Amerika ' da 15 yaşındaki bir çocuk marketten ekmek çalarken yakalandı. Kaçmaya çalışırken bir de raf kırmış.
Cocuk tutuklanmış ve mahkemeye çıkartılmış.
Kararı vermeden önce hakim çocuğu da duymak ister.
Hakim: ′′ Neden çaldın? ′′
Çocuk: ′′ Ekmeğe ihtiyacım vardı. ′′
Hakim: ′′ Çalmak yerine ekmek alamadınız mı?"
Çocuk: ′′ Satın alacak param yoktu."
Hakim: ′′ Ailenden para isteyebilirdin. ′′
Çocuk: ′′ Evde sadece annem var. Annem hasta ve işsiz. Sırf bunun için biraz ekmek ve peynir çaldım."
Hakim: ′′ Sen küçüksün, normalde işin de yok. ′′
Çocuk: ′′ Yıkama üzerinde çalıştım. Bir hafta önce anneme hizmet etmek için izin aldım ve bu yüzden kovuldum. ′′
Hakim: ′′ Yardım isteyecek yeriniz ,kimseniz yok muydu? ′′
Çocuk: ′′ Her gün evden çıktığımda herhangi bir iş için eleman arayan en az elli adresle iletişime geçiyorum ama, başarısız. Sonunda hırsızlık yapmaya karar verdim. ′′
Çocuğun ifadesinin ardından hakim kararını açıkladı:
-" Çalmak, özellikle EKMEK çalmak çok utanç verici bir suçtur. Ve işte hepimiz bu suçtan sorumluyuz. Bu odadaki herkes ve ben de bu suçtan sorumluyum.
O zaman tüm mahkeme katılımcıları 10 $ ile ceza alacak. Siz her biriniz 10 $ gönderene kadar kimse mahkeme salonundan ayrılmayacak."
Hakim de 10 $ ' ını verdikten sonra aç çocuğu polise teslim eden markete de 1,000 $ para cezası verdi.
Kararı duyduktan sonra çocuk gözyaşlarını tutamadı ve ikinci karar okunurken hakimi görünce heyecanlandı.
Hakim gözyaşlarını saklamaya çalışarak, salonu terk etti. Hakimin son sözleri bunlardı:
-"Bir kişi EKMEK çalarken yakalanırsa, o cemaatin, toplumun, devletin tüm insanları utanmalıdır."
فتنۂ غامدی سے ہوشیار رہیں!
میں نے کافی عرصہ یہ سن رکھا تھا کہ جاوید احمد غامدی صاحب ایک بہت بڑا فتنہ ہیں۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ آخر اس شخص کا جرم کیا ہے؟
پڑھا تو معلوم ہوا کہ واقعی معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔
سب سے پہلے تو یہ شخص لوگوں کو قرآن پڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔ صرف پڑھنے کی نہیں، سمجھنے کی بھی!
اب آپ خود سوچیں، اگر عام مسلمان قرآن سمجھنے لگ گئے تو صدیوں سے چلے آنے والے "یہ مت پوچھو کیوں، بس مان لو" والے سنہری اصول کا کیا بنے گا؟
قرآن خود کہتا ہے:
"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ"
(النساء: 82)
مگر ظاہر ہے، قرآن تو یہ بات سب کے لیے کہہ رہا ہوگا، ہمارے لیے تھوڑی!
پھر اس فتنے کا دوسرا جرم یہ ہے کہ یہ کہتا ہے دین میں اصل اتھارٹی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہیں۔
یہ بات بظاہر تو ٹھیک لگتی ہے، مگر ذرا اس کے نتائج پر غور کیجیے!
اگر لوگ واقعی ہر بات کی دلیل قرآن و سنت سے مانگنے لگے تو پھر "ہمارے ہاں یہی ہوتا آیا ہے" جیسی مضبوط دلیل کا کیا ہوگا؟
پھر اس شخص کی جسارت دیکھیے کہ یہ نوجوانوں کو نماز کے الفاظ سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
حالانکہ اصل روح تو شاید یہی تھی کہ بندہ ساری زندگی "اِھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ" پڑھتا رہے مگر کبھی یہ نہ پوچھے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔
یہ شخص لوگوں کو بتاتا ہے کہ قرآن کہتا ہے:
"لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ"
یعنی عقل استعمال کرو۔
اب اگر لوگ واقعی عقل استعمال کرنے لگے تو ہر مسئلے میں سوال پوچھیں گے، تحقیق کریں گے، دلیل مانگیں گے۔ پھر بحثیں کیسے چلیں گی؟
اور سب سے بڑا فتنہ تو یہ ہے کہ یہ شرک، جھوٹ، بہتان، تکفیر، نفرت اور اخلاقی خرابیوں پر زیادہ زور دیتا ہے۔
حالانکہ امت کے اصل مسائل تو ظاہر ہے ٹوپی کے زاویے، مسواک کے قطر، شلوار کے سینٹی میٹر اور داڑھی کے ملی میٹر ہی ہیں۔
پھر یہ شخص کہتا ہے کہ دین لوگوں تک دعوت، حکمت اور دلیل سے پہنچاؤ۔
قرآن بھی کچھ ایسی ہی بات کرتا ہے:
"ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ"
(النحل: 125)
لیکن اگر ہر چیز حکمت اور دلیل سے ہونے لگے تو پھر غصہ، شور، فتوے اور الزام کس کام آئیں گے؟
میں تو اب اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ واقعی یہ شخص بہت خطرناک ہے۔
کیونکہ یہ لوگوں کو دین سے دور نہیں، براہِ راست قرآن کے قریب لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ انہیں اندھی تقلید نہیں، شعوری ایمان کی دعوت دیتا ہے۔
یہ انہیں شخصیات کا نہیں، دلائل کا اسیر بنانا چاہتا ہے۔
لہٰذا میری تمام بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس فتنے سے بچیے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے لگیں، دین پر غور کرنے لگیں، ہر بات کی دلیل مانگنے لگیں اور پھر آپ کو احساس ہو جائے کہ اللہ نے آپ کو دماغ صرف ٹوپی سنبھالنے کے لیے نہیں دیا تھا۔ 🤭
@ButtSajidb31199@soulat_pasha کیا کیا انمول نگینے تھے، کیا انسان تھے، واہ
استاد دامن محترم کی یاد آئی تو ان کے یہ اشعار آپکی نظر، عقل والوں کیلیے نشانی ہے:
واہگے نال اٹاری دی نہیں ٹَکّر،
نہ گِیتا نال قرآن دی اے
نہیں کُفر اسلام دا کوئی جھگڑا،
ساری گَلّ اِیہہ نفع نقصان دی اے
استاد دامن کا ایک چاہنے والا اُن کے لیے دیسی گھی میں پکے دو پراٹھے لے کر آیا۔ استاد دامن نے پراٹھے ایک طرف رکھے اور اُٹھ کر ایک بڑا سا پیالہ لیا جس میں چینی ڈالی۔ ایک پراٹھے کو توڑا اور پیالے میں ڈھیر ساری چُوری بنا لی۔ پھر اُٹھے اور کمرے کے چاروں کونوں میں وہ چُوری زمین پر ڈال دی اور واپس آ کر مہمان کو کہا کہ لو ایک پراٹھا مل کر کھائیں۔
مہمان پریشانی سے زمین پر گری چُوری پر نظریں مرکوز کیے تھا کہ اچانک بہت سے بڑے بڑے چوہے کونوں کھدروں سے نکلے اور تیزی سے چوری کھانے لگے۔ مہمان نے حیران ہو کر پوچھا کہ استادِ محترم یہ کیا؟
ہنس کر جواب دیا چُوری ہے اور چوہے کھا رہے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔ میرے کمرے کے چاروں طرف دیکھو۔ میری ساری عمر کی کمائی۔ میرا خزانہ میری کتابیں تمہیں ہر طرف نظر آئیں گی۔ چوہے خوش ذائقہ چوری کے عادی ہیں۔ ان کو اب کتابوں کے کاغذوں کا بے مزہ ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے چوہوں کو چوری کھلانے کا فائدہ یہ ہے کہ میری کتابیں محفوظ ہیں۔میرا خزانہ محفوظ ہے۔ تم بھی اگر اپنے کسی بھی خزانے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو یاد رکھو اردگرد کے چوہوں کا خیال رہو۔ انہیں چوری ڈالتے رہو۔ سدا سکھی رہو گے۔
پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد استاد نے مہمان سے مخاطب ہو کر کہا ۔
زندگی بھر ایک بات یاد رکھنا ، رب العزت زندگی میں جب بھی کبھی تمہیں کچھ دے۔ اُس میں سے کچھ حصہ اپنے اردگرد موجود چوہوں کو ضرور بانٹ دیا کرو ۔ کیونکہ چوہوں کی ہر اُس چیز پر نظر ہوتی ہے جو تمہارے پاس آتی ہے۔ یہ چوہے کوئی اور نہیں اکثر تمہارے اطراف لوگ ہیں❣️
اسلم ملک صاحب کی وال سے
@dufferistan@fourvoyagers@Vesimeer رانا صاحب کے ہاتھ ماشاءاللہ باغ میں کھُرپا گیری اور گوڈی کرکر کے ایسے رِیگِ مار ذدہ ہو چُکے ہیں کہ "محبت سے چُھونے" کے سِوا ہر کام کر سکتے ہیں... 🫣🏃🏻🏃🏻🏃🏻
@fourvoyagers راہِ تخلیق میں تکمیلِ سفر ہونے تک
جانے کیا گزری ہے، بندر پہ بشر ہونے تک...
چاچے ڈارون کو یقیناً اس مخلوق کو علم نہیں تھا وگرنہ وہ HMS Beagle پہ سوار ہونے کی بجاۓ کسی گمنام کوہ میں سر دے کے رام رام جپتا اور سورگ سُدھارتا..
@fourvoyagers راہِ تخلیق میں تکمیلِ سفر ہونے تک
جانے کیا گزری ہے، بندر پہ بشر ہونے تک...
چاچے ڈارون کو یقیناً اس مخلوق کو علم نہیں تھا وگرنہ وہ HMS Beagle پہ سوار ہونے کی بجاۓ کسی گمنام کوہ میں سر دے کے رام رام جپتا اور سورگ سُدھارتا..