جمعیۃ علماء اسلام کی جانب سے ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان،
25 اپریل کو بلوچستان سے تحریک کا آغاز کریں گے.
2 مئی کو کراچی میں 9 مئی کو پشاور میں عوامی اسمبلی کے انعقاد کا اعلان
#مولانا_کی_عوامی_اسمبلی
کوئی ملک پاکستان کے ساتھ رحم دلی کریں اور علماء کی
حکومت پر زور دیں تاکہ اس اقوام متحدہ
کے ارکان میں ہمارے علماء شامل ہوتو ہر بل
اسلام کی مفاد میں ہوگا انشاء اللہ ۔
#مولانا_کی_عوامی_اسمبلی
ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور انہیں مسترد کرتے ہیں،کیوں کہ یہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ کم اور اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ زیادہ ہے۔ #مولانا_کی_عوامی_اسمبلی
🌹 الشیخ مصطفی اسماعیل 🌹
قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مّنَ الۡجِنّ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَۚ وَاِنّىۡ عَلَيۡهِ لَـقَوِىٌّ اَمِيۡنٌ ۔
اس حصے کو پڑھنے کیلیے حاضرین مجلس بار بار درخواست کرتے رہے۔
اس حصے کو الشیخ مصطفیٰ اسماعیل (رح) کی غیر معمولی قرات کی عمدہ ترین مثالوں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ پچھلی چار دہائیوں میں ان گنت قراء نے شیخ مصطفیٰ اسماعیل (رح) کی تقلید میں اس حصے کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔
کچے کے ڈاکوؤں کےساتھ ایسا کب ہوگا ؟
🔴 ایل سلواڈور کے صدر نائب بوکیل نےملک کے شمال میں ڈاکو گینگ کی جانب سےدو شہریوں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں 5 ہزار فوجی بھیج کر گینگ کا مکمل طور پر صفایا کرنےکا حکم دے دیا۔
اب وقت آگیا ہےکہ پاکستان بھی کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف ایسا اقدام کریں
🇷🇺🇰🇬📞 On March 25, FM Sergey Lavrov spoke over the phone with FM of the Kyrgyz Republic Jeenbek Kulubayev.
The Foreign Minister of Kyrgyzstan offered his deep condolences in connection with the tragedy at the Crocus City Hall.
https://t.co/m3BeW8ARtC
*قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات*
المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے تازہ معلومات وصول ہوئی ہیں کہ کندھار حملہ مادیاروف اسدبیک نامی ایک شخص نے کیا جو وسطی ایشیا کے ایک ملک کا شہری تھا۔
کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ایک اور ساتھی کے ساتھ دو ماہ قبل پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں داعش خراسان میں شامل ہوا تھا۔
یہ دونوں پچھلے دو ماہ سے بلوچستان میں عقیدے اور فکر کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔
مادیاروف اسدبیک حملے سے چند روز قبل قندھار میں داخل ہوا اور پھر قندھار حملہ کیا۔
ذرائع کے مطابق صوبہ بلوچستان اب داعش خراسان کے ایک اہم مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اس صوبے میں داعشیوں کے خفیہ مراکز، تربیتی مراکز اور بارود بنانے کی ورکشاپس موجود ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ داعش خراسان کا سربراہ شہاب المہاجر خود بھی اور اپنے قریبی ساتھیوں سمیت صوبہ بلوچستان میں رہ رہا ہے اور اس جگہ سے افغانستان اور دیگر دنیا میں حملے ترتیب دیتا ہے۔
ایران میں کرمان حملہ بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے طارق اور عبد اللہ کے فرضی ناموں والے ایک تاجکستانی شہری نے ترتیب دیا تھا اور وہ اس حملے کے اہم منصوبہ سازوں میں سے تھا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں بھی داعشی فوج کے سیاسی مخالفین، مغرب مخالف دینی علمائے کرام اور پاکستانی بلوچ قوم پرستوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
حکمرانوں نے اہل #غزہ سے اظہار یکجہتی کو جرم بنادیا،
اسلام آباد پولیس نے میرے اور میری اہلیہ,سیو غزہ کمپین کی فاونڈر/ٹیم لیڈ حمیرا طیبہ @humairatayyaba اور #غزہ بچاو تحریک کے منتظمین کے خلاف 9 مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔جبکہ دھرنےکا ساؤنڈ سسٹم،گاڑی کو تھانے میں بند کردیا گیا ہے اور 3 کارکنان کو جیل بھیج دیا گیا۔میں حکومت پاکستان اور اسلام آباد پولیس کی اس فاشزم کی مذمت کرتا ہوں۔
یہ بدترین اسرائیل نوازی ہے۔حکمرانوں نے قائد کے پاکستان کو امریکہ کا پاکستان بنادیاہے۔یہ امریکی خوشنودی اور آئی ایم ایف کے قرض کیلئے ہورہاہے۔
فلسطین اور غزہ کیلئے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی کیخلاف یہ جھوٹے ایف آئی آرز اور حکومتی دھونس ہمیں آواز اٹھانے اور جدوجھد سے نہیں روک سکتی۔
@HamidMirPAK@SaveGazaPK@MOIofficialGoP@GovtofPakistan@CMShehbaz@pmofa@PakPMO
میں سمجھتا ہوں پاکستان میں حرام کی کمائی کے موجد ہمارے بددیانت دانشور ہیں اور جتھہ بندی ہے۔
جیسا کہ کوئی صحافی کتنا ہی بڑا بلیک میلر ہو کوئی کارروائی ہو سب آزادی صحافت کی آڑ میں اپنی برادری بچانے آ جاتے ہیں۔
فیصل آباد کے اس نوجوان کی ویڈیو سب نے دیکھ لی ، کیسے وہ موٹر سائیکل چلاتا آیا اور گلے میں ڈور پھر گئی ۔ وہ موٹر سائیکل سمیت گرا اور پھر اٹھا ۔۔ اس کے سفید کپڑوں پر موت کی حنا کے رنگ اتر رہے تھے ، کسی ماں کی کوکھ اجڑ رہی تھی ، کسی منتظر سہاگن کی مانگ سیندور کا رنگ بھرنے سے پہلے ہی بے رنگ ہو رہی تھی کہ عید کے بعد اس کی شادی تھی ۔۔۔
صرف سال دو سال ہوئے ہیں کہ اس بسنت کے حامی خونی لبرلز (خون آشام درندے اور موم بتی مافیا آنٹیاں)کی آوازیں کچھ ماند ہوئی ہیں وگرنہ کئی برس گزرے انہوں نے طوفان اٹھائے رکھا کہ بسنت منائی جائے ۔۔۔
پچھلا آمر مشرف ان کا پشت پناہ تھا اور تمام قوم کی شدید مخالفت کے باوجود کچھ برس ایسے گزرے کہ حکمرانوں نے بسنت منائی ۔۔ عالم یہ ہوتا تھا کہ موٹر سائیکل پر حفاظتی تار لگانا لازم قرار دیا تھا ۔۔ بالکل سعدی کے شعر کی منظر کشی تھی کہ وہ کہتے ہیں کہ ایک بستی کے باہر تھا کہ کتے پڑ گئے ، پتھر اٹھانا چاہا تو اس پتھر نے زمین چھوڑنے سے انکار کر دیا اور سعدی نے تاریخی جملہ لکھا کہ کیسی عجب بات ہے کہ پتھر بندھے ہوئے ہیں اور کتے کھلے ہیں ۔۔۔۔
سو ان دنوں شہری حفاظتی تار کے پیچھے چھپے ہوتے اور ڈور والے قاتل حکومتی سرپرستی میں کھلے ہوتے ۔۔۔ پھر جانے کتنی جانوں کی قربانی ہوئی اور جانے کتنی ماؤں کی گود خون رنگ ہوئی تو ان لبرل حکام کی پیاس بجھی اور یہ خاموش ہوئے ۔۔۔ خود پولیس نے ہاتھ کھڑے کر دئیے کہ اگر یہ بہتا خون روکنا ہے تو پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کردی جائے ۔۔۔ اس کے باوجود ابھی بھی یہ حادثہ ہو گیا ہے ۔
میں نے ایک بار اپنے ایک دوست کے بیٹے کا جنازہ پڑھا تھا ۔۔۔۔ سولہ برس پہلے میں اس جنازے میں تھا ، میں ان دنوں کچھ عرصے کو سمن آباد میں اسلامیہ پارک کے جوار میں رہائش پذیر تھا .ہمارے ہمسائے انجینیر اشفاق صاحب تھے .. متدین نمازی با شرع .. بیٹے کے ساتھ موٹر سائکل پر جا رہے تھے .. بیٹا پیچھے بیٹھا تھا ، ڈور آئی اور باپ کو چھوڑتی ہوئی پیچھے بیٹھے بیٹھے کو تاک لیا اور گلے کو کاٹتی چلی گئی ... سامنے سے آتی تو ممکن تھا باپ فوری سواری کو روک لیتا ..لیکن قیامت اب کے سامنے سے نہیں اوپر سے آئی اور باپ بیٹے کی بیچ میں ڈور گری ... باپ کو فوری معلوم ہی نہ پڑا کہ کیا قیامت گزر گئی ... موٹر سائکل روکی تو شہ رگ کٹ چکی تھی .... باپ بیٹا کو اٹھا کے ہسپتال بھاگا ....لیکن بیٹا تو جا چکا تھا اور گئے لوگ بھی بھلا واپس آتے ہیں - آٹھ نو برس کا سرخ سپید بیٹا لاش کی صورت باپ کے ساتھ گھر آ گیا .. میانی صاحب قبرستان کی جناز گاہ میں باپ نے خود جنازہ پڑھایا ..کمال ضبط کہ جو دین سے گہری وابستگی کی خبر دے رہا تھا ..لیکن باپ تھا ، کیسا بھی ضبط ہو درد سے تو چھٹکارا نہیں .... میں آج تک اس جنازے کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا .. باپ کی آواز میں ایسا درد تھا ، ایسا سوز ، اتنی تڑپ کہ میں کئی روز تک بے چین رہا اور اپنی اہلیہ سے اس کا تذکرہ کرتا رہا -
پھر انہی دنوں کا ایک اور قصہ سناتا ہوں ...ہم بھول جاتے ہیں نا ، ہماری یادداشت بہت کمزور ہے ..یہ نعمت ہی تو ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں اور جو بھولتے نہیں وہ میری طرح رات رات بھر بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں ، اپنی جان کو جلاتے رهتے ہیں ...وہ اپنے باپ کا اکیلا بیٹا تھا اور ایک ہی بیٹی ...انجیبرنگ یونی ورسٹی لاہور میں گزیٹڈ آفیسر باپ .... زندگی اچھی گزر رہی تھی ، امیدیں جوان ہو رہی تھیں - دو ہی بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی - دونوں بچے اب جوان ہو چلے تھے پڑھ لکھ رہے ، ماں باپ کی آنکھوں میں امید کے دیپ زیادہ ہی روشن تھے کہ منزل اب قریب تھی ....بیٹی کا امتحان تھا ، بھائی اسے لے کر کر جا رہا تھا ..لاہور سٹیشن سے ذرا آگے ریلوے پل ہے جسے گڑھی شاہو کا پل کہتے ہیں .... وہاں ڈور آئی اور نوجوان کا گلا کاٹ گئی ... موٹر سائکل گری تو پیچھے سے ٹرک چڑھا آ رہا تھا ...دونوں بچے کچلے گئے اور جان کی بازی ہار گئے .... عمر بھر کی کمائی برسوں میں ختم ہو گئی ..اور ہاں ایک اور بات بھی بتا دوں جو اخبار میں نہ آ سکی ... کیونکہ واقعہ پرانا ہو چلا تھا خبر آ کے گذر گئی تھی ....مجھے ایک واقف حال نے برسوں بعد بتایا کہ وہ باپ پاگل ہو گیا تھا ....
از۔ ۔ قدوسی