@enkidureborn مرد کےچار حقوق یہ ہیں۔
- بہو پر اپنےحقوق لادنے کی بجائے اس کے شوہر کا حق تسلیم کریں۔
- مرد کو کنٹرول کرنے کی بجائے اس کو بیوی کےمتعلق آزادانہ فیصلےکرنے کا حق دیں۔
- مرد کے علیحدہ گھر کے حق کو تسلیم کریں۔
- میاں بیوی کے معاملات سے اپنی ناک دور رکھیں تاکہ سب عزت و امن سے رہ سکیں۔
@Lalika79 حدیث کا تو پتا نہیں البتہ یہ نظریہ ریاضیاتی طور پر درست ہے۔۔۔۔دس جیب کترے ہمیشہ بہترین جیب کترے کو اپنا لیڈر مقرر کریں گے۔
دس دین دار نمازی سب سے بہتر دیندار نمازی کو اپنا لیڈر بنائیں گے۔
نواز شریف اور عمران خان کےووٹرز کی اخلاقیات، معاشرت اور ذہنی استعداد کا فرق بالکل واضع ہے۔
@AnwarLodhi خوفناک آمریت اور دہشت گردی پنجاب والوں نے ہی بگهتی ہے۔ مرد ہمیشہ اپنی عورتوں کی رسوائی سے ڈرتا ہے۔۔۔۔اور پنجاب میں عورتوں کو تو چھوڑیں بچیوں اور شیر خوار بچوں کو کو نہیں چھوڑا گیا۔
امید ہے کہ آپ اپنی رائے پر نظر ثانی کریں گے۔
میں ایک نشریاتی ادارے میں کام کرتا ہوں یہاں پر ہمیں غزہ کی صورتحال پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔
پچھلے کئی مہینوں سے جو حالات غزہ میں ہیں اس کی وجہ سے کرب اتنا بڑھ گیا ہے کہ سویا نہیں جاتا۔ رویا بھی نہیں جاتا۔ ظلم دیکھ دیکھ کر اعصاب جواب دے گئے ہیں۔
اگر دنیا میں کہیں اس وقت کربلا برپا ہے تو غزہ میں ہے۔
ایسے ظلم اسرائیلیوں نے فلسطینیوں پر کئے ہیں کہ شاید جہنم کا جو تصور ہمارے ذہن میں ہے اس میں بھی ایسی چیزیں نہ ہوں۔
کہیں والدین بچوں کی جلی ہوئی لاشوں کو چادروں میں اکٹھا کرریے ہیں اور کہیں بچے مرے ہوئے والدین کے کنارے بیٹھے نالے و فریاد کر رہے ہیں۔
اور کہیں اسرائیل کے پیدا کردہ قحط سے گوشت پوست کے بغیر بچے دیکھنے پڑتے ہیں۔
سوکھ کر لکڑیاں بن گئ ہیں۔
ایک علاقے میں ہمسائے کئی ماہ گھروں میں بغیر کوئی غذا کے چھپے ریے۔ جب نکلے تو ایک دوسرے کو پہچان نہ پائے۔
اسرائیل نے جو سلوک فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہے وہ مضر جانوروں کے ساتھ بھی نہيں ہوتا۔
دنیا کے ٹاپ طبی جریدے لانسیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ میں شہادتوں کی تعداد فلسطینی وزارت صحت کے اندازے سے پانچ گنا زیادہ یے۔
رپورٹ کے مطابق، غزہ کی وزارت صحت کا اندازہ ہے کہ فلسطین کے علاقے میں جون تک تقریباً 38000 افراد جان بحق ہو چکے ہیں، جبکہ دی لانسیٹ کا کہنا ہے کہ شہادتوں کی اصل تعداد 186000 تک ہو سکتی ہے۔
یہ ہے وہ ناجائز ریاست جس کو تسلیم کرنے کا وعدہ جنرل باجوہ امریکیوں سے کرکے آیا تھا۔ اور موجودہ رجیم کے لب سلے ہوئے ہیں کیونکہ ان کچھ عرب، امریکی اور انڈین (جی انڈین) دوستوں نے کہا ہوا کہ اپنا منہ اسرائیل کے خلاف نہیں کھولنا۔