جن کی انکھوں کی نس سکھ گئی ہو انکے لیے اس بھائی نے ایک فارمولا بتایا ہے اور دعویٰ کیا کہ کہ اگر کوئی اس پر عمل کرے گا تو اس کو انکھوں سے نظر انا شروع ہو جائے گا
فارمولا کیا ہے؟
اس ویڈیو کو اخر تک دیکھیں اس میں سب کچھ بتایا گیا ہے۔
کیا اپ نے پہلے بھی اس کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟
🛑 بریکنگ وائس میسجز منظر عام پر 🛑
450 سے زائد وکٹمز ، 5 قتل اور بلاسفیمی بزنس گروپ کی مرکزی کردار ایمان نامی ہنی ٹریپنگ لڑکی کی تصاویر اور ویڈیوز کے بعد واٹس ایپ وائس میسجز بھی منظر عام پر آگئے۔
خود سنیں کیسے ہنی ٹریپ کیا جاتا ہے 👇
#StopBlasphemyBusiness#400Lives #400Families #WeAreNotInsects #WeWantJustice
بارشوں، مون سون اور سیلابوں کا موسم ہے پہلے تو سب سے گزارش ہے کہ خدارا حکومتی احکامات اور اعلانات پر عمل کیا کریں وہ آپکو نقصان سے بچانے کیلئے ہوتا ہے دوسرا اگر کوئی ایسے حالات میں پھنس جائے تو ریسکیو کے پہنچنے سے قبل یہ آسان طریقہ اختیار کر کے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو بچائیں
( میرے تو آنسو ہی نکل گئے پڑھ کر )
اگر آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ھے اپنے ان بہن بھائیوں کو مت بھولیں جنکے ساتھ آپکا بچپن گزرا ھے اور اپنے والدین کے احسانات کو کبھی فراموش مت کریں
👇👇😐پاٹ 1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کے اڈیالہ جیل میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات:
"ہمارا احتجاج بالکل مؤخر یا معطل نہیں ہو گا۔
اگر مذاکرات میں ہمارے تین مطالبات کے حوالے سے بات ٹھوس انداز میں آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد میں ہمارا احتجاج celebrations میں بدل جائے گا۔ جمعے سے ہمارے قافلے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے نکلنا شروع ہو جائیں گے!
تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ہم نے احتجاج اور مذاکرات کے لیے اپنا تین نکاتی ایجنڈا دیا ہوا ہے۔ جب دوسری پارٹی اپنے نکات سامنے رکھے گی تو بات کریں گے۔ مذاکرات ان کے ساتھ ہوں گے جن کے پاس طاقت ہے۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ طاقت کس کے پاس ہے؟
فروری کے بعد میں نے دو کالز دی ہیں۔ چار اکتوبر کو صرف اپنی پارٹی کو نکلنے کی کال دی اور چوبیس نومبر کو پوری قوم کو نکلنے کی کال دی ہے۔ کیونکہ یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی تحریک ہے-
ملک آئین کے تحت نہیں چلایا جا رہا۔ اگر ملک آئین کے مطابق چلتا تو ملک کی سب سے بڑی جماعت کو نشانہ نہ بنایا جاتا۔
تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ ہمارا نشان تک چھین لیا گیا اس کے باوجود ہم 8 فروری کو ہونے والا الیکشن دو تہائی اکثریت سے جیتے۔ الیکشن فراڈ کو ہوئے ہوئے دس مہینے گزر گئے ہیں اتنا عرصہ گرنے کے باوجود الیکشن ٹربیونلز نے اور خصوصاً پنجاب میں کتنے کیسیز کا فیصلہ کیا ہے؟
ہمارے ورکرز اور رہنماء ڈیڑھ سال سے جھوٹے مقدمات میں بغیر کسی ثبوت کے جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انکی ضمانتیں کیوں نہیں لی جاتیں؟
کہا جاتا ہے کہ میں نے فوج پہ حملہ کرنے کی بات کی۔ میری ویڈیوز موجود ہیں میں نے کبھی کسی پہ حملہ کی ترغیب نہیں دی۔ جب نو مئی کو رینجرز کی طرف سے مجھے غیر قانونی طور پہ اغوا کیا گیا تو اس کے مناظر عوام کے سامنے آئے جس پہ ردعمل آیا۔ میں تو ان کی تحویل میں تھا، مجھے کیسے علم ہوتا کہ باہر کیا کیا ہوا؟
نہتی عورتیں، بچے فوج پہ کیسے حملہ آور ہو سکتے ہیں؟ کیا یاسمین راشد ٹینک پہ سوار تھیں جو انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کر دیا؟ ان کی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں مسلسل پرامن رہنے کی تلقین کر رہی ہیں-
صرف ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ Political Engagement ہونا لازم ہوتا ہے- ملک میں صرف تحریک انصاف ہی واحد وفاقی پارٹی ہے جو کہ دہشت گردی کے مسئلے سے سیاسی طور پہ نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ملک کو صرف عوامی مینڈیٹ رکھنے والی سیاسی قوتیں ہی اکٹھا رکھ سکتی ہیں۔"
“ہمارے تین مطالبات ہیں:
26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ اور آئین کی بحالی
مینڈیٹ کی واپسی
تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی
24 نومبر کا احتجاج نہ مؤخر ہو گا نہ معطل ہو گا-
آج علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے احتجاج کی تیاریوں پر بریفنگ دی- میں اپنے پارٹی عہدیداران، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ورکرز اور سپورٹرز کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے اور علاقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
ہم ملک کی خاطر ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں- جس دن احتجاج کی کال دی تھی اسی دن لیڈرشپ کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی- مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری لیڈرشپ کمیٹی ان سے ہمارے تین مطالبات کے مطابق مذاکرات کرے گی- اگر مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں تو اسے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے!!
ملک میں کئی دہائیوں بعد نظریاتی سیاست واپس آگئی ہے- 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کراکے نظریاتی سیاست کا جنازہ نکالا گیا تھا اور تب سے سیاست میں پیسہ چلنا شروع ہوا، غیر جماعتی بنیادوں پر سیاست ہوئی اور ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز ملنے شروع ہوئے- 8 فروری کے بعد تحریک انصاف بطورِ نظریاتی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے- لوگوں نے پارٹی ٹکٹ اور نظریے کو ووٹ دیا ہے- الیکٹیبلز کی سیاست ختم ہونا خوش آئند بات ہے- تحریک انصاف کے تمام لوگ پارٹی ٹکٹ پر جیتے ہیں کیونکہ یہ نظریے کی لڑائی تھی- میں خود بھی نظریے کی وجہ سے جیل میں ہوں-
ڈاکٹر یاسمین راشد ایک بیان دیتیں تو وہ بھی عندلیب عباس کی طرح باہر آ جاتیں، شاہ محمود قریشی ایک بیان دیتے تو وہ بھی باہر آ سکتے تھے، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت ہمارے لیڈرز اور کارکنان بھی آسان راستے کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نظریے کا سودا کرنے سے انکار کیا- اب ہماری جماعت انقلابی جماعت بن چکی ہے، انقلاب ہی ملک کو مسائل اور دلدل سے نکال سکتا ہے-
24 نومبر کو جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائے گا، پارٹی میں چاہے کوئی کتنا بھی پرانا ہو، باہر نہ نکلا تو اسکی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی- یہ احتجاج ٹیسٹ ہے پارٹی اور پارٹی لیڈرز کیلئے- مطالبات کی منظوری تک احتجاج اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا!“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو
یہ محترمہ اینکر طلعت حسین کے ٹاک شو کی کانٹینٹ پروڈیوسر ہیں۔
رپورٹر کے سوال پوچھنے پر وہ اپنے ملک کے صوبے بلوچستان کے تین شہروں کے نام تک نا بتا سکی۔
یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ طلعت حسین اپنے شو میں دن رات شرفاء کی پگڑیاں کن معلومات کی بنا پر اچھالتا ہے
ایک 18سال لڑکی برطانیہ کی مسجد میں شیخ محمد الجہانی کے ساتھ اپنی مرضی سے اور بغیر کسی مجبوری کے شیخ محمد الجہانی کے ساتھ بیٹھی شیخ کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ اپنے اسلام ک اعلان کریں اور دین کی تعلیم دیں ہم اللّٰہ سے استقامت اور نفع بخش علم کی دعا کرتے ہیں
آمین یارب العالمین