اوشیش برآمد کر لی گئی لیکن نقل و حرکت جاری رہی اور ہندوستانی ریاست کے خلاف خود ارادیت کے لیے ایک عوامی تحریک کی راہ ہموار کی جس میں بخشی کے نوآبادیاتی کردار کی کمزور نوعیت کی نشاندہی کی گئی جس کی سرپرستی ہندوستانی ریاست نے کی تھی۔
شکایت میں استدعا کی گئی کہ جسٹس محسن اختر کیانی کو مس کنڈکٹ پر عہدے سے ہٹایا جائے،شکایت پر فیصلہ ہونے تک جسٹس محسن اختر کیانی سے عدالتی اختیارات واپس لیئے جائیں .
یہ خصوصی عدالت تین ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور اس تین رکنی ارکان کی سربراہی کرنے والے کو پریذیڈنٹ کہا جاتا ہے جو کہ لیفٹیننٹ کرنل رینک کا افسر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی اہم مقدمہ ہو تو پھر جیگ برانچ کا نمائندہ بھی اس خصوصی عدالت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔
ملزم پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اسے اپنے وفاع کے لیے وقت دیا جاتا ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ سات روز کا ہوتا ہے۔
فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ملزم کو خود یا اپنے وکیل کے ذریعے پراسیکوشن کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد یا گواہان پر جرح کرنے کا حق ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کو اپنے دفاع میں کوئی گواہ یا دستاویزات بھی پیش کرنے کا حق ہوتا ہے۔
سات روز کے اندر دونوں اطراف سے کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ تین رکنی بینچ اپنی رائے مرتب کر کے کنوئنگ اتھارٹی کو بھیجے گا اور یہ اتھارٹی برگیڈئر یا میجر جنرل رینک کے افسر کی ہو گی۔
اس تین رکنی بینچ کی رائے پر مبنی جو بھی فیصلہ ہوگا وہ کھلی عدالت میں نہیں بتایا جائے گا بلکہ ملزم جس یونٹ کی تحویل میں ہوگا اس کو اس سزا کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔
مجرم کو سزا سے متعلق آگاہ کیے جانے کے بعد اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور مجرم کے پاس اس سزا کے خلاف 40 روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔
اپیل دائر ہونے کی صورت میں مجرم کی اپیل سننے کے لیے ایک عدالت قائم کر دی جاتی ہے جسے کورٹ آف اپیل کہا جاتا ہے اور یہ عدالت بھی مجرم کی اپیل پر ایک ہفتے کے اندر فیصلہ سنا دیتی ہے۔
کرنل ریٹائرڈ