میری دیوانگی پر ہنسنے والے، سوچتا ہوں میں
اگر ہو اتفاق ایسا کہ تو دیوانہ ہو جائے
کنڈی، تیرے گھر سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا تیرے گھر کی عورتوں کو باہر نکالنے کا انتظار رہے گا۔
سالک صاحب ، شورش صاحب ، ظفر صاحب نے جو کچھ کیا وہ آجکل شرارتی صاحب ، بلال اے آئی صاحب ، ابوبکر صاحب ، انواع و اقسام کے نامی و بے نامی ، اوورسیز اور انڈر سیز اکاونٹس کررہے ہیں۔ یعنی سچ بولنا اور بغیر کسی لالچ کے سچ بولنا۔ جسے آپ آجکل صحافت سمجھ رہے ہیں اسے سادہ زبان میں ملازمت کہتے ہیں جس میں سچ اپنی تنخواہ ، سیٹھ کی بندشوں اور فوج کی تابعداری تلے دب جاتا ہے۔ جس چیز کو آپ غلطی سے صحافت سمجھ رہے ہیں یہ بنک مینجر ، سیلز مین ، کلرک ، ٹیکنیشن ٹائپ کی کوئی بھی پرائیویٹ جاب ہے۔
سیٹھ کے لیے اپنی بیکری کا مینجر ، اپنے چینل کا اینکر ، اپنے کالج کا پی ٹی ٹیچر ، اپنے اخبار کا نمائندہ اور اپنی بلڈنگ کا چوکیدار ایک جیسی اہمیت کے حامل ہیں کہ سب تنخواہ کے لیے اسکے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
ٹویٹ کرنے کا پانچ لاکھ ملتا ہے تو ٹی وی سکرین کونسا مقابلے کے امتحان کے بعد ملتی ہے یہ بھی آبپارہ کی منظوری اور تابعدار بچہ بن کر رہنے سے ملتی ہے۔ کاشف عباسی آف ائیر اور حامد میر آن ائیر دو الگ وجوہات رکھتے ہیں۔
کیا مزمل اسلم نے ابھی تک خان کی معصوم بہنوں کی گرفتاری پر کوئی ایک ٹوئیٹ کی ؟ بہنیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ اس پر تو شہید اس کا کرنل بھی اسے نہ ڈانٹے۔ لیکن کیا پتہ کرنل کتنا گرا ہوا ہے جسے یہ بھی قبول نہیں۔
بار بار ہزار بار کہا کہ یہ ایک بچھو ہے جو فطرطا انسانی شکل کا ہے اور لومڑی سے زیادہ شاطر ہے اسکو جب معلوم پڑتا ہے کہ ریٹنگ کم ہو رہی تو یہ چار خان کے حق میں ٹویٹ کر کے یوتھیوں کی سپورٹ حاصل کرتا ہے اور جب بھی جنرل کا نیا حکم آتا اسی وقت ڈنگ مارتا ہے ،
ڈیئر سوشل میڈیا آخر کب آپ کو لوگوں کو پہچاننے کا ہنر آئے گا ؟
اس شرابی کے جیل میں ہاتھ کانپتے تھے۔ یہ مجھے میاں اسلم اقبال صاحب کے ساتھ ملنے آیا۔ میں نے اسکو کہا مجھ پر تشدد کا میڈیکل کرواؤ۔ کیونکہ یہ اس وقت پنجاب کا وزیر داخلہ تھا۔ یہ الٹا مجھے قائل کرتا تھا کہ نہیں فوج بڑی ظالم ہے میڈیکل مت کرواؤ وہ تمہیں پھر کبھی رہا نہیں کریں گے۔ جیل میں میں تھا۔ پٹھی ہوئی اس کی تھی۔ میاں اسلم نے مجھے سرگوشی کی کہ گل صاحب اور زور نہ دیں۔ اسے ہارٹ اٹیک ہو جائے گا۔
شرابی بندے کا کیا حلف۔ کچھ بھی اٹھا لو گے۔ لیکن پھر وقت سے ثابت کیا تم لوٹے تھے اور ساری عمر لوٹے رہو گے۔
مزمل اسلم کو لگا کو موقعہ اچھا ہے۔میری ایک تنقید پر کچھ انصافین دوست متفق نہیں اور انہوں نے واپس تنقید کی۔
حوالدار مذمت اسلم کو لگا کہ کہ موقعہ اچھا ہے کان ڈال دو۔ اور وہ کود پڑا
اللہ بچائے ان انصافینز سے۔ اب وہ پانی ڈال ڈال کر چھترول کر رہے ہے!
حوالدار بیچارہ دھوکہ کھا گیا
میں محترم چئیرمین گوہر صاحب اور محترم جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ صاحب کو کور کمیٹی سے اپنا استعفی پیش کرنا چاہونگا۔ اس پلیٹ فارم کےلیے خان صاحب نے ہمیں باہمی مشاورت سے پارٹی کی مفاد میں مربوط فیصلے کرنے کےلیے چنا تھا۔ ہم نے آخری حد تک برداشت کے ساتھ، مکمل اخلاص اور شب و روز کی تندہی کے ساتھ تمام معاملات پر پارٹی اور خان صاحب کو مضبوط کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ لیکن بدقسمتی سے اب یہ پلیٹ فارم متاثر کن کارکردگی پیش کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ اس کی واضح وجوہات یہ ہیں کہ پارٹی آئین کے مطابق اس اہم فیصلہ ساز پلیٹ فارم کو یا تو بطور انجمن ستائش باہمی کےلیے استعمال کیا جاتا ہے یا پھر ایسے ربر اسٹیمپ کے بطور جس کے زریعے کیے گئے غلط فیصلوں، غلطیوں، کوتائیوں یا نقصانات کی توجیہہ پیش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کو پے درپے مسلسل ہر محاظ پر ناکامیوں کا سامنا ہے۔ جہاں اس پلیٹ فارم پر معزز میمبرز کو خان صاحب بھی مشاورت، اختلاف رائے اور تنقید کےلیے کھلے دل سے خوش آمدید کہتے تھے وہاں اب چند فیصلہ ساز دوست مشورے کو توہین اور اختلاف رائے کو جرم سمجھتے ہیں۔ تنقید کو تو بدقسمتی سے اب دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ ہر شخص آخر میں صرف اللہ اور اپنے ضمیر کو جوابدہ ہیں۔ شاید دوستوں نے کھلے نیت سے کوششیں کی ہوں، شاید ہم ہی غلط ہوں۔ لیکن اس بابت کبھی فراخدلی سے کوئی مکالمہ نا ہوسکا۔ ہم تین سال سے گزارش کرتے رہے کہ فیصلے اجتماعی ہوں۔ پارٹی تنظیم مضبوط ہو۔ ہر شخص اپنی زمہ داریوں کا احساس کرے اور پارٹی کو متحد کرکے تحریکی اہداف جس میں اول ترین خان صاحب کی رہائی ہے انکو حاصل کیا جائے۔ لیکن یہ امر قابل صد افسوس ہے کہ نیک نیتانہ گزارشات کو سنجیدہ لینے کے بجائے ہر بات میں سازش ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ فیصلہ ساز دوستوں کی انا اس قدر بلند ہے کہ کورکمیٹی تو چھوڑیں سوشل میڈیا پر بیس بائیس سال کے بچوں کی تنقید ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکو طنزیہ جواب دیے جاتے۔ اس پلیٹ فارم پر اظہار اختلاف پرمعتبر پرانے ساتھیوں کی برملا بے عزتی کی جاتی۔ کوئی تجویز دے تو وہ ارسطو کہلاتا، کوئی کسی ایکٹیوٹی کی تائید کرے تو رستم و سہراب جیسے طنزیہ القابات سے نوازا جاتا۔ کوئی تنظیم بنانے کی استدعا کرے تو اسکو عہدوں کے شوقین بتایا جاتا۔
اس بات پر فخر ہے کہ پارٹی کےساتھ اور خاص طور پر خان صاحب کے ساتھ 19 سال کا تعلق ہے۔ نا حکومتیں لوٹی نا کبھی کسی قسم کی مراعات کا الزام لگا۔ مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔ سارا بلوچستان جانتا ہے کہ سیٹ اور وزارت و دیگر آفرز کے باوجود جن لوگوں نے ضمیر کا سودا نا کیا ان میں ہمارا بھی زکر ہوتا ہے۔ پارٹی کے لیے پیسہ، وقت، پسینہ اور خون سب حاضر کیا۔ بارہا سیدھی فائرنگ کا سامنا کیا لیکن میدان یا ساتھیوں کو اکیلا چھوڑنے کےبجائے گرفتار ہونا اور جیلوں میں جانا قبول کیا۔ دو درجن سے زائد دہشتگردی کے کیسوں کے ساتھ 70 سے زائد ایف آئی آر ہونگے۔ عہدے یا کمیٹیوں کو اعزازات کے بجائے ہمیشہ زمہ داری سمجھا۔ لیکن جب وہی عہدے یا اعزازات پارٹی کی مضبوطی و بہتری کی بجائے نقصان کا سبب بنے تو بلا ججھک نشست خالی کردی۔ نا یہ پہلی بار ہے نا آخری بار ہے۔ اللہ عمران خان کو سلامت رکھے، اسکے نام پر بطور ایک کارکن ہمیشہ حاضر رہینگے۔
والسلام
یہ آج تک اس لئے لاپتہ ہے کہ ان کو دہشتگرد کہا گیا، دہشتگردوں کا سہولت کار کہا گیا اور آج اپنے ہی ایمرجنسی لگانے کہ بعد غیر قانونی و غیر آئینی ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کہ وائس چیئرمین نے خود جو کہا وہ قوم کہ سامنے ہے،
یہ عمران خان کو قتل کرنے جا رہے ہیں۔ ہم اس وقت عمران خان کو ان کی جانب سے قتل کرنے کی کوششوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا امکان تھا، تب ہمارے پاس اطلاعات تھیں کہ یہ اس احتجاج کو عمران خان کو قتل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ بالکل واضح ہے کہ عاصم منیر اب عمران خان کو مردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ قاسم خان
#pakistan @Kasim_Khan_1999
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے سے پہلے میڈیا میں جھوٹا بیانیہ چلایا گیا کہ ہم نے دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے، ایمرجنسی نافذ کر کے اب کبھی گٹروں کے ڈھکن لگاتے پھر رہے ہیں تو کبھی تجاویزات آپریشن کے نام پر غریب کی ریڑھی الٹا رہے ہیں، فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کو باقی صوبوں نے وعدے کے باوجود فنڈز نہیں دیئے، ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ ان کا مقصد دہشتگردی نہیں قیمتی معدنیات پر قبضہ جمانا ہے۔
#گورنر_راج_نامنظور
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
This image will remain with me for the rest of my life. The passionate cry for freedom while dancing and pouring water on his head to dilute the effects of tear gas.
MashaAllah a nation waking up finally and demanding freedom.
ایک گمنام دوست کا مشورہ ہے کہ شہباز گل کو چپ کر جانا چاہئیے۔ آرام کرنا چاہئیے۔ مسلہ انکا یہ ہے کہ انکو لگتا ہے شہباز گل جو بولے انکی مرضی سے بولے۔ ایک دن پہلے انسے سے عرض کی تھی کہ انکے اندر بھی ایک عاصم منیر ہے جو دوسروں کو بولنے کا پورا حق نہیں دینا چاہتا
انسے گزارش کی تھی آذادی اظہار رائے تو ہمارا اصل مسلہ ہے اسی آذادیبکی تو لڑائی چل رہی ہے عاصم منیر سے۔
ساتھ ساتھ انسے گازارش کی تھی کہ : آپکو ایک فرق جاننا پڑے گا۔ آپکا جس دن دل کرے آپ اکاؤنٹ بند کریں اور نارمل زندگی گزارا یں۔ شہباز گل بولنا بند کرے یا بولتا رہے۔اس کے اسکے خاندان کے لئے ذندگی اب نارمل نہیں ہو سکتی۔ شہباز گل اب اپنے بزرگوں کی قبر پر نہیں جا سکتا۔ اس لئے تنقید ضرور کریں۔ لیکن ایک فرق کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ آپ جو لڑائی لڑ رہے ہیں اس میں آپ نے اپنا وقت سکون آرام بہت کچھ داؤ ہو لگایا کیلن اس میں آپ نے ابھی تک اپنی اور اپنے خاندان کی شناخت داؤ پر نہیں لگائی۔ آپ کے ہاس چوائس ہے اکاؤنٹ بند زندگی نارمل۔ شائید ابھی بھی آپ اپنے خاندان کے ساتھ نارمل وقت گزارتے ہوں گے۔ ہمارے پاس یہ سہولت نہیں ہے۔ آپ ہمارے بھائی بنیں دوست بنیں۔ سر آنکھوں پر۔ لیکن ہمارے باپ نہ بنیں۔
زندگی میں انسان کبھی کبھی ایسے لیول پر آجاتا ہے کہ وہ دل کی کرتا ہے۔ اسے پزیرائی کی فکر نہیں رہتی۔
جہاں سینکڑوں ہزاروں لوگ تنقید کرنے ہیں آپ بھی کریں۔ ویسے بھی پچھلے دو ہفتے میں آپ نے ہر ممکن حملہ کیا ہے۔ اس لئے دوستی کے دستانے اتاریں اور کھل کر حملہ کریں آپ کا کوئی رنج نہ رہ جائے کہ آپ نے کوئی لیول حد کراس نہیں کی تھی۔ وہ بھی کراس کریں۔
زیادہ سے زیادہ ننگی گالی دیں گے وہ بھی دیں۔ لیکن آواز ہماری بند انشاللہ نہیں ہوگی۔
مجھے کیا پتہ تھا تو اتنا گر جائے گا کہ مجھے جواب دینے کے لئے عاصمہ شیرازی کے شوہر کو کوٹ ٹوئیٹ کرے گا۔
چل ایسے کر اب فارمیلیٹی کے لئے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف ٹوئیٹ کر دے۔ یا سپیکر اور وزیراعلی کی رہائی کا مطالبہ ہی کر دے۔
آئی آئی ایس آئی اور اس کا سوشل میڈیا سیل میرے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ بدقسمتی سے، اس پروپیگنڈے کو صرف دس ویوز ملتے ہیں۔ شاید عاصم منیر صاحب سمیت یہ آپس میں ہی اسے دیکھتے ہیں۔
مجھ پر الزام لگایا گیا ہے کہ میں نے علاج کے لیے پیسے لیے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت کے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے مجھے علاج کے لیے پیسے دینے کی پیشکش کی تھی، لیکن میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں اپنے علاج کے اخراجات خود برداشت کر سکتا ہوں۔ بعد میں یوسف رضا گیلانی نے فلور آف دی ہاؤس پر اس معاملے میں معافی بھی مانگی۔
میرے اور میرے گھر والوں کے فون آئی ایس آئی نے ٹیپ کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے فاشزم کی انتہا کر دی ہے، لیکن ہم انہیں بھی شکست دیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے ان کے پیش روؤں، مشرف اور ایوب خان کو شکست دی تھی۔
مکمل ویڈیو⬇️
https://t.co/om2aSoT3Av
چلیں یہ بے شرم باہر تو نکلا اتنے دنوں سے چھپ کر بیٹھا تھا۔ ۔ میں اسے اسی لئے تو چھڑ رہا تھا کہ آپکو بتا سکوں کہ یہ گرفتار نہیں ہے۔ یہ کرا جی میں خاموش بیٹھا جنرلز کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ ایک ٹوئیٹ نہ کر سکا یہ دلال کہ گورنر راج اور ایمرجنسی غلط ہے۔ ۔ ایک ٹوئیٹ نہ کر سکا pti KPK حکومت پر کرپشن کے الزامات غلط ہے ۔ لیکن دیکھیں جیسے ہی اس بے شرم کی دم پر پاؤں رکھا فورا بل سے باہر آ گیا۔ مزے یہ لوٹتا رہا اور پارٹی کا دفاع اب تیمور جھگڑا کر رہا ہے۔
خان میرا وعدہ ہے۔ خدا کی قسم اپنی اوقات کے مطابق تمہارے ساتھ ایمانداری سے کھڑا ہونے کی کوشش کروں گا۔ جس دن نہ ہو سکا۔ کھلا اعلان کروں گا۔ کہ اب میری بس۔ پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپوں گا۔