یہ وہ شخص ہے جسکی دعا ہر نماز کے بعد ٹی وی پر چلتی تھی اور بچپن سے لیکر ابتک سنتے ارہے ہیں ۔۔
اج اس کو دیکھ بھی لیں ۔۔رب تعالی نے کتنی خوبصورت اواز دی ہے ۔۔
سنیے اس خوبصورت انسان کی کہانی کون ہےاور کیا کرتے ہیں ۔۔
14 اکتوبر 2026 کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں ایک مسجد کے اندر مبینہ طور پر جنسی عمل کرنے کے جرم میں بنگلہ دیش کے نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کو سزائے موت دے دی گئی، اور ان کی لاشیں بنگلہ دیش بھیج دی گئی ہیں۔
اس معاملے کو لے کر جھوٹی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ کوئی انہیں میاں بیوی بتا رہا ہے، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی بھی ہے، جبکہ کچھ لوگ انہیں حجاج قرار دے رہے ہیں۔
یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا، اس بارے میں سعودی عرب کی حکومت نے کسی کو کوئی معلومات نہیں دیں اور مکمل رازداری برقرار رکھی گئی۔ تاہم، بنگلہ دیشی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، نذرالاسلام نومبر 2022 میں کلینر کے طور پر کام کرنے کے لیے سعودی عرب گیا تھا، جبکہ سیتی اختر بھی وہیں سعودی عرب میں کام کر رہی تھیں۔
نذرالاسلام کے سعودی عرب آنے کے تقریباً چھ ماہ بعد، مئی 2023 میں سعودی سکیورٹی فورسز نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر مبینہ طور پر غیر اخلاقی حرکت کرتے ہوئے سیتی اختر اور نذرالاسلام کو گرفتار کیا تھا۔
واضح رہے کہ 2023 میں حج کا آغاز 19 جون کو ہوا تھا۔ یومِ عرفہ 27 جون کو تھا، جبکہ عیدالاضحیٰ 28 جون کو منائی گئی تھی۔
گرفتاری کے بعد دونوں نے سعودی جیل میں تین سال سے زیادہ عرصہ گزارا۔ اس دوران اس حساس معاملے کی قانونی تحقیقات ہوئیں اور جدہ کی عدالت میں تین سال تک مقدمے کی سماعت جاری رہی۔
عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے اور شاہی حکم جاری ہونے کے بعد، 14 اکتوبر 2026، بروز بدھ، مکہ ریجن میں دونوں کو پھانسی دے دی گئی۔ پھر 18 اکتوبر کو ان دونوں کی لاشیں بنگلہ دیش بھیج دی گئیں۔
درحقیقت، مقدس شہر مکہ مکرمہ کی ہر مسجد کا اپنا احترام ہے، کیونکہ ان میں سے ہر مسجد کسی نہ کسی حوالے سے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی تاریخ اور آپ سے وابستہ واقعات کی یادیں سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی لیے مکہ کی مساجد کے لیے خصوصی ضابطے مقرر ہیں.
سعودی عرب کے ’’پبلک ڈیسینسی قانون‘‘ (Public Decency Law) کے تحت عوامی مقامات، جن میں مساجد بھی شامل ہیں، پر فحش اور جنسی نوعیت کے رویے پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
لیکن مکہ کی مساجد میں، بالخصوص جنسی نوعیت کی فحش حرکت کے ذریعے مسجد کے تقدس کی پامالی کا معاملہ ’’تعزیر‘‘ کے تحت انتہائی سنگین ہو جاتا ہے، اور اس کی سزا موت تک ہو سکتی ہے، جیسا کہ بنگلہ دیشی جوڑے کے معاملے میں ہوا۔
سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے سرکاری بیان کے مطابق، نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’’فعل الفاحشہ‘‘ یعنی سنگین نوعیت کی جنسی فحش حرکت کا ارتکاب کیا تھا۔
جبکہ بعض رپورٹوں میں اسے ’’جنسی بے راہ روی‘‘، ’’فحش کاری‘‘ یا ’’زنا‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ ایک دو میڈیا رپورٹوں میں ’’مسجد کے اندر جنسی تعلق قائم کرنے‘‘ کا ذکر بھی آیا ہے۔
زیادہ تر معتبر رپورٹوں میں اس واقعے کو مسجد کے اندر جنسی تعلق قائم کرنے یا ناجائز جنسی فعل کے طور پر سمجھا اور رپورٹ کیا گیا ہے۔
بتائیے، کیا یہ لوگ یہ سب کرنے کے لیے مکہ گئے تھے؟ حد ہے!
مسجد کے تقدس اور مقام، دونوں کی پامالی کے باعث، تعزیری قانون کے تحت زنا کے الزامات ثابت ہونے پر حکومت نے انہیں سزائے موت دے دی۔
بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ، شاما عباید اسلام نے 17 اکتوبر 2026 کو بتایا تھا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی مشن کے لیبر ونگ کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا تھا، جس میں بتایا گیا کہ یہ دونوں مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’’زنا‘‘ میں ملوث تھے۔ ان کے خلاف تین سال تک مقدمہ چلا اور مجرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت دے دی گئی۔
اور ہاں، یہ دونوں میاں بیوی بھی نہیں تھے۔
باڑہ میں دہشتگردوں کا تھانے پر حملہ ، باجوڑ میں دہشتگردوں نے 3 بھائی قتل کر دیے ، پشاور میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے بچوں کا اغوا ہوا اس کے علاوہ دہشتگردی کے کئی واقعات ہو رہے ہیں حالات میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے سے تو بہتری آنی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہو سکا
@pasha_samina
یمن میں مار گرائے گئے سعودی AH-6i ہیلی کاپٹر کے دونوں ہلاک شدہ پائلٹوں کی شناخت علی ابراہیم علی الطلحہ اور عبدالعزیز عید ہرسان المسرادی کے نام سے ہوئی ہے۔
Lahore police have detained my aunt, Aleema Khan, without disclosing her location or permitting contact with her family and legal counsel.
Suppressing political opposition by targeting family members, denying due process, and intimidating households violates fundamental constitutional rights. Following the unlawful imprisonment of my father, the authorities are now systematically targeting his immediate family.
We demand:
Immediate disclosure of her whereabouts.
Unrestricted access for her legal representatives and family.
Her immediate and unconditional release.
The international community and human rights organizations must hold the Pakistani authorities accountable for these persistent violations of due process and the rule of law.
@Aleema_KhanPK@PTIofficial
Thank you, @BorisJohnson, for speaking up for Imran Khan’s health, safety, and unjust incarceration. Raising a voice for basic human rights and justice in these critical times means a lot.