بلوچستان کے نسل پرست تعصب زدہ سیاست دان بڑی بڑی بونگیاں مارنے کی بجائے اپنے گاؤں میں وضو کے پانی کا بندوبست کر لیں۔۔۔جو لوگ اپنے گاوں میں پرائمری سکول نہیں کھول سکتے وہ بھی ہر وقت وفاق کو بلیک میل کرتے ہیں۔
جنرل ڈائر نے اپنے جیپ سے بلوچستان کا بلوچ بلٹ اور میجر سنڈیمن نے اپنے گھوڑے سے پشتون بلٹ قبضہ کیا۔۔۔آج کل خیر سے ان بزدلوں کے بچے اپنے ملک پاکستان کے خلاف بڑے بہادر مزاحمت کار اور جنگجو بنے ہوئے ہیں۔۔۔
انگریزوں نے 1890 میں بولان میں ریل پٹڑی بچھائی۔۔۔انگریز دور میں نام نہاد بہادر بلوچوں بروہیوں نے انگریز ٹرین پہ ایک حملہ بھی نہیں کیا۔۔۔۔آج یہ بزدل بےغیرت کے بچے مسافر ٹرینووں پہ حملے کر رہے ہیں۔۔آج بھی ان کا علاج ڈنڈہ ہے جس طرح انگریز ان کو ڈنڈہ کرتے تھے۔۔۔۔۔اور بس
بلوچستان کے وڈیرے سردار و نواب رات کی تاریکی میں سڑکوں پہ کام کرنے والی مشینری جلا کر دن کو واویلا شروع کرتے ہیں کہ بلوچستان ترقی نہیں کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔بلوچستان کو فنڈ نہیں ملتا۔۔۔ہمارا فنڈ پنجاب کھا رہا ہے۔۔۔۔
میں بلوچستان میں رہتا ہوں جہاں قوم پرستی نے بدبودار نسل پرستی کی شکل اختیار کی ہے۔مگر اللہ تعالی نے مجھ پہ خصوصی فضل کیا ہے۔میرے دل میں اسلام پاکستان اور انسانیت کے لیے محبت ہے۔پاکستان زندہ باد۔راز لونی کوئٹہ
ایران کے ساتھ ہم نے صرف ایک بار نیکی کی وہ تشکر پاکستان کے نعرے لگا رہے ہیں۔۔۔اور نمک حرام اغوانیوں کو 45 سال پالے مگر پھر بھی ہم کو گالیاں دے رہے ہیں۔۔ اغوانی بےضمیر نمک حرام ہیں۔
پاکستان نے اغوانستان نامی طوائف کو 40 سال تک عالمی بدمعاشوں سے بچا رکھا۔۔اب اسی طوائف نے پاکستان کے خلاف بھارت کے گنگرو پہنے ہیں۔۔۔اب اس کنجر طوائف کا علاج ضروری ہے۔۔۔۔
بنگالی بھی 1971 سے پہلے یہی کہتے تھے ہمارے بغیر پاکستان نہیں رہے گا۔آج پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور بنگالی اپنی دفاع کے لیے اسی پاکستان سے مدد مانگ رہے ہیں۔۔۔بلوچ بلیک میلر سوچ لیں۔۔۔اب پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔بلیک میلرز کوئی اور کام ڈھونڈ لیں۔۔۔
بلوچستان کے سرکاری کالجوں اور یونیورسٹی کے پرفیسر سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے تنخواہ لیکر ملک کے خلاف باغی نسل تیار کر رہے ہیں۔معصوم خواتین سے خودکش دھماکے کرانے میں ان سرکاری اساتذہ کا بہت بڑا کردار ہے۔