نواز شریف کے والد میاں شریف ایک جینوئن industrialist تھے اور انھوں نے بڑی محنت کر کے اتفاق فاؤنڈری بنائی 1950 میں. "
-------
اگر نیازی کے بیان کے بعد اب بھی کسی یوتھئے کو میاں نوازشریف کےخاندانی دولت مند ہونے پہ شبہ ہے تو اپنے دماغ کا علاج کرا لے
پنجاب میں کرپشن کے لیے اب کوئی گنجائش، کوئی پناہ اور کوئی رعایت باقی نہیں۔ کرپشن اور رشوت کے ناسور پر آہنی ہاتھ ڈال دیا ہے، زیرو ٹالرنس کا حکم دے دیا گیا ہے۔ نشاندہی کے لیے خصوصی خفیہ سیل قائم کر دیا گیا ہے، جس کی رپورٹ براہِ راست مجھے دی جا رہی ہے۔ عوام کی شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1350 قائم ہے، شکایت کنندہ کا نام مکمل خفیہ رکھا جائے گا اور ہر شکایت پر کارروائی ہو گی۔ عہدہ، تعلق یا سفارش کسی کو نہیں بچا سکے گی، لوٹی ہوئی رقم کی مکمل ریکوری تک کارروائی ختم نہیں ہو گی۔ عوام کا پیسہ صرف عوام پر خرچ ہو گا، کسی کو کھانے نہیں دوں گی۔
پاکستان دُنیا کا پہلا اسلامی ملک ہے شاید جہاں اصحاب رسولﷺ کی تحفظ ناموس پہ بل پیش کرنا پڑ رہا ہے کہ رسول کے صحابہ کو گالیاں نا دو۔۔۔۔اور اس پہ بھی بے شرمی اور بے غیرتی کی حد دیکھیں کہ وہ بھی نہیں منظور ہو رہا۔
علی محمد خان نے اسمبلی میں بل کی حمایت کر کے زندہ ایمانی کا ثبوت دیا
جب محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا گیا تھا تو اس وقت اہلسنت کے معروف علماء کرام نے اس تعیناتی پر احتجاج کیا تھا لیکن تعیناتی کرنے والوں نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ محسن نقوی اپنے عہدے کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔
اس وقت محسن نقوی اپنے فرقے کو پاکستان کی اہلسنت اکثریت پر غالب کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان کو ایران کی کالونی بنانا چاہتا ہے۔
احمد پور شرقیہ پیرا فورس نے بند دکان سیل کر دی کہ اس کے سامنے کسی نے کوئی ٹھیا لگایا ہوا تھا ۔۔۔ جبکہ دکان 5 دنوں سے بوجہ فوتگی بند تھی۔۔۔ مطلب بند دکان پر تالا ایک مالک کا اور ایک پیرا فورس۔۔۔ 🥹🥹
احمد پور شرقیہ پیرا فورس نے بند دکان سیل کر دی کہ اس کے سامنے کسی نے کوئی ٹھیا لگایا ہوا تھا ۔۔۔ جبکہ دکان 5 دنوں سے بوجہ فوتگی بند تھی۔۔۔ مطلب بند دکان پر تالا ایک مالک کا اور ایک پیرا فورس۔۔۔ 🥹🥹
یا اللہ جی
گزشتہ رات پمز کے بچہ وارڈ کی نرسری میں ڈاکٹر سے لے کر نرسز، وارد بوائے، اے سی انجینئر، الیکٹریشن کوئی بھی اپنی ڈیوٹی پر نہیں تھا جس کے نتیجے پندرہ معصوم اس دنیا میں آنکھ کھولے بغیر آپ کے پاس پہنچ گئے۔
آپ اس کے زمہ داروں کے لئے کافی ہو جائیے، جنہوں نے ان بچوں کو جلا کے مارا ہے انہیں دنیا میں ہی ایسی دردناک موت عطا کیجئے اور ان کا انجام عبرت دنیا کو دکھائیے۔
آمین
صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
سپریم کورٹ کے ججوں کی تنہواہ اتنی کم تھی کہ اُن کے بچے کھوتا ریڑھی پر سکول جاتے تھے بیشتر ججوں کے گھر رات کا کھانا ہی نہیں بنتا تھا سوکھی روٹی کھاتے تھے
مُلک کے وسیع تر مفاد میں آئینی عدالت کے ججوں کے برابر تنہواہ و پینشن کر دی گئی اخے وہ زیادہ تنہواہ لیتے ہیں ہم پیچھے کیوں رہیں بھیاں ؟
ایسی ہی بے غیرتی سینیٹ میں اُس وقت سامنے آئی جب کہا گیا ہمارے بچوں کو ویزے نہیں ملتے اس لیے انہیں بھی بلیو پاسپورٹ ملنا چائیے
ایسی ہی بے غیرتی وفاق کی بیوروکریسی کی تب سامنے آئی جب کہا گیا پنجاب کی بیوروکریسی کی مراعات زیادہ ہیں اس لیے برابر مال پانی دیا جائے تو 1.8 ارب ان کے منہ پر مار دیا گیا
شہباز تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ 🔥
اویس لغاری کے مطابق بجلی کی قیمت سستی کرنے سے تو آئی ایم ایف روک دیتا ہے
مگر یہ جو روز روز ججوں اور الیٹ کلاس کی اربوں کی مراعات حکومت بڑھاتی کیا اس میں آئی ایم ایف کا کمشن ہے کہ یہاں چپ رہتا ہے ؟
سندھ حیدرآباد میں پرسو بارش ہوئی تو کئی گھنٹوں بعد WASA انتظامیہ کی اکلوتی گاڑی کھڑا پانی نکالنے کے لیے پہنچی
جب ٹینکر فُل بھر گیا تو سڑک نے دونوں ہاتھ جوڑ کر جھک کر کہا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتی اور جئیے بھٹو کا نعرہ لگا کر معجزہ کر دیا
پورے پاکستان میں تحریک چلاؤ گا 🤡
یہ حیدر آباد سندھ کے مناظر ہیں کسی میڈیا والے نے یہ مناظر اپنے کوٹھوں پر نہیں چلائیں ہیں پنجاب میں گٹے تک پانی بھی آ جائے تو ماتم شروع ہو جاتا ہے
سترہ سالہ پیپلزپارٹی کی کارکردگی پر سوائے لعنت کے کچھ بنتا نہیں ہے
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و ذاتی مفادات کے تابع ھے ۔ اور اسکو آزاد کرنے کی ضرورت ھے۔
میری کچھ گذارشات ھیں ۔ اگر سسٹم میں مضبوط کرنا ھے اور بنیادی تبدیلی لانی ھے تو اسکا فورم پارلیمنٹ ھے جسکے نقوی صاحب رکن ھیں یا اسکو کابینہ میں بھی بھی زیر بحث لایا جا سکتا ھے اس سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ھو گا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔ محترم کابینہ کے نہایت اور معتبر رکن ھے۔ اتفاق ھے نقوی صاحب ان دونوں اداروں یعنی پارلیمنٹ اور کابینہ کا اجلاس کبھی کبھار ایٹنڈ کرتے ھیں ۔
ان اداروں کو irrelevant کرکے ملک کے مایہ ناز اور قابل احترام تاجروں کو انوائٹ کرکے captive audience کے آگے اتنی بڑی بات کرنی میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی جتنا relevant constitutional forums بات کرنے سے پزیرائی ملتی۔
نقوی صاحب اس نظام کے انتہائ طاقتور عہدوں پہ ساڑھے تین سال سے فائز ھیں اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید
کل DGISPR نے NATIONAL ACTION PLAN کے 13نکات یا پوائنٹ کا ذکر کیا ۔ ایک پوائنٹ پہ عمل درآمد جوھماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ
عملدرآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ھو رہا ھے۔ باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ھے جن پہ عملدرآمد نہیں ھوا۔ نقوی صاحب سسٹمُ کی تبدیلی کا آغاز National Action plan پہ عملدرآمد سے کریں ۔ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں ۔ صرف ھماری قابل احترام تاجر برادری ھی نہیں پوری قوم آپکے ساتھ ھے۔ 🤲
عامر صاحب کیا کہتے ہیں آپ ؟
عامر صاحب نے پھر محسن نقوی کا انجن کھول دیا عامر صاحب نے BISP سے شروع ہوئے ملتان میں 60 ہزار لوگوں کو غلام بنانے سے لیکر سندھ میں لیپ ٹاپ نہ پہنچانے تک پہنچ گے
مشرف ضیاالحق کے ریفرنڈم کا بھی انجن کھول دیا
عامر صاحب اتنا ذلیل بھلا کون کرتا ہے 😭😭
جس سسٹم میں مراد سعید نہ پکڑا جائے
جس سسٹم میں عمران ریاض آپ کے چڈوں میں سے نکل کر برطانیہ پہنچ کر آپ کو گالیاں بکتا پھرے
جس سسٹم میں عمر ایوب زرتاج گل اشتہاری قابو میں نہ آئے ہوں
جس سسٹم میں صدیق جان جیسے خبیث آج بھی ریاست کے خلاف انتشار پھیلا رہے ہوں اُس سسٹم کے نٹ بولٹ تبدیل کرنا بنتے ہیں چوہدری صاحب
سسٹم کے ریٹائرڈ و حاضر سروس ججوں جرنیلوں سیاستدانوں بیوروکریسی کے پروٹوکول سمیت دی جانے والی مراعات مفت کا پیٹرول گیس بجلی پانی محلات پلاٹوں کی تقسیم بند کریں وگرنہ منہ بند کریں
نوجوان کہتا ہے میرا بجلی کا بل 199 یونٹ کے بعد دس ہزار اور تمھارے محلات کی بجلی مفت کیوں ہے ؟
بیس صوبے بنا کر بیس صوبوں کی بیوروکریسی کے خرچے تواڈا پیو دے گا ؟
یہاں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے سسٹم کی بُنڈ پٹاخے مارنا شروع کر دیتی ہے اسی بجٹ میں 1.8 ارب بیوروکریسی کو دیا گیا کیا سسٹم نے وہاں منہ کھولا ؟ ان کی کارکردگی پر سوال کیا ؟
اُن کی کارکردگی سے پہلے اپنی قابض وزارتوں کی کارکردگی پر سوال کیا ؟ ریاستی کاروبار سے منسلک ٹیکس چھوٹ والوں سے سوال کیا ؟
اور اسی ابصار عالم کو اسی محسن نقوی پر چند ہفتے پہلے تنقید پر سارے پٹوار خانے نے دھو کر رکھ دیا تھا لکھا تھآ کہ ابصار صاحب نے مایوس کیا اور ان کو بھی عہدہ نہی ملا اس لیے ایسی باتیں کر رہے ہیں اور ویوز کے چکر میں پڑ گے ہیں وغیرہ وغیرہ
آج وہی ابصار سب سے آگے کھڑا جواب دے رہا اور تعریفیں بھی ہو رہی ہیں
اللہ نے بھی کیا کیا دیکھانا ہے
تمھیں لیپ ٹاپ نظر آ گیا لیکن 800 ارب روپے BISP کے نام پر ہڑپ کر کے عوام کو بھکاری بنانے والا پروگرام نظر نہ آیا کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟
کیا تمھیں کسی کاروباری سیٹھ نے یہ نہیں بتایا کہ 800 ارب سے کون کون سی انڈسٹری اور کتنا روزگار نوجوانوں کو مل سکتا ہے ؟
اسے کہتے ہیں منہ انگلیاں سر دھڑ سب کچھ کڑاہی میں~یہ بجلی گھر بجلی پیدا کریں یا نہ کریں انہیں اربوں کی ادائیگی ہوتی ہے۔ان کا آڈٹ نہیں ہوسکتا۔اب انکشاف ہوا ہے ان کو چار سالوں میں 7000 ارب روپے کی کیپسٹی چارجز کی مدد میں ادائیگی ہوئی ہے اس پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ بلکہ کسی کمائی پر ٹیکس نہیں ہے۔😳
سب بھاری ٹیکس، چارجز، لیوی، بلز، عوام نے دینے ہیں۔۔ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں جنہیں اتنا کچھ دیا جارہا ہے۔۔
🔹️ جیسے کالا باغ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے دینے کیلئے پیپلز پارٹی بھارت سے کثیر فنڈز کھاتی رہی-
🔹️ جیسے خالصتان تحریک کو کچلنے کیلئے پیپلز پارٹی حکومت نے 1988 میں اسلام آباد میں منعقدہ سارک سربراہ اجلاس کے موقعے پر بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو ان علیحدگی پسند سکھ ایکٹوسٹس کے ناموں کی فہرستیں فراہم کیں جنہیں پاکستان برسوں سے سپورٹ کرتا آ رہا تھا- اس کے عوض بھی انہوں نے بھارت سے کثیر فنڈز بٹورے-
🔸️ ویسے ہی اب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں بننے والی نئی حکومت کو ناکام کرنے کیلئے کشمیر ایکشن کمیٹی کو درپردہ سپورٹ کرے گی- ان سے چوکس رہنا ہو گا کیونکہ سو فیصد سیٹیں واپس چھیننے کا کوئی سیاسی منصوبہ تو بن نہیں سکتا-
پیپلز پارٹی کا اوّلین مقصد وسائل کو بے دریغ لوٹنا ہوتا ہے- انہیں کشمیر میں الیکشن ہارنے کا دکھ نہیں بلکہ لوٹمار کیلئے ایک وسیلہ ہاتھ سے نکل جانے کا افسوس ہے-