🚨اہم ترین خبر ، پی ٹی کا میڈیا انڈیا چلا رہا ہے
پی ٹی آئی کے لیڈر روؤف حسن سے جج مرید عباس نے سوال کیا کہ آپکا انڈیا سے ویزہ یا ٹکٹ بھی آیا ہے؟
جج مرید عباس نے روؤف حسن سے سوال کیا کہ آپ کبھی انڈیا گئے ہیں؟
راحول نامی بندے کے ساتھ آپ کی بات چیت کا ریکارڈ ہے اس کا اقرار کرتے ہیں؟
رؤوف حسن نے اقرار کرتے ہوئے کہا جی راحول یوکے میں رہتا ہے اس نے گیسٹ اسپیکر کے طور پر مجھے دسمبر 2023 میں بحرین بلایا تھا
یہ نواز شریف کا دور تھا ، دنیا کے بہترین اخبارات کی یہ ہیڈنگ چیخ چینج کر بتا رہی تھیں کہ آئی ایم ایف کو گڈ بائے کہہ دیا ایشا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی معیشت تھی خوشحالی تھی ڈالر سو روپے پیٹرول 67کا تھا مگر پھر مائنس نواز کا دورہ پڑا اور ملک کا جو حال ہوا آج تک سنبھل نہی سکا
اس الیکشن میں دوبارہ مائنس نواز گیم ہوئی بلاول نے الیکشن میں صرف نواز شریف کو ٹارگٹ کیا میڈیا کا ہدف بھی نواز شریف تھا مگر افسوس اس دفعہ مائنس کرنے والوں میں اپنے شامل تھے
جب بھی قوم کے سامنے حقائق آئے تو سمجھ لگے گی گیم ہوئی کیا اب یہ تباہی کہاں جا کر رکے گی یہ وقت بتائے گا
اپنی سیاسی رائے کو حق اور دوسروں کی رائے کو باطل سمجھنے اور اختلاف رائے کا احترام نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ بعض لوگ گمان کرتے ہیں اُن کی سوچ تو محض سوچ ہے لیکن دوسروں کی سوچ کسی مفاد سے وابستہ ہے اور اُن کے لیڈر سے اختلاف صرف اختلاف رائے نہیں بغض ہے 🤷🏻♂️
🚨بریکنگ نیوز:🚨
آخر عدلیہ نے کڑک توڑ دیا
9 مئی کے مقدمات میں ملوث MPA کلیم اللہ سمیت 51 ملزمان کو پانچ پانچ برس قید کی سزا سنا دی گئی۔.*
*گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے دہشت گردوں کو سزا سنا
مُلک سرمائے سے چلتے ہیں اور جنگیں ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہیں۔ غیرت اور جذبہ سے صرف سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلتے ہیں۔ اچھی حکمت عملی کم سرمائے اور کم ہتھیاروں سے کامیابی حاصل کرنا ہے۔ بے تیغ لڑنے والی باتیں صرف شاعری ہےاور غیرت کے نعرے محض نعرے ہیں۔
چھ ججوں پر اتنا دباو تھا کہ ہزار قیدیوں میں سے صرف ایک قیدی کو ورزش کے لیے سائیکل فراہم کر دی۔۔
35 لاکھ کے دیسی مرغے ، دُنبے اور کھانا فراہم کر دیا۔۔
ملاقاتیوں کی ایک لمبی فہرست اور ملاقاتوں کی سہولت کاری
جیل میں خصوصی یونٹ بھی تعمیر کروا دیا۔۔
واہ۔۔۔ یہ دباؤ تھا۔۔یا۔۔ لگاؤ ؟؟؟
دنیا بھر میں تلاوت قران کے ذریعے پاکستان کا نام بلند کرنے والے حافظ محمد ابوبکر کی ایک اور ویڈیو وائرل ۔ خوبصورت آواز اور انداز نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ کھینچ لی۔
اطہر من اللہ کا چمچہ ثاقب بشیر شوق اشتیاق میں اگر وقت سے پہلے چھ ججوں کے خط کا لاوا نا پھاڑتا تو شاید ڈرامہ چار دن چل جاتا بس اسی بات کے پکڑنے جانے پر ہر گنڈھ بچہ یوتھیا نکل کر میرے پیچھے پڑ گیا ہے
اصل کہانی یہ کہ ثاقب بشیر کو پہلے کیسے پتہ تھا ؟
سارا دن یوتھیے ہمیں بتاتے کہ محسن نقوی کی کزن چیف آف آرمی سٹاف کی بیگم ہے اور اصل الیکشن چور محسن نقوی ہے لگتا ہے اب شرط یہ رکھی گئ کہ محسن نقوی کا گوڈا پکڑو ناک رگڑو فر پیسے ملیں گے
گوڈا کون سا یہ راجہ کبیر بتائے گا
او یوتھیو زندہ او 😜
https://t.co/IJvvmTJUyL
جب اس جج کو کسی نے دباؤ میں لایا تھا تو ان کا کام فورا نوٹس جاری کرنا تھا یہ کوئی سکول کے بچے ہیں جنہیں اپنے اختیارات کا علم ہی نہیں اور یہ عدالتی سیاست ہے جو اپنے عروج پر ہے
راوی آپکی راتی وی کوئی نہیں جمیا
ملک میں اس وقت دہشت گردی کا مسئلہ ہے کبھی تربت میں کبھی شانگلہ میں حملے ہو رہے ہیں اور اس دوران ججوں کا خط لکھنا ایک سیاسی چال ہے پہلے یہی جج بغض سے بھرے ہوئے فیصلے کرتے رہے ہیں۔
جب میں نے فوجی مداخلت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تھا تو یہی ججز جو آج خط لکھ رہے ہیں مجھے “ پشانتے “ نہیں تھے
دو منٹ میں خط لکھنے والے ججوں کی منجی چونک میں پہنچانے پر مورخ شوکت صدیقی کو فرشی سلام پیش کرتا ہے
https://t.co/z2AVDgFMJv