مریم نواز شریف نے کوئی ایسی غلط بات نہیں کی
وہ وزیراعظم پاکستان نہیں
بلکہ وزیر اعلی پنجاب ہے
وہ پنجاب کے عوام کی حفاظت کی ذمہ دار اور صرف پنجاب کے عوام کو جوابدہ ہے
محفوظ پنجاب کیلیے حکومت پنجاب بہت کامیاب اقدامات کر رہی ہے
پاکستان میں دہشت گردی کون کرتا ہے؟؟؟ TTP
TTP کو کون سپورٹ کرتا ہے؟؟ PTI
KPK میں TTP کے خلاف ریاست کے آپریشن میں رکاوٹ ہی PTI کی حکومت ہے
پنجاب میں TLP والے شر پسند تھے
اسی وزیراعلی نے TLP کا پتہ صاف کر دیا
KPK کی حکومت TTP کا صفایا کیوں نہیں کرتی؟؟
کیوں دہشت گردوں کو سپورٹ کرتی ہے؟؟
وہیں سے دہشت گرد پنجاب بھی آتے ہیں
فضل الرحٰمن تک تو بھتہ دیتا ہے
بلوچستان میں پنجابی قتل ہوتے ہیں
اسی وزیر اعلی پنجاب نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتی حکومت بلوچستان کو دس ارب روپیہ کی گرانٹ دی❤️
سندھ کے درالحکومت کراچی کے لوگ پُرسکون زندگی گذارنے کے لئیے پنجاب لاہور آکر سیٹل ہورہے ہیں
تو پھر کیا غلط کہا @MaryamNSharif نے ؟؟؟
نام نہاد کنجر صحافی جان بوجھ کر مریم کے بیان کو twist کرتے ہوۓ لسانیت اور صوبائیت کو ہوا دے رہے ہیں
اور آگے سے یوتھیے
وہ تو ہیں ہی اینٹی پاکستان کنجر
اپنے اپنے صوبے سنبھالو بیغیرتو
اپنی عوام کو سُکھ کا سانس دو
اُنکی محفوظ زندگی کو یقینی بناؤ
پنجاب کا مقابلہ تُمہارے بس کی بات نہیں
#مریم_نے_جو_کہا_ٹھیک_کہا👍
اکثر نمازی اپنی پیشانی پر بنے اس کالے محراب پر فخر کرتے ھیں مگر یہ "پیراسائیٹک انفیکشن" ھے جو فرش، قالین اور جائے نماز پر گندے پاؤں کی وجہ سے لگتی ھے۔ Trosyd کریم استعمال کرنے سے یہ نشان ختم ھو جاتا ھے۔
کئی نمازیوں کے ٹخنوں پر بھی یہی " محراب " دیکھا گیا ھے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کسی نے نہ نماز پڑھی اور نہ طویل سجدے کیے ,
شمائل نبوی میں کہیں بھی ان محرابوں کا ذکر نہیں
اس لیے اپنے ماتھے رگڑ رگڑ کر خراب مت کریں۔
یہ کریم لگائیں تاکہ انفیکشن ختم ھوجاۓ
قربان جاؤں!
فیفا ورلڈ کپ میں شریک سینیگال کی فٹبال ٹیم کے کوچ پاپے تھیاؤ (Pape Thiaw) اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ پریس کانفرنس میں دیئے گئے ان کے وہ جرات مندانہ بیانات ہیں، جنہوں نے سب کو حیران کر دیا۔
ایک صحافی نے سوال کیا:
''آج ریاست نیو جرسی میں تیز ہوائیں چل رہی تھیں اور سیکورٹی حکام نے وفد کے ارکان کو اپنی حفاظت کے پیش نظر باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا تھا، پھر آپ نماز کے لیے کیوں نکلے؟''
پاپے تھیاؤ نے جواب دیا:
''کیا نماز سے زیادہ بھی کوئی اہم چیز ہو سکتی ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ سوال آپ کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔ آپ ہواؤں سے ڈرتے ہیں، جبکہ ہم اُس اللہ سے ڈرتے ہیں جس نے ان ہواؤں کو پیدا کیا ہے۔ ہم یہاں ایک تفریحی کھیل کھیلنے آئے ہیں، مگر افسوس کہ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہماری اصل تخلیق اللہ کی عبادت کے لیے ہوئی ہے۔
اگر آج ورلڈ کپ کا فائنل بھی ہوتا اور ہم اس کے فائنلسٹ ہوتے، تب بھی ہم نمازِ جمعہ ادا کرنے ضرور جاتے، چاہے اس کی قیمت ہمیں چیمپئن شپ سے محرومی کی صورت میں ہی کیوں نہ چکانی پڑتی۔ ہمارے دینی شعائر کے بارے میں ہم سے اس انداز میں گفتگو نہ کی جائے۔''
اللہ کی قسم! مجھے سینیگال پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ افریقی براعظم کی نمائندگی کرنے کے لیے اس سے بہتر مثال شاید ہی کوئی ہو۔ پاپے تھیاؤ کے یہ بیانات آج بھرپور بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایمان اور یقین کی ایسی قوت کم ہی دیکھی ہے۔ صحافی حقیقتاً خاموش ہو گیا اور ان چند جملوں کے بعد اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہ بچا۔
آجکل امبانی خاندان کا بہت چرچا ہے لیکن ساتھ یہ بھی نوحہ گایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس امبانی ، برلا ،ٹاٹا جیسی کمپنیاں کیوں نہیں ہیں۔
لیکن کیا کیا جائے کہ نئی نسل کے لیئے جاننا ضروری ہے ۔۔۔۔۔کہ
1970 تک پاکستان میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا برلا سے بڑے جینیئس صنعتکار، بینکار، بزنس جینئس تھے۔ جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔
ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا، مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔
ان میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا، داوود گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے۔
داوود ہرکولیس کے پاس ٹریکٹر کی پروڈکٹ تھی، ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات، اصفہانی خاندان اور سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک تھے۔
ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائیر لائینوں سے بہتر تھی، حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے۔
ساٹھ کی دہائی ان کا حبیب پلازہ ایشیاء کی بلند ترین عمارت تھی۔
ایشیاء میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔
۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور مختلف مصنوعات کے بانی تھے،
لاہور میں بیکو انڈسٹری یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔
ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتی۔۔۔
میاں شریف کی اتفاق ٹیوب ویل اور تھریشر کے بانی تھے۔
سن چھیاسٹھ بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔
لارنس پور وولن ملز کی سوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی جو کہ پوری صنعتی ریاست تھی۔
جن کے مالک مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔
بھٹو صاحب نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے ان کے پیٹ سے نکالوں گا۔
۔ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہوا کرتے تھے۔ ہم نے ان محسن خاندانوں کے خلاف خونی تحریک چلائی۔
بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ جس کو نیشنلائیزیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔
بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، کسمپرسی کی حالت میں فوت ہوئے۔
اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر گلف سٹیل ملز کے نام سے مڈل ایسٹ میں فیکٹری لگا کر بیٹھ گئے۔
اصفہانی کنگال ہوگئے ۔
ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا۔
ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوئی،
حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا،
سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔
کوہ نور پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی تباہ ہوئی۔
رہے سہے جاگیرداروں کو اسمبلیوں میں لا کر بٹھا دیا ۔کاروبار بند کروا کر سیاست پہ لگا دیا
مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے،
کراچی سائیٹ انڈسٹریل ایسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے، شاہنواز لمیٹڈ، شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے تھے، سب کچھ قومیا (نیشنلائیز) کرکے تباہ کر دیا گیا۔
ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔
عوام کو بے روزگار کیا فیوڈلز، وڈیرے چوہدری مخدوم لغاری جتوئی ٹوانے سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن گئے۔
اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیاگیا ۔
اہل شعور اور خواندہ لوگوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
احسن اقبال آپ کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی ہے۔ میں نے وقت لیا آپ کو جواب دینے میں۔ کچھ لحاظ کے تقاضے تھے۔ مگر اب جواب دے رہا ہوں۔ نواز شریف کی جس ترقی کے سفر کا ڈھول آپ پیٹ رہے ہیں اس نے ملک کو تباہ کر دیا۔ آج پاکستان اس قرضوں کے جال میں ان کی غلط پالیسی اور آپ جیسے پلاننگ کے مشیروں کی وجہ پھنسا ہوا ہے۔ دو پراجیکٹ جس کے لیے وہ کریڈٹ مانگتے ہیں وہ پاکستان کا ناسور تھے۔ پہلا لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے پہلے نوے کی دہائ اور پھر اپنی تیسری گورنمنٹ (2014-15) میں کیے آئ پی پی کے کرپٹ معاہدے تھے۔ اس میں ریاست کا مفاد نہی دیکھا گیا اور ان سیٹھوں کو جو یا رشتہ دار تھے یا پارٹنر نوازا گیا۔ اب بھی ہم ان کو دو ہزار ارب سالانہ سے زیادہ منافع دے رہے ہیں چاہے وہ اک یونٹ بھی بجلی نہ بنائیں۔ چھیالیس ہزار میگا واٹ بجلی کی کہیسیٹی ہے مگر پچیس بھی نہی بنا پا رہے۔ اس جرم کا کون زمہ دار ہے۔ دوسرا جو سڑکوں کا جال بنانے کا تمغہ لیا جاتا ہے۔ مودی نے اسی ہزار کلومیٹر سڑکیں بھارت میں بنائیں مگر اپنے پیسے سے۔ ہم نے اس کے مقابلے بہت کم بنایا مگر ڈالر کے قرضے میں۔ میں مال بنانے کا الزام نہی لگا رہا مگر ملک اس وقت ان دو بڑے پراجیکٹ کی وجہ سے قرضے کے جال میں پھنسا ہے۔ ہمارا ڈیبٹ یعنی قرضہ بحران جس سے ہمارا کرنٹ اکائونٹ، تجارتی اور بجٹ خسارے جنم لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ موقع نہی ملا۔ کتنا موقع چاہیے۔ پچھلے چار سال سے پورا موقع تھا۔ نہ عدالت نہ اپوزیشن نہ پارلیمان نہ میڈیا۔ ایسا موقع تو آمریت میں نہی ملا۔ کیا کیا آپ نے۔ قرضے چتالیس ہزار ارب سے اسی ہزار ارب تک ہو گئے۔ پاکستان کی تاریخ چھوڑیں مونجھوداڑو کے زمانے سے پنتالیس فیصد غربت پانچ دریاؤں کے دھرتی میں نہی دیکھی گئ۔ بائیس فیصد بیروزگاری۔ پچاس سال میں پہلی دفعہ ساری بڑی فصلوں میں گراوٹ۔ اس پر بھی آپ شرمندہ نہی بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہمیں موقعہ نہی ملا۔ اگر میرے کسی خیال سے اختلاف ہو تو میں کئ دفعہ آپ کو ٹی وی پر بلا چکا کہ مجھے غلط ثابت کر لیں۔ محظ پراپیگنڈا نہ کریں۔ مزید جواب پر میں پھر حاظر ہوں۔ اب اس جواب کو کتنا تھراٹل کروائیں گیں۔
آپکو پتا ہے ادارہ مجوسیوں اور یوتھیوں کے خلاف علم جہاد بلند کئے ہوئے ہے
اسی وجہ سے ادارے کا اکاؤنٹ چوبیس گھنٹے لاک رہا مجوسیوں نے رپورٹ کر کر کے اکاونٹ لاک کروا دیا تھا کہ اے سانوں ذلیل کردا اے 😂😂
آپکا بھائی واپس آگیا ہے۔۔۔بس آپ یہ ٹویٹ دیکھتے ہی لائیک اور RT کردیں