#PAKWatch🇵🇰: Since June, the Pakistani Military Government has interfered with elections and KILLED AT LEAST 100 PEOPLE IN KASHMIR. Last night, THOUSANDS protested in the streets of Rawalakot.
WELCOME TO FIELD MARSHAL ASIM MUNIR'S PAKISTAN, WHERE THE MILITARY RUNS THE SHOW.
FREE IMRAN KHAN.
کشمیریوں کے پاس آج بھی وہ پہلی عظیم درسگاہ موجود ہے جو خطۂ پاکستان میں کہیں نایاب ہو چکی ہے وہ عظیم مائیں، وہ گھر اور وہ بستیاں جو مزاحمت کی آماجگاہیں ہیں۔
کشمیریوں سے بہت کچھ چھینا جا سکتا ہے، مگر مزاحمت نہیں چھینی جا سکتی۔اس دھرتی کا آخری کشمیری بھی اگر زندہ رہا تو ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کی روایت کو آگے بڑھاتا ہوا رخصت ہوگا، ان شاء اللہ۔
کشمیر صرف مزاحمت کی درسگاہ نہیں، یہ مزاحمت کی یونیورسٹی ہے؛ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ خطہ ظالموں، قاتلوں اور جابروں کے لیے قبرستان بھی ثابت ہوا ہے۔
کشمیر کی مٹی نے نسلوں کو ایک ہی سبق دیا ہے:ظلم عارضی ہوتا ہے، مزاحمت زندہ رہتی ہے۔
#RightsMovementAJK
اس خطے اور پاکستان کا مسئلہ نئے انتظامی یونٹس کا نہ ہونا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ آئین، قانون، جمہوریت، عدلیہ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا نہ ہونا ہے۔
یہاں چند افسران کی بالادستی قائم ہے جو روز صبح اٹھتے ہیں اور عوام پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ انہیں یہ عوام انسان نہیں بلکہ بھیڑ بکریاں نظر آتی ہے جنہیں جب چاہیں ہانک دیں، جب چاہیں دبائیں اور جب چاہیں ان کے حقوق روند دیں۔
مسئلہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا نہیں، نظامِ حکمرانی کی اصلاح کا ہے۔ جب تک ریاست میں آئین و قانون کی حکمرانی، عوام کی حقیقی نمائندگی اور اداروں کی آئینی حدود بحال نہیں ہوتیں، نقشے پر لکیریں کھینچنے سے عوام کی تقدیر نہیں بدلے گی۔
اس نظام کی اصلاح کے لیے محض مطالبات اور بیانات کافی نہیں؛ ایک فیصلہ کن لڑائی لڑنے،آئینی اور جمہوری جدوجہد کی ضرورت ہے۔
سردار امان کشمیری
#RightsMovementAJK
🚨🚨Exclusive Information on Sarhad University Incident
سرحد یونیورسٹی میں فوجی لیفٹیننٹ کرنل کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ بنیادی طور پر کُرسی اور طاقت کی جنگ ہے۔ یہ لڑائی ہیلتھ سائنسز کے HOD جدون صاحب اور لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کی اہلیہ میں ہے کیونکہ اُن کی اہلیہ کو اضافی چارج دیا گیا جو پہلے جدون صاحب کے پاس تھا۔
جدون صاحب طلباء کی فیسز معاف یا رعایت دے دیتے تھے جس کی وجہ سے لیفٹیننٹ کرنل صاحب کی اہلیہ کو اضافی چارج دے دیا گیا۔
گزشتہ جمعے کو ان دونوں کے درمیان گالم گلوچ اور تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا اور بات تھانے تک پہنچ گئی جس پر جدون صاحب نے کرنل اسفند یار کی اہلیہ سے مبینہ طور پرمعافی مانگ لی اور یہ بات یونیورسٹی میں پھیلا دی گئی کہ جدون صاحب نے کرنل اسفند یار ولی کی اہلیہ سےمعافی مانگی ہے۔ اس بات پر جدون صاحب آگ بگولہ ہوگئے۔
جدون صاحب نے اپنے من پسند طلباء کو بتایا کہ انہیں یونیورسٹی سے فارغ کیا جارہا ہے اس پر طلباء نے آج احتجاج کی کال دی اور یونیورسٹی کا گیٹ بندکر دیا، طلبہ کا آج کا پرچہ منسوخ کر دیا گیا۔
طلبہ کی جانب سے کرنل صاحب کی اہلیہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا جس پر انہوں نے اپنے شوہر کو کال کی اور اُن کے یونیورسٹی آنے پر ہنگامہ ہو گیا۔ جس پر فوج کی اعلیٰ قیادت نے سخت ایکشن لیا اور کرنل اسفند یار کو گرفتار کر کے ان کیخلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیاگیا۔
Napak bhoj has done it from the start... killing our heroes...Whoever spoke for our rights they declared him anti-national but the reality is that these gnrls cols and whole army are the biggest enemies of our own ppl ...and today, it has been completely exposed.💔💔💔haramkhor
مفتی صاحب نے رانا ثناء اللہ کو زبردست جواب دیا۔ ۔
''جنہیں تم نے اسلحہ دے کر یہاں بھیجا ہوا ہے، وہ ہمارے لیے چڑیاں ہیں۔ ہم اب تک صرف اپنی قیادت کی وجہ سے خاموش ہیں''
#RightsMovementAJK#LongLiveResistance
"ہم بچوں کے لیے معیاری سکول بنائیں گے جہاں مفت تعلیم ہوگی۔
جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوتے بچوں کو گھروں میں پڑھائیں ۔ جو پڑھے لکھے نوجوان بچے، بچیاں ہیں وہ اپنے محلے میں رضاکارانہ طور پر بچوں کو ٹیوشن مہیا کریں اور انہیں اخلاقی تربیت دیں"۔
سردار امان کشمیری
#RightsMovementAJK #LongLiveResistance #FreeKashmir #releaseshaukatnawazmir
تحریک لبیک پاکستان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، مریدکے میں ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا گیا، سینکڑوں کارکنان شہید ہوئے اور قیادت کو جبری طور پر لاپتا کر دیا گیا۔
وجہ کیا تھی؟
صرف یہ کہ وہ لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے لگاتے ہوئے فلسطین کی حمایت میں مارچ کر رہے تھے۔
مظالم کے پہاڑ توڑنے کے بعد بھی تم ہار چکے ہو۔
آج دیکھ لو، غزہ کے بچے اسی قیادت کی تصاویر اٹھا کر لبیک، لبیک، لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے لگا رہے ہیں۔
آج بھی لبیک والوں کی طرف سے غزہ میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔۔۔
اس نظم میں کیا ہی بات ہے کہ اس نے اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔۔
لکھنے والے کے الفاظ میں وہ انقلابی جذبہ ہے اور پڑھنے والے کی آواز میں وہ تاثیر کہ ہر لفظ دل میں اترتا ہے۔۔
جتنی بار سنو جذبات بلند ہوتے ہیں اور جذبہ مزید بیدار ہوتا ہے۔۔
واقعی ایسی نظم صرف سنی نہیں جاتی محسوس کی جاتی ہے۔۔
#RightsMovementAJK