@Atifrauf79@ShahbazAhmedISF غالب امکان یہی ہے کہ جناب کا خانوادہ 47 کے بعد انڈین پنجاب سے ہجرت کرکے ریاست بہاولپور میں آباد ہوا۔
کیونکہ صرف مہاجرین اور نوآباد افراد کو ہی اس نعرہ کی سمجھ نہیں آتی۔
@masfrom701@ji_khokhar5722 https://t.co/ZRshP3Jivk
1872 میں انگریز سرکار کی شائع کردہ کتاب جس میں سرائیکی کا ذکر موجود ہے۔ (یہ حوالہ صرف آپ کے سوال کے جواب میں پیش کیا ہے).
مزید بھی کئی قدیم اور 47 کے بعد کے حوالے جس میں ریاستی اور سرائیکی زبان کی پنجابی سے الگ شناخت بتائی گئی موجود ہیں۔
@MeAsmaGul ذرا اپنی انگلیوں کو گوگل یا AI پر ٹائپ کرنے کی تکلیف برداشت کرلیں تو جواب تسلی بخش مل سکتا ہے۔
لیکن اگر کوئی شخص مذہبی متن سے یہ توقع کرے کہ وہ ہر مستقبل کی طبی، نفسیاتی اور سماجی اصطلاح کا نام لے کر تعریف کرے، تو یہ بے وقوفی ہے۔
@SohnaPunjaab 1849 سے پہلے اور 62 تک مزید حوالاجات بھی موجود ہے انگریزوں اور مقامی لکھنے والوں کے۔
طبیعت مزید خراب ہو تو اس کی ڈوز کا تقاضا بھی کرسکتے ہیں آپ۔
انشاءاللہ شافی علاج کیا جائے گا۔
@SohnaPunjaab ""صرف لفظ کی حد تک"" میں 1849 کی یہ کتاب میں سرائیکی لفظ کا حوالہ موجود ہے۔۔۔پڑھ لو
اگر دیگر حوالہ جات جہاں اسے ملتانی، سرائیکی اور ریاستی کے طور الگ شناخت سے ظاہر کیا گیا ہے تو وہ بھی حاضر کر دیتے ہیں ۔
https://t.co/alabtgsWrm
@mianhamid007 بھائی تو 1962 ��ے پہلے کا کوئی نقشہ لے آ جس میں سرائیکی ریاست بہاولپور پنجاب کے نقشہ میں شامل ہو۔۔۔
سکھوں والا بھی تسلیم کرلیں گے تو بس لے کے آ
@ZahidGishkori بڑے بڑے مگرمچھوں ک�� ٹھیکہ دینے کی بجائے قرب و جوار کے نوجوانوں کو انفرادی طور الگ الگ دکانیں اور فوڈ اسٹال مناسب کراۓ پر شرائط و ضوابط کے تحت دے دیتے تو کافی مسائل حل ہوجاتے۔ بے روزگاری کا خاتمہ، مسافروں کو مناسب قیمت پر اشیاء دستیاب رہتی۔ ہسپتالوں میں بھی برا حال،لوٹ مچی ہوئی
@AMAZlNGNATURE Divert Some of AID funds to establish slaughter houses in Texas, pack n freeze than ship to people in need.
Don't go too far start with latain American underdeveloped countries.
@pubity Despite huge numbers of installations yeild is low bcz of Goverment policies.
There is no subsidy and no one asking.
They put huge taxes and fees on going on-Grid so most of systems are off-grid (means they can produce more if on-Grid)
وزیرداخلہ محسن نقوی ن�� جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا،اس سے 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول اسٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آگئی جب انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز دی تھی۔بارہ گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استحفی لے لیا تھا۔
شہباز شریف خود گورنس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے چھو�� دیں یا وزیر کو کہیں وہ چھوڑ دے۔لیکن لگتا ہے دونوں قابل احترام صاحبان اپنی اپنی اسی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ 😊