آج وی ساڈے بابا جی علیہ رحمہ دی کیا بات کیا بات کیا بات
آج وی ساڈے پیارے بابا جان کے شہزادوں کی کیا بات کیا بات کیابات
جب تک سورج چاند رہے گا رضوی تیرا نام رہے گا
✊🏻✊🏻
ہمارے مرکزی شوریٰ کے رکن جو ہیں جتنی دیر کریں گے اب یہ حکومت نااہلوں کا ٹولہ ہمارے قائد اور رہنماؤں کو غائب رکھے گی
دیر تو پہلے ہی بہت ہو چکی ہے
اب کوئی نا کوئی لائحہ عمل ضرور دینا ہوگا
یہ بدمعاش ہماری نرمی کی زبان نہیں سمجھتے یہ بدمعاش کچھ اور چاہتے ہیں اور انکو انکی غذا کی بہت طلب ہو رہی ہے اور ہم تو سارے بھوکوں کو کھانا کھلانا چاہتے ہیں ان نالائق بھوکوں کو بھی انکی خوراک دے دینی چاہئے
یہ بدمعاش ہماری نرمی کی زبان نہیں سمجھتے یہ بدمعاش کچھ اور چاہتے ہیں اور انکو انکی غذا کی بہت طلب ہو رہی ہے اور ہم تو سارے بھوکوں کو کھانا کھلانا چاہتے ہیں ان نالائق بھوکوں کو بھی انکی خوراک دے دینی چاہئے
زہنی توازن کھو چکی
تقریب جوش خطابت میں فرمایا میں لاہور سے ساہیوال ہمیشہ موٹروے سے آئی وه موٹروے نوازشریف نے بنایا تھا جس پر سفر کا مزہ جہاز سے بھی زیادہ آتا ہے جب گوگل کیا تو پتہ چلا لاہور سے ساہیوال تک موٹروے بنا ہی نہیں یہ اس موٹروے پر سفر کرتی ہے اور مزہ جہاز والا لیتی ہے😂
اگر میرا وہ اکاؤنٹ سلامت ہوتا تو دکھاتی کہ اپنی تحریک کے بارے میں بکواس کرنے والوں کا حال کیا کرتے ہیں... ہمارے قائدین کے خلاف بکواس کر کے کیا سمجھتے ہیں کہ Feminism کی بیس پہ بچ جائیں گے؟ ان سے حساب بھی پھر Feministic طریقے سے لیا جائے گا۔
19 اکتوبر 2016 وہ تاریخ ساز دن جب حضور سیدنا اميرالمجاہدين حافظ خادم حسین رضوی علیہ رحمہ کی قیادت میں تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ نے داتا دربار سے تاریخ ساز مارچ کا آغاز کیا، جو پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچ کر دھرنے میں تبدیل کر دیا گیا۔
اپنوں کے بھیس میں چھپے وہ چہرے جب بھی مشکل وقت آتا ہے، غداروں اور منافقوں کے نقاب اتر جاتے ہیں۔ لیکن سچائی کو کوئی دبا نہیں سکتا۔
انس بھائی کے اس واضع اور جرات مندانہ بیان نے جھوٹ کے تمام سوداگروں کے منہ بند کر دیے ہیں۔👇🏻👇🏻👇🏻
لاہور ہائیکورٹ میں سربراہ تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد رضوی اور مفتی انس حسین رضوی کی مبینہ جبری گمشدگی سے متعلق حبس بے جا (Habeas Corpus) کی درخواست کل، پیر 19 اکتوبر 2026ء کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق، کیس نمبر 6661/26 (ثروت فاطمہ بنام وزارت دفاع وغیرہ) کی سماعت جسٹس اے آر کارنیلیس بلاک کے کورٹ روم نمبر 42 میں مسٹر جسٹس محمد جواد ظفر پر مشتمل سنگل بینچ کرے گا۔ عدالت میں درخواست گزار کی جانب سے وکیل برہان معظم ملک پیش ہوں گے۔