"لا تحفظ القرآن إلا بعد الاستماع
السمع أساس الحفظ الصحيح.
-اختر قارئا متقنًا تحب صوته
-اسمع الآيات قبل الحفظ عدة مرات
-قلد النطق والمدّ والغنة
السماع الصحيح = حفظ صحيح بإذن اللّٰه
ومع الوقت تتلقن أحكام التجويد سماعاً ومحاكاة ، ولا تشترط الكمال عند البداية".
فتنوں کے اس دور میں ہم ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں دو لوگ مسجد میں ناجائز تعلقات قائم کرتے ہوئے پکڑے جائیں اور ریاست انہیں سزا دے تو عوام کی اکثریت اس ریاست کے خلاف ہی زہر اگل رہی ہوتی ہے۔
بنگلہ دیشی شہری نذرالاسلام عبد البصیر کے والد نے تصدیق کی ہے کہ سیتی اختر انکے خاندان کا حصہ نہیں ہے، نہ وہ انکے بیٹے کی بیوی تھی نہ خاندان اسے جانتا ہے۔
اسکے باوجود وہ دونوں مسجد کے اندر جنسی نوعیت کےتعلقات قائم کرتے پائے گئے۔ جس پر ریاست نے انہیں گرفتار کیا اور مکمل تحقیقات اور گواہوں اور ثبوت کی بنیاد پر عدالت نے انہیں تعزیر کے تحت سزائے موت دی۔
تعزیر اسلامی قانون میں جج کی صوابدید پر مبنی سزا ہے، جس میں جرم کی نوعیت اور حالات (خاص طور پر مقدس مقام کی پامالی) کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
اعلی عدالت نے جج کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت کا حکم جاری کیا۔
یاد رہے نذرالاسلام نومبر 2022ء میں کلینر کے طور پر سعودی عرب گیا تھا اور مکہ کی اسی مسجد میں کام کرتا تھا۔
تقریباً چھ ماہ بعد (2023ء میں) گرفتار ہوا اور تین سال سے زیادہ جیل میں رہا۔
خاتون کے خاندان کی طرف سے تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ لیکن سوشل میڈیا پر اس معاملے کو لے کر پراپگنڈہ لابیز متحرک ہو چکی ہیں اور ڈیجیٹل فتنہ گروں نے اس خالصتاً قانونی اور شرعی عمل کو من پسند رنگ دے کر سعودی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کر رکھی ہے۔
کسی نے انہیں نوبیاتا جوڑا بنایا تو کسی نے انکی آٹھ سالہ بیٹی کا دعوی کیا جبکہ حقیقت میں ان دونوں نفوس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا،اسکے باوجود خانہ خدا کو اس قبیح عمل کے لئے چنا گیا، یاد رہے خاتون بھی سعودیہ میں ملازمت کی غرض سے مقیم تھی۔
کوئی مجھے بس یہ سمجھا دے کہ خانہ خدا سے بڑھ کر کسی چیز کی حرمت ہو سکتی ہے؟؟ ہرگز نہیں ہو سکتی، لیکن وہ لوگ جو نکاح کے فوراً بعد مساجد میں بوس و کنار کو ثواب سمجھیں، ہنی مون کے لئے فیصل مسجد، بادشاہی مسجد یا مسجد وزیرخاں کا انتخاب کریں، جن کے لئے آئے روز مساجد میں ممبر پر سے لواطت کی وڈیوز موصول ہونا معمول بن جائے انکا شرعی احکام پر عملدرآمد ہوتے دیکھ کر سیخ پا ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن جناب یہ شریعت ہے، یہ قانون ہے، یہ آپکے لاکھ روشن خیال، لاکھ لبرل اور لاکھ ہیومنسٹ ہونے کے باوجود اٹل رہے گا اس لئے اچھلئیے مت تحقیق کیجئے!
#mecca #meccamadina #saudiarabia #Pakistan #ڈکٹیٹر
14 اکتوبر 2026 کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں ایک مسجد کے اندر مبینہ طور پر جنسی عمل کرنے کے جرم میں بنگلہ دیش کے نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کو سزائے موت دے دی گئی، اور ان کی لاشیں بنگلہ دیش بھیج دی گئی ہیں۔
اس معاملے کو لے کر جھوٹی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ کوئی انہیں میاں بیوی بتا رہا ہے، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی بھی ہے، جبکہ کچھ لوگ انہیں حجاج قرار دے رہے ہیں۔
یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا، اس بارے میں سعودی عرب کی حکومت نے کسی کو کوئی معلومات نہیں دیں اور مکمل رازداری برقرار رکھی گئی۔ تاہم، بنگلہ دیشی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، نذرالاسلام نومبر 2022 میں کلینر کے طور پر کام کرنے کے لیے سعودی عرب گیا تھا، جبکہ سیتی اختر بھی وہیں سعودی عرب میں کام کر رہی تھیں۔
نذرالاسلام کے سعودی عرب آنے کے تقریباً چھ ماہ بعد، مئی 2023 میں سعودی سکیورٹی فورسز نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر مبینہ طور پر غیر اخلاقی حرکت کرتے ہوئے سیتی اختر اور نذرالاسلام کو گرفتار کیا تھا۔
واضح رہے کہ 2023 میں حج کا آغاز 19 جون کو ہوا تھا۔ یومِ عرفہ 27 جون کو تھا، جبکہ عیدالاضحیٰ 28 جون کو منائی گئی تھی۔
گرفتاری کے بعد دونوں نے سعودی جیل میں تین سال سے زیادہ عرصہ گزارا۔ اس دوران اس حساس معاملے کی قانونی تحقیقات ہوئیں اور جدہ کی عدالت میں تین سال تک مقدمے کی سماعت جاری رہی۔
عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے اور شاہی حکم جاری ہونے کے بعد، 14 اکتوبر 2026، بروز بدھ، مکہ ریجن میں دونوں کو پھانسی دے دی گئی۔ پھر 18 اکتوبر کو ان دونوں کی لاشیں بنگلہ دیش بھیج دی گئیں۔
درحقیقت، مقدس شہر مکہ مکرمہ کی ہر مسجد کا اپنا احترام ہے، کیونکہ ان میں سے ہر مسجد کسی نہ کسی حوالے سے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی تاریخ اور آپ سے وابستہ واقعات کی یادیں سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی لیے مکہ کی مساجد کے لیے خصوصی ضابطے مقرر ہیں.
سعودی عرب کے ’’پبلک ڈیسینسی قانون‘‘ (Public Decency Law) کے تحت عوامی مقامات، جن میں مساجد بھی شامل ہیں، پر فحش اور جنسی نوعیت کے رویے پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
لیکن مکہ کی مساجد میں، بالخصوص جنسی نوعیت کی فحش حرکت کے ذریعے مسجد کے تقدس کی پامالی کا معاملہ ’’تعزیر‘‘ کے تحت انتہائی سنگین ہو جاتا ہے، اور اس کی سزا موت تک ہو سکتی ہے، جیسا کہ بنگلہ دیشی جوڑے کے معاملے میں ہوا۔
سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے سرکاری بیان کے مطابق، نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’’فعل الفاحشہ‘‘ یعنی سنگین نوعیت کی جنسی فحش حرکت کا ارتکاب کیا تھا۔
جبکہ بعض رپورٹوں میں اسے ’’جنسی بے راہ روی‘‘، ’’فحش کاری‘‘ یا ’’زنا‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ ایک دو میڈیا رپورٹوں میں ’’مسجد کے اندر جنسی تعلق قائم کرنے‘‘ کا ذکر بھی آیا ہے۔
زیادہ تر معتبر رپورٹوں میں اس واقعے کو مسجد کے اندر جنسی تعلق قائم کرنے یا ناجائز جنسی فعل کے طور پر سمجھا اور رپورٹ کیا گیا ہے۔
بتائیے، کیا یہ لوگ یہ سب کرنے کے لیے مکہ گئے تھے؟ حد ہے!
مسجد کے تقدس اور مقام، دونوں کی پامالی کے باعث، تعزیری قانون کے تحت زنا کے الزامات ثابت ہونے پر حکومت نے انہیں سزائے موت دے دی۔
بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ، شاما عباید اسلام نے 17 اکتوبر 2026 کو بتایا تھا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی مشن کے لیبر ونگ کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا تھا، جس میں بتایا گیا کہ یہ دونوں مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’’زنا‘‘ میں ملوث تھے۔ ان کے خلاف تین سال تک مقدمہ چلا اور مجرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت دے دی گئی۔
اور ہاں، یہ دونوں میاں بیوی بھی نہیں تھے۔
सऊदी वाले मामले में झूठ vs सच - पूरा सच जानिए!
सोशल मीडिया पर झूठ फैलाया जा रहा है कि वो पति-पत्नी थे,
उनकी 8 साल की बेटी है, हज यात्री थे...
ये सब अफवाह है!
सच क्या है?
14 अक्टूबर 2026 को सऊदी अरब के मक्का में जिन दो लोगों को मौत की सजा दी गई, वो बांग्लादेश के *नज़रुल इस्लाम अब्दुल बासिर और सिति अख्तर* थे, और वो पति-पत्नी भी नहीं थे।
बांग्लादेश मीडिया के मुताबिक नज़रुल 2022 में क्लीनर बनकर सऊदी गया था और सिति वहीं काम कर रही थी।
मई 2023 में, हज से लगभग 1 महीने पहले, दोनों को मक्का की एक मस्जिद के अंदर सऊदी सुरक्षा बलों ने कथित तौर पर अनैतिक कृत्य करते हुए पकड़ा था।
उसके बाद 3 साल से ज्यादा जेल में रहे, जेद्दा की अदालत में सुनवाई चली, और दोषी पाए जाने पर शाही आदेश के बाद 14 अक्टूबर 2026 को मक्का में फांसी दी गई। 18 अक्टूबर को शव बांग्लादेश भेजे गए।
सजा क्यों इतनी सख्त?
मक्का की हर मस्जिद का अपना एहतेराम है, वो हमारे नबी ﷺ से जुड़ी है।
सऊदी के "पब्लिक डिसेंसी लॉ" में मस्जिद में ऐसा कृत्य सख्त वर्जित है, और मक्का की मस्जिद में पवित्रता भंग करने पर मामला "ताज़ीर" के तहत बहुत गंभीर हो जाता है, जिसमें मौत तक की सजा है।
सऊदी गृह मंत्रालय के मुताबिक दोनों पर मस्जिद के अंदर "फिअल अल-फाहीशा" यानी गंभीर यौन प्रकृति का अश्लील कृत्य / व्यभिचार का आरोप सिद्ध हुआ था।
बांग्लादेश की विदेश राज्य मंत्री शामा ओबायेद इस्लाम ने खुद 17 अक्टूबर को इसकी पुष्टि की है।
तो सवाल ये नहीं कि वो कहाँ के थे, सवाल ये है - क्या आप अल्लाह के घर की पाकीज़गी का ख्याल रखेंगे या नहीं?
मस्जिद इबादत की जगह है,
बेहयाई की नहीं! जो मक्का की पाक सरज़मीन पर ऐसा करेगा, उसे सजा तो मिलेगी ही।
अफवाह फैलाना बंद कीजिए, सच को समझिए।
#Makkah #SaudiArabia #SachVsJhooth
ما شاء الله تبارك الله
هذا الشاب القطري
صوته جميل و يحاكي القراءة
النجدية القديمة المحببة الى نفسي
من يعرف اسم هذا القارئ
أهلنا في قطر هنيئا لكم 🇶🇦
#قطر 🕊