ایرانی وزیر داخلہ کا قیامِ پاکستان طول پکڑ گیا؟ دو روزہ دورے کے لیے آنے کے باوجود، وہ تاحال پاکستان میں موج��د ہیں۔
اس قیام میں توسیع کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے جہاز کے لیے واپسی کا محفوظ فضائی راستہ دستیاب نہیں ہے۔
انہیں خدشہ ہے کہ اگر ان کا جہاز اڑا، تو وہ نشانے پر آ سکتا ہے۔
کیا ماضی کی طرح اس بار انہیں پاکستانی F-16 کا حصار میسر نہیں ہے؟
بھتے کی لڑائی!
ایران پر جو حملہ اسرائیل نے کیا تھا جس میں خامنائی سمیت ان کے کئی لیڈر قتل کر دیے تھے وہ جنگ ختم ہوچکی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جنگ بندی ہونے کے بعد ایران اسرائیل پر حملہ نہیں کر رہا اور دلیل دے رہا ہے کہ اسرائیل حملہ نہیں کر رہا تو ہم جواب کیوں دیں؟ یعنی ایران مانتا ہے کہ وہ جنگ ختم ہوگئی۔ یہ بھی کہ ایران اسرائیل کے غزہ اور لبنان پر حملوں کو خود پر حملے نہیں سمجھ رہا۔
تو پھر تازہ ترین جنگ کس چیز کی ہے؟
ایران کہتا ہے کہ میں آبنائے ہرمز پر حفاظتی ٹیکس لونگا۔ بھلا کس سے حفاظت؟ ایران کے پاسداران سے!
یعنی ایران کہتا ہے کہ مجھے ٹیکس دو تاکہ میں تمہارے تیل بردار جہازوں کو میزائل اور ڈرون نہ ماروں۔ جیسے کوئی شخص آپ کو کہے کہ مجھے پیسہ دو تاکہ میں تمہیں نقصان نہ پہنچاؤں۔ اسکو پاکستان میں غنڈہ ٹیکس یا بھتہ کہتے ہیں۔
ایران کہتا ہے کہ مجھے آبنائے ہرمز پر ہر ملک ٹیکس دے گا چاہے میری حدود سے گزرے، چاہے انٹرنیشنل پانیوں میں سے گزرے یا عمان کی حدود سے گزرے اور میری اجازت بھی لے گا۔ یہ بھتہ لینے کے لیے اس نے اپنے ثالث قطر کے جہاز تباہ کیے اور اپنے دوست اومان پر بھی بمباری کی۔ اس بھتے سے روکنے کے لیے امریکہ نے ایران پر جوابی حملہ کر دیا۔
امریکی حملے کے جواب میں یہ بھتہ لینے کے لیے ایران نے قطر، بحرین، کویت اور اومان پر مزید حملے کیے۔ سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان نے خبردار کیا تو سعودی جہازوں کو باب المندب میں اپنی پراکسی حوثیوں کے ذریعے نشانہ بنا دیا۔ جس پر اب پاکستان اپنے دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ ملکر حوثیوں پر حملہ کرنے کے لیے مجبور ہوگا۔
یعنی اس وقت ساری لڑائی یہ چل رہی ہے کہ ایران کہتا ہے کہ میری اسرائیل سے لڑائی ختم ہوچکی ہے اور اب میں بھتے کے لیے لڑ رہا ہوں۔ جب کہ پاکستان، امریکہ، خطے میں تمام مسلمان ممالک بلکہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایران کو بھتہ نہیں دینا چاہت�� کیونکہ دنیا میں کہیں بھی سمندروں پر بھتے کا رواج نہیں۔ ایران تو اومان کی حدود میں گزرنے والوں جہازوں سے بھی بھتہ لینا چاہتا ہے۔
اب یہ کوئی اسلام کی لڑائی نہیں، حق و باطل کی لڑائی نہیں، نہ ایران اب مظلوم ہے۔ کم از کم اس جنگ میں ایران ظالم ہے جو اپنے سے کمزور ملکوں پر بھتے کے لیے حملے کر رہا ہے اور اسکو روکنے کے لیے ہی اس کو جواب دیا جارہا ہے۔
#IranWar
#Pakistan
دہلی: سپریم کورٹ کے وکلاء نے جنتَر منتر میں ہونے والے احتجاج کی حمایت اور پولیس کارروائی کے خلاف آئینِ ہندوستان کا دیباچہ (Preamble) پڑھا۔
سینئر وکیل اندرا جیسنگ نے کہا:
"ہم یہاں طلبہ کے ساتھ اظہارِ یک��ہتی کے لیے آئے ہیں۔ ہم انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے آئے ہیں۔ ہم طلبہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے آئے ہیں۔ ہم یہاں اپنے لیے احتجاج کرنے نہیں آئے۔ یہ معاملہ ہمارا ذاتی نہیں۔ یہ طلبہ کے حقوق کا مسئلہ ہے اور وکلاء کا فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے کھڑے ہو کر ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں۔ بھارت کی سپریم کورٹ کا کردار اور ذمہ داری انصاف فراہم کرنا ہے۔ اسی لیے ہم انصاف کے اس مندر میں اپنے مطالبات کے ساتھ موجود ہیں۔
🚨 بریکنگ: دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کو صرف دو گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔
اس کے بعد، دعوے کے مطابق دنیا ممکنہ طور پر تاریخ کے تباہ کن ترین فضائی حملوں میں سے ایک کی گواہ بن سکتی ہے۔
مزید کسی انتباہ کی بات نہیں کی جا رہی، اور دعویٰ ہے کہ الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا دورہ پاکستان کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے آج اہم جگہوں پر وزٹ کریں گے اور اور پھر بتایا جا رہا ہے کہ لاہور جائیں گے معرکہ حق میں ہماری کامیابی کا عملی مشاہدہ بھی کریں گے پھر دیکھتے ہیں کہ کیا سمجھ میں آتی ہے کہ بڑھکوں سے زیادہ آپ کو عملی طور لر اپنا دفاع مضبوط کرنا ہے شاید سمجھ آ جائے ایران کو
امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ نیوکلئیر ڈیل سائن کر لی ہے ۔ امریکہ نیوکلئیر انفراسٹرکچر اور یورینیم اینریچمنٹ میں مدد کرے گا
مجوسیوں ہن آرام اے ؟؟؟
بنگلہ دیش میں اسٹوڈنٹس باہر نکلے، تختہ الٹ دیا، اب بھارت میں باہر نکلے ہیں تو خطرہ ہے وہاں بھی الٹا جائے لیکن لوگ حیران ہیں پاکستان میں ایسے اثار کیوں نہیں؟
دراصل پاکستان میں 2002 کے بعد ہر ڈھائی سال کے بعد وزیراعظم بدل دیا جاتا ہے لہذا ہنگامے فسادات کے زریعے تختہ الٹنے کی نوبت ہی نہیں آنے دی جاتی۔
بنگلہ دیش میں سولہ سترہ سال سے ایک ہی وزیراعظم تھی تو بھارت میں بارہ تیرہ سال سے ایک ہی وزیراعظم بیٹھا ہے۔لوگ آپ کا روز چہرہ دیکھ اور وہی عظمت کی کہانیاں سن سن کر تھک بھی جاتے ہیں اور اپنے چھوٹے بڑے مسائل مسائل کا ذمہ دار اکیلے آپ کو سمجھتے ہیں جسے ہٹا کر ہی ان کے مسلے حل ہوں گے۔
پاکستان میں یہ ہٹانے یا تختہ الٹنے کا کام ریگولر 1985 سے ہورہا ہے لہذا کسی کو احتجاج کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ نیا وزیراعظم نئی امیدیں۔۔ ڈھائی سال بعد پھر تبدیلی۔۔
😎 مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/CeYYFlDnFq via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@RabeeaSK
ایران نے اپنی پراکسی خ��ثیوں سے سعودیہ کی بحری ناکہ بندی کروا کر جنگ کو سعودیہ تک پھیلا دیا ہے پاکستان کو اب سعودیہ کی مدد کرنی پڑے گی کیونکہ ہمارا ان سے دفاعی معاہدہ ہے یہ جنگ اسرائیل نے شروع کی مگر اب ایران کے پاسدران کے جنون کی وجہ سے سب مسلمان ممالک تک پھیل چکی ہے جبکہ حالیہ جنگ میں ایران نے اسرائیل پر ایک حملہ نہی کیا اس سارے تنازعے میں سب سے محفوظ اسرائیل ہے
ایران کی پہاڑوں میں ایک ایٹمی سائٹ چھپی ھوئی تھی وہ بھی اسرائیل اور اور امریکہ نے ڈھونڈ نکالی ھے اس میں ہزاروں سینٹری فیوجز پڑے ھوئے ہیں یعنی ایران ایٹم بم بنانے کے مشن پر ھے اب امریکہ اس سائٹ پر حملہ کرنے جا رہا ھے
بریکنگ نیوز: ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے آئندہ کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں میزائل، راکٹ یا کسی بھی اور ڈیوائس سے نشانہ بنایا تو امریکہ ایران کے کسی ایک پل یا پاور پلانٹ پر بمباری کرے گا.
نوٹ: انقلابی اس دھمکی کو بھی اس غلط فہمی میں اڑا دیں گے کہ وہ اس علاقے کی نئی سپرپاور ہیں اور اسی غلط فہمی میں اپنے پاور پلانٹس تباہ کروا لیں گے کیونکہ عقل کے ساتھ انکی دشمنی ہے.
یہ پہلے والا پاکستان نہیں ہے ۔اب پوری دنیا میں جو بھی پاکستانی مفاد کے خلاف جائے گا اسکی ڈنکے کی چوٹ پر بجائی جائے گی۔
چاہیے وہ حوثی ہو مجوسی ہو مودی ہو شیخ ہو یا کوئی اور ۔
کیونکہ حافظ کی ڈکشنری میں معافی نام کی کوئی شے ہے ہی نہیں 💪
مجتبی خامنہ ای نے کہا کہ میں نے سب کچھ نیست و نابو دکردینا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہونے والاایران کے پاس جتنے کارڈز تھے اس نے کھیل لیے ہیں باب المندب بند کردیا حوثیوں کو نکال لیا لیکن ایسا کوئی اقدام نہیں ہوا جس سے ایران کو موجودہ صورتحال میں کوئی فائدہ ہو،سہیل ظفر
@MSuharwardy_
https://t.co/8Ps7xSlJWj
الجزیرہ آرٹیکل میں ایران پر سنجیدہ سوالات
الجزیرہ میں ایک آرٹیکل چھپا ہے جس میں وہی سوال لکھا ہوا ہے جو آج ہر شخص کی زبان پر ہے کہ اس خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی اور ایران پر حملے کا آغاز کرنے والا بلکہ اس جنگ کا ماسٹر مائنڈ تو اسرائیل ہے۔ لیکن ایران نہ اسرائیل پر کوئی حملہ کر رہا ہے اور نہ امریکہ کے نیول اثاثوں کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے ایران پر 90٪ حملے ہورہے ہیں۔ البتہ پاکستان کی وارننگ کے بعد وہ سعودی عرب کے حوالے سے محتاط ہوگیا ہے اور اب انکو حوثیوں کے ذریعے تنگ کر رہا ہے۔
آرٹ��کل میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس دوران اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور امریکی جہازوں کی ری فیولنگ بھی کر رہا ہے۔ پھر ایران نے اسرائیل سے آنکھیں کیوں بند کر لی ہیں۔ بحرین، کویت اور اومان جیسے چھوٹے چھوٹے شہروں جتنے ملکوں پر ہی میزائل کیوں برسا رہا ہے۔
اس کی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
اگر حسن ظن سے کام لیں تو یہ کہا جاسک��ا ہے کہ ایران خوفزدہ ہے کہ اگر اسرائیل پر حملہ کر دیا تو اس کی طرف سے بھی حملے شروع ہوجائنگے بلکہ حسب معمول وہ ایرانی قیادت اور پاسداران کے لیڈروں کو مارنا شروع کر دے گا۔ اگر امریکی بحری بیڑہ ڈوب گیا تو شائد صدر ٹرمپ کو ایران پر زیادہ بڑے حملوں کا جواز مل جائے اور امریکہ عوام جو جنگ کے خلاف ہے وہ ایران سے بدلہ لینے کے لیے جنگ کی حامی بن جائے۔ لہذا اس خوف سے ایران صرف ان چھوٹے چھوٹے ملکوں پر ہی حملے کرتا جارہا ہے۔
لیکن اگر سوئے ظن سے کام لیں تو یہ کہا جائیگا کہ پاسدران میں موجود موساد ایران کا کنٹرول سنبھال چکی ہے اور وہ گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اسرائیل کے پڑوس میں موجود مسلمان ممالک کو مکمل طور پر تباہ کرنا چاہتی ہے اور وہی اپنے مقدس ملک اسرائیل پر حملہ نہیں کر رہی نہ امریکی نیول اثاثوں کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔
#Pakistan
#IranWar
بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ نئی دہلی سے سامنے آنے والی متعدد ویڈیوز میں احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکن سونم وانگچک کو مبینہ طور پر زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت احتجاجی آوازوں کو دبانے کے لیے ریاستی اداروں کا استعمال کر رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید یا مختلف مؤقف سامنے آ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تمام ویڈیوز اور دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
#بھارت #نئی_دہلی #احتجاج #سونم_وانگچک #مودی #انسانی_حقوق
کل ایرانی وزیرداخلہ سے ملاقات میں فیلڈ مارشل۔۔
"اصل فیلڈ مارشل" لگے۔
وزیرداخلہ کو رسیو کرنے وزیرداخلہ
محسن نقوی بھی نہیں گئے۔۔
ایرانیوں اور حوثیوں کو سخت پیغام بھی دیا
کہ سعودی عرب اور پاکستانی
اثاثوں کو نقصان پہنچایا تو
آپ کی والدہ محترمہ کو"کھود"دیں گے۔
یہ پیغام ضر��ری تھا۔
پانچ دن پہلے ایران نے اپنی دہشتگرد پراکسی تنظیم کو باب المندب بند کرنے کی تیاری کرنے کا کہا تھا پھر دو دن پہلے خوثی شتونگڑا بیان جاری کر کے گیا
پاکستانی پرچم برادر جہازوں کو خطرہ قومی سلامتی کے خلاف تصور کیا جائے گا
فیکٹ سامنے لازمی ہونا چائیے وگرنہ سینئیر منافق صحافیوں نے اپنا ایجنڈا بیچ ڈالنا ہے جو شروع دن سے مسلمان ممالک کے خلاف باریک وارداتیں ڈالتے آ رہے ہیں
جن مساجد کے شہید کرنے پر مودی کے بھگت کارکن تالیاں بجاتے تھے انھی مساجد نے ان بھگتوں کو راتوں کو پناہیں دی جبکہ ان کے اپنے مندروں نے ان کو گھسنے بھی نہ دیا،،
بریکنگ نیوز: ٹرمپ نے کھلی دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کی کوہِ کلنگ میں زیر زمین موجود ایٹمی سائٹ کو تباہ کر دیں گے اور ہر اس جگہ کو تباہ کر دیں گے جہاں ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے.
انقلابیوں کو ثابت کرنا چاہئے کہ اگر وہ واقعی نئی سپرپاور ہیں تو امریکی طیارہ بردار بحر�� جہازوں کو تباہ کر دیں، بیس جنگی بحری جہازوں کو سمندر میں غرق کر دیں اور فضائیہ کے جہاز حملہ کرنے آئیں انہیں دفاعی نظام سے گرا دیں.
جب ان جہازوں کا ملبہ دنیا کو نظر آئے گا تو ساری دنیا ان انقلابیوں کو سپرپاور سمجھ لے گی لیکن....... اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر کویت اور بحرین جیسے چھوٹے ملکوں کے پاور پلانٹس اور واٹرڈی سلینیشن پلانٹس پر میزائل چلانا بہادری نہیں بلکہ بزدلی ہے.
انقلابی اپنی حکومت کے خاتمے تک عقل کی بات نہیں سمجھیں گے. آنے والے دنوں میں انکی مشکلات بڑھتی جائیں گی.