@ranausamazahid ایک طرف اتنی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ایک سال سے زیرِ حراست ہیں تو دوسری طرف عدل کے ایوانوں میں جج صاحبان بے حسی کی چادر اوڑھے چھٹیاں منا رہے ہیں۔جب اپنے ہی شہری کی جان خطرے میں ہو اور عدلیہ چھٹیوں میں مست رہے، تو اس ظالمانہ نظام کی ترجیحات اور وجود پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں‼️
@Zaeemlegharii کیا یہ عدلیہ ملک میں انتشار کی آگ بھڑکانا چاہتی ہے؟ رضوی برادران کو عدالت کے سامنے پیش کرنے سے آخر کیوں گریز کیا جا رہا ہے؟ تاریخ پہ تاریخ دینے کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟ اپنے ہی شہریوں کے ساتھ یہ سوتیلی ماں جیسا رویہ اس نام نہاد اور بوسیدہ نظام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی 50 دن کے تعطل کے بعد مقرر ہونے والی سماعت کو ایک دفعہ پھر ملتوی کردیا گیا
جسٹس جواد ظفر رضوی برادران کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دن چُھٹی پر چلے گئے
اس سے قبل، جسٹس جواد ظفر رضوی نے کیس کی سماعت کو اپنی چھٹیوں کی بنیاد پر 50 دن کے لیے ملتوی کر چکے ہیں
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی ایک سال سے زائد عرصے، 368 دنوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں
رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی آئندہ سماعت اب 19 اکتوبر بروز پیر کے لیے مقرر کی گئی ہے
ٹی ایل پی قائدین کی بازیابی کے لیے دائر درخواست 6 دفعہ جج کی تبدیلی اور ایک سال گزر جانے کے باوجود مسلسل زیرِ التواء ہے
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ایک بار پھر ملتوی
لاہور ہائیکورٹ میں حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر 50 روز کے تعطل کے بعد مقرر ہونے والی سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔
جسٹس جواد ظفر کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی سماعت نہ ہو سکی۔ اس سے قبل بھی جسٹس جواد ظفر کی چھٹیوں کے باعث درخواست کی سماعت 50 روز کے لیے ملتوی کی گئی تھی۔
ٹی ایل پی کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کے اہلِ خانہ اور جماعت کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق دونوں بھائی 368 روز سے لاپتا ہیں۔
کیس کی آئندہ سماعت 19 اکتوبر، بروز پیر، مقرر کی گئی ہے۔
درخواست ایک سال گزرنے اور جج کی چھ مرتبہ تبدیلی کے باوجود تاحال زیرِ التوا ہے۔
53 جمعے گزر گئے جامع مسجد رحمت للعالمین، جامعہ ابوزر غفاری و مزارِ پُرانوار قبلہ بابا جان نور اللہ مرقدہ تاحال فورسز کے قبضے میں ہیں۔۔۔💔🥺
Reopen Masjid Rehmat-ul-Lil-Alameen
اہم عدالتی اپڈیٹ📌
رضوی برادران کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں آج ہونے والی سماعت جج صاحب کی رخصت کے باعث نہ ہو سکی۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت پیر، 19 اکتوبر 2026 کو ہوگی۔‼️
اہم عدالتی اپڈیٹ📌
رضوی برادران کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں آج ہونے والی سماعت جج صاحب کی رخصت کے باعث نہ ہو سکی۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت پیر، 19 اکتوبر 2026 کو ہوگی۔‼️
عدلیہ کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ امیرِ محترم کی جبری گمشدگی کا سنگین کیس 50 دن کے تعطل کے بعد بھی جسٹس جواد ظفر کی عدم دستیابی کی نذر ہو گیا۔ انصاف کے اس مسلسل التوا نے عدالتی نظام کے غیر سنجیدہ رویے اور اس کے مذاق بننے کا پول کھول دیا ہے۔آخر یہ تماشہ کب تک چلتا رہے۔۔ ⁉️
🚨پاکستانی عدلیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان‼️
گورنمنٹ اور ادارے ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں‼️
سیاسی جماعت کے قائد حافظ سعد رضوی کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست پر انصاف مسلسل تاخیر کا شکار ہے 50 دن بعد مقرر سماعت بھی جسٹس جواد ظفر کی چھٹی کے باعث ملتوی کردی گئی۔۔۔
"غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے"
یہ نعره میلادالنبی ﷺ کے ہر جلوس میں بلند ہوتا دیکھا، مگر میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں غلامی رسول میں موت کو حقیقتاً قبول کرنے والے صرف تحریک لبیک کے کارکنان دیکھے ہیں۔
یہ کیسا ملک ہے جہاں انصاف کہیں کھو چکا ہے ایک طرف پاکستان کی تیسری بڑی جماعت کے لیڈر کو جبری گمشدہ رکھے ہوئے ایک سال سے اوپر کا عرصہ ہو گیا اور دوسری جانب عدالتی نظام کا طرز عمل تو دیکھیے کہ سماعتیں مسلسل ملتوی ۔۔۔۔
50 دن کی طوالت کے بعد آج بھی جج چھٹی پہ رہا
Release Saad Rizvi
عدلیہ کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ امیرِ محترم کی جبری گمشدگی کا سنگین کیس 50 دن کے تعطل کے بعد بھی جسٹس جواد ظفر کی عدم دستیابی کی نذر ہو گیا۔ انصاف کے اس مسلسل التوا نے عدالتی نظام کے غیر سنجیدہ رویے اور اس کے مذاق بننے کا پول کھول دیا ہے۔آخر یہ تماشہ کب تک چلتا رہے۔۔ ⁉️