شاعر و لکھاری عابد حسین عابد نے فیس بُک پر پوسٹ کیا ہے کہ:
”آج شام پنجاب گورنمنٹ کے روڈ ریوینیو آفسیر عرف ٹریفک وارڈن نے پاک ٹی ہاؤس والے اشارے پر مجھے روکا۔
میں نے حیرت سے پوچھا کوئی وائیلیشن ہو گئی؟ اس نے بتایا تم نے ایکسٹرا لائٹ لگائی ہوئی ہے۔ اسے بتایا ہیڈ لائٹ بہت مدھم ہے رات کو نظر نہیں آتا۔ یہ جلنے بھجنے والی لائٹ نہیں جو سامنے والے کو تنگ کرے۔ یہ تو کسی بھی صحت مند موٹر سائیکل کی ہیڈ لائٹ سے بھی کم ہے۔
صاحب بہادر نے ایک نہ سنی اور چالان کر دیا۔
احمق حکمرانو! اگر شہریوں کو وسائل نہیں دے سکتے تو انہیں حیلے بہانے سے لوٹتے کیوں ہو؟
سڑکوں پر مہینے کا ٹارگٹ دے کر کھڑے کر رکھا ہے ریوینیو انسپکٹروں کو ٹریفک وارڈنز کی وردی میں۔ ہم ماڑے لوگ کب تک تمہارا خرچہ اٹھا سکیں گے۔
کم آمدنی والے پریشان حال لوگوں کو مزید پریشان کرتے ہوئے تمہیں ذرا شرم نہیں آتی؟“
جڑانوالہ کی انور بی بی کو ایک بااثر شخص نے عمرہ پر بھیجا، اس نے انور بی بی کو کچھ سامان بھی دیا جس میں منشیات تھیں۔ سعودی عرب پہنچنے پر وہ گرفتار ہو گئیں، دوران قید جیل میں چل۔بسیں اور اب ان کی میت واپس ان کے گاؤں پہنچ گئی۔
بااثر شخص آج بھی آزاد ہے اور آزاد ہی رہے گا کیونکہ جنہوں نے پاکستان کی انور بیبیوں کے تحفظ کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے وہ اپنی دنیا سنوارنے میں مگن ہیں۔
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
😕 آج ایک بہت مایوس کن تجربہ ہوا، اس لیے سوچا سب کے ساتھ شیئر کروں تاکہ دوسرے لوگ بھی آگاہ رہیں۔
میں اپنے دوستوں کے ساتھ Fork n Knives (Kohinoor Branch) گیا۔ ہمارے پاس نقد رقم نہیں تھی، اس لیے ہم نے کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے کی درخواست کی، لیکن عملے نے کارڈ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ہمیں بتایا گیا کہ نقد ادائیگی پر 16% ٹیکس جبکہ کارڈ کے ذریعے ادائیگی پر 8% ٹیکس ہے۔ چونکہ کارڈ قبول نہیں کیا گیا، اس لیے مجبوری میں نقد ادائیگی کرنا پڑی اور زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑا۔
سب سے تشویش ناک بات یہ تھی کہ ادائیگی کے بعد ہمیں FBR کی باقاعدہ ٹیکس رسید (Invoice/Fiscal Receipt) بھی فراہم نہیں کی گئی۔
اگر واقعی کارڈ ادائیگی سے انکار کیا جائے، زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے، اور FBR کی قانونی رسید بھی نہ دی جائے، تو یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ متعلقہ اداروں، خصوصاً Punjab Revenue Authority (PRA) اور Federal Board of Revenue (FBR) کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پوسٹ کسی کی بدنامی کے لیے نہیں بلکہ عوامی آگاہی کے لیے شیئر کر رہا ہوں۔
📍 Fork n Knives – Kohinoor Branch، فیصل آباد
کیا کسی اور کو بھی یہاں ایسا تجربہ ہوا ہے؟ اپنی رائے یا تجربہ کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
#ConsumerRights #PRA #FBR #CardPayment #Faisalabad
@PERAPunjab@CMComplaintCell
They have increased Toll tax on GT ROAD by 30%, You pay 200 rupees to Govt for a nightmare experience because there is literally no road on Gujranwala -- Muredkie Section
Destroy your vehicle, Risk your Life but don't forget to pay taxes
Haq Haq
🚨 آئیسکو کے ترجمان کا مؤقف دیکھ کر حیرت ہوئی۔
ایک اے سی کا لوڈ تقریباً 2.6 کلو واٹ ہوتا ہے، یعنی ایک وقت میں تقریباً 3 یونٹ بجلی استعمال ہوتی ہے۔
دو اے سیز:
2.6 × 2 = 5.2 کلو واٹ
یعنی ایک وقت میں تقریباً 6 یونٹ بجلی کا استعمال۔
اگر روزانہ 12 گھنٹے استعمال کیا جائے تو:
6 × 12 = 72 یونٹ روزانہ (جبکہ اے سیز دن رات چل رہے ہیں)
اور
72 × 30 = 2160 یونٹ ماہانہ (کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں)
آئیسکو کی پالیسی کے مطابق ملازمین کو سالانہ 1800 یونٹس تک بجلی کی رعایت حاصل ہے۔
اب ذرا آئیسکو ملازمین کے یہ بل بھی ملاحظہ کریں۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی صارف دو اے سیز، لائٹس، پنکھے، استری، واشنگ مشین اور دیگر گھریلو برقی آلات استعمال کرے، مگر پھر بھی بجلی کا بل ادا نہ کرے؟ صفر بل؟ کیا یہ نارمل ہے؟ نہیں! نارمل نہیں ہے! اسلام آباد الیکٹرک سپلائ کمپنی کے افسران و ملازمین مسلسل بجلی چوری کر رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ کوئ پوچھنے والا نہیں!
غریب کو ایک پائ کی رعایت نہیں اور عملہ کی موجیں! شاباش!
یاد رہے کہ میٹر کا براہِ راست مین سپلائی سے لگائے گئے غیر قانونی کنکشن (Direct Connection) سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ 🤷🏻♂️
پٹرول کے بڑھتے ہی TCS نے اپنے کوریئر کے چارجز بڑھا دیئے تھے جو کہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے سے زیادہ تھے
اب جبکہ پٹرول سستا ہوچکا ہے لیکن TCS نے چارجز کم نہیں کیئے میں ابھی گیا تھا کوریئر کرنے کے لیے جب میں نے کہا کہ اب پٹرول سستا ہوچکا ہے تو چارجز کم کیوں نہیں کیئے تو کہتے ہیں کہ یہ مینجمنٹ کا کام ہے ہم جب منیجمنٹ کو کہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ خاموشی سے لوگوں کی باتیں سن لیا کرو
اس ملک میں پٹرول بڑھتے ہی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں لیکن کم کرانے کے لئے کوئی ادارہ نہیں
کیا عوام یونہی لٹتے رہیں گے
گوجرانوالہ کے لوگ متوجہ ہوں!
اس لڑکے کا نام اویس ہے اور یہ آفس والی کرسیوں کی مرمت اور پوشش کا کام کرتا ہے۔ آج سٹی ہاؤسنگ میں اس محنتی نوجوان کو شدید آندھی کے دوران کام کر کے پیدل جاتے دیکھا تو دل کیا اسے کسی طرح سپورٹ کیا جائے۔ اگر آپ نے اپنا کرسیوں کا کام کرنا ہو تو اس بھائی کو ضرور ایک موقع دیں۔ اللہ اسے برکتوں والا رزق عطا فرمائے۔ اسکا نمبر 03134715377
سینئر صحافی شہباز رانا کی ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد امپورٹ ڈیوٹی کم کردی ہے اور عمر کی حد بھی ختم کردی گئی ہے، لیکن بچوں کی پنسلوں اور کاپیوں کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کے لیے آئی ایم ایف سے اجازت حاصل نہیں کی جاسکی۔ اس سے ملکی ترجیحات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے
میں عام طور پر مانگنے والوں سے معذرت کرتا ہوں لیکن ، ریسٹورنٹ میں یا فوڈ پانڈا رائیڈرز کو یا کسی فری پارکنگ کے گارڈ کو ٹپ دیتے ہوئے کبھی کنجوسی نہیں کی۔ رب اتنے جوگا رکھے۔
وجہ یہ سمجھتا ہوں کہ کام کرتے ہوئے کو چار پیسے دینے میں ہرج نہیں۔ محنت تو کر رہا ہے ۔ بھکاری ہونا درست نہیں
فراڈ ہی فراڈ ہو رہا ہے 😍
گوجرہ موٹروے فراڈ
فیصل آباد سے ای ٹیگ کا استعمال کرتے ہوۓ گوجرہ انٹرچینج پے اترنے والے سے یہ کہہ کے دوہزار وصول کرنے کی کوشش کی گئی کہ آپ نے موٹروے پے چڑھتے ہوۓ انٹری پرچی نہی لی
اور پھر جعلی دوہزار کی رسید دینے کی کوشش میں پکڑا گیا تو شرمندگی سے لڑنے لگا -
موٹروے پولیس سے نوٹس لینے کی اپیل پلیز
ڈنمارک کی وزیراعظم کی یہ گفتگو کسی بھی یورپی لیڈر کی طرف سے ایک بم شیل ہے میٹے کا کہنا ہے کہ آے آئی اور سوشل میڈیا وہ جن ہیں جنہوں نے جمہوریت کو یرغمال بنا لیا ہے جو لوگ اے آئی ٹیکنالوجی بنا رہے وہ جمہوریت کے خلاف اور مکمل کنٹرول چاہتے ہیں
’لگتا ہی نہیں یہ پاکستان ہے‘، راولپنڈی کا معرکہ حق سکوائر وائرل۔۔۔ جدید طرزِ تعمیر، رنگ برنگی روشنیاں اور اور ایسا ماحول کہ دیکھ کر لوگ حیران، آخر اس جگہ میں ایسا خاص کیا ہے جو ہر کسی کو رکنے پر مجبور کر رہا ہے؟
@HasanQau
Keukenhof پون صدی سے ڈچ قوم کے ذوق کی نمائندگی کر رہا ہے۔7ملین پھول اگانے کیلئے سارا سال محنت کی جاتی اور صرف 7 ہفتے کیلئے کھلتا ہے قریبا 14 لاکھ ٹکٹ بکتے اور اسی فیصد لوگ باہر سے آتے ہیں۔سارا گھوم لیں تو پندرہ کلو میٹر واک ہو جاتی ہے۔کمال جگہ ہے ایک مرتبہ لازمی تشریف لائیے۔