. I have spent my entire life elevating the name of Pakistan on the global stage. 55 years of my public life since 1970 and what I earned in the last 30 years is all transparent for everyone to see. My life and death are inextricably linked to Pakistan.
My concern is for the perception of our army and the serious consequences of the growing divide between the people and their armed forces, which is what prompted me to write the letter.
I highlighted six key points in my letter, and if public opinion is sought, 90% of the people would agree with them.
The manipulation of election results through pre-poll rigging orchestrated by intelligence agencies, the forced passage of the 26th Constitutional Amendment in Parliament at gunpoint to take control of the judiciary and appoint handpicked judges, the imposition of draconian legislation like the amendments to PECA laws to silence dissent, the economic devastation caused by political instability and the rule of force, the persistent targeting of the largest political party through state terrorism, and the engagement of state institutions in political engineering and victimization instead of fulfilling their constitutional duties, are all deepening the rift between the people and the military.
The army is a vital institution of the country, but a few black sheep within it are causing severe damage to its reputation. One such individual, a colonel stationed at Adiala Jail, is blatantly violating the constitution, the law, and prison regulations while trampling on human rights. He disregards court orders with impunity and behaves like an 'occupying force'. The former, conscientious, Superintendent of Adiala Jail, Akram, was abducted and tortured for upholding the law and ensuring adherence to prison rules. Now, the entire prison staff is being intimidated. Under the orders of this colonel, in blatant violation of fundamental rights, the prison administration has subjected me to relentless persecution to exert pressure on me.
I was placed in solitary confinement in a death-row cell for 20 days, where even the light of the sun could not reach. Electricity to my cell was cut off for five consecutive days, leaving me in total darkness. My exercise equipment, television, and even access to newspapers was taken away. Even outside those 20 days, books are arbitrarily withheld, or I am placed in lockdown again for 40 hours at a time. In defiance of court orders, I have only been allowed to speak to my sons three times in the last six months, depriving me of my fundamental and legal rights.
My party members travel long distances to visit me, yet they are denied access despite court directives. In the past six months, only a handful of individuals have been allowed to meet me. Despite clear orders from the Islamabad High Court, I am not permitted to meet my wife, who is also in solitary confinement.
The forced passage of the 26th Constitutional Amendment was aimed at controlling the judiciary, recruiting handpicked judges, and suppressing election fraud and human rights violations. My legal cases are being decided under extreme pressure. I have been sentenced in four cases through unlawful convictions. The pressure on judges is so intense that one judge’s blood pressure spiked five times, requiring hospitalization in the prison hospital. That judge confided in my lawyer that immense pressure was exerted from the "top" to convict me and my wife. 1/2
@shesan2@Usman_Ch92@ImranRiazKhan Ok, but I believe everyone in this world has this type of mindset. But we need to figure it out with clarity, logic, and sense. We can debate if you want... because I felt something wrong ...
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو:
“پاکستان اس وقت ٹاوٹس کے قبضے میں ہے۔ ایک ایسا ٹاوٹ سکندر سلطان راجہ بھی تھا جو 2024 الیکشن چوری کا سرغنہ ہے اور اس پر آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔ محسن نقوی کے پاس ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے جو اس پر عہدوں کی بارش کی گئی ہے۔ اشاروں پر ناچنے والا ایک عقل سے عاری شخص کرکٹ سے لے کر خارجہ اور داخلہ امور سمیت سیکورٹی معاملات کا ماہر کیسے ہو سکتا ہے؟
پاکستانی قوم اپنے مینڈیٹ پر ڈالے گئے تاریخی ڈاکے کے خلاف 8 فروری کو پورے ملک میں نکلے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے- صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی جو پاکستان کے ہر ادارے کو تباہ کر رہی ہے-
میں عدلیہ کی آزادی کے لیے دی گئی 10 فروری کی پاکستان بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور وکلاء کی کال کی بھی حمایت کرتا ہوں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کے بغیر کسی قسم کا استحکام ممکن نہیں ہے اور قانون کی حکمرانی آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔
جو حالات ہیں اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ موجودہ نظام جمہوریت کے خلاف باقاعدہ برسر پیکار ہے، اور روز ایک ایسا نیا اقدام اٹھایا جاتا ہے جو جمہوریت کی روح کے عین منافی ہو۔ روایتی میڈیا تو پہلے ہی بوٹوں کے نیچے ہے۔ اب پیکا کا کالا قانون منظور کر کے عوام کے حق رائے دہی کا واحد ذریعہ یعنی سوشل میڈیا پر بھی مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ یہ زبان بندی کی قبیح ترین کوشش ہے اور پاکستان کو بین الاقوامی پابندیوں سے قریب تر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پیکا کا قانون اگر لاگو کرنا ہی ہے تو سب سے پہلے شہباز شریف پر لاگو کیا جائے جنہوں نے ملکی تاریخ کے سب سے دھاندلی زدہ انتخابات کو فری اینڈ فئیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے 26 نومبر کے قتل عام کو بھی جھٹلایا اور یہ کہا کہ کوئی گولی نہیں چلی نہ ہی کوئی شہادت ہوئی لہذا پیکا قانون کے تحت سب سے پہلی سزا شہباز شریف کو ملنی چاہیئے۔
بددیانت لوگ کبھی نیوٹرل امپائرز نہیں چاہتے۔ رجیم کیونکہ خود 26 نومبر اور نو مئی کے واقعات میں ملوث ہے اس لیے ان سے شفاف جوڈیشل کمیشن کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ہم جوڈیشل کمیشن کا قیام صرف اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ ہم انصاف کے متلاشی ہیں۔ جو مجرم ہیں وہ نہیں چاہتے کہ حقیقت سامنے آئے۔
اٹھارویں ترمیم کے تحت کسی بھی صوبے کے آئی جی اور چیف سیکرٹری کی تقرری صوبائی حکومت کی صوابدید ہے۔ ایک مرتبہ پھر آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے صوبائی حکومت کے دئیے گئے تین ناموں کو اپنے “پاکٹ لاز” کے ذریعے ردی کی ٹوکری میں پھینک کر خیبر پختونخوا میں وفاق کی مرضی کا آئی جی انسٹال کر دیا گیا۔ میں علی امین کو خصوصی ہدایت کر رہا ہوں کہ صوبے کی عوام کے حقوق کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے۔ ملک کے باقی تینوں صوبوں میں پہلے ہی ہمارے کارکنان کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے اگر خیبرپختونخوا میں بھی ہمارے کارکنان کو یہ سب برداشت کرنا پڑا تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ پر ہو گی۔ ہمارے کسی ورکر کے خلاف کوئی زیادتی ہوئی تو فوری ایکشن لے کر آئی جی کو فارغ کرنا ہے۔”
I offer my heartfelt condolences to the Ismaili community and to the family of HH Prince Karim Aga Khan following his passing. He was a great friend of Pakistan, and his contributions in the fields of health, education, architecture, welfare, and socio-economic development in Pakistan and around the world will be his lasting legacy.
We stand with the Ismaili community of Pakistan in this time of mourning.