یہ خونِ ناحق ہے، پاکستان کا سارا نظام اور سب ادارے اس قتل کے ذمے دار ہیں۔ اور کسی حد تک ذاتی حیثیت میں عمران خان بھی اور اجتماعی حیثیت میں پوری تحریک انصاف بھی اس کی ذمہ دار ہے۔ جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں اور حکومت جانے کے بعد بھی ان کرپٹ جنرلز اور ججز کو ہر ممکنہ ڈھیل دی۔ 1/4
جاننے والے جانتے ہیں کہ خواجہ آصف کن کے کہنے پر بھونکتا ہے۔
خواجے کا بیان کہ آرمی چیف کے تقرر کے بعد عمران خان کو سیدھا کریں گے ان کی طرف سے آیا ہے جو سو جوتے سو پیاز کھا چکے ہیں لیکن "لوٹا" پیے بغیر ماننے والے نہیں ہیں۔
آخری دفعہ فون پر جب تم سے بات ہوئی تو تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم جلد واپس آؤ گے اور میرے ساتھ مل کر یہ کیس لڑو گے۔تم نے کہا تھا ڈاکٹر اللہ پر بھروسہ رکھنا یہ مصیبت بھی جلد گزر جائے گی۔آج اسی مقدمے میں عدالت حاضر ہو رہا ہوں تو تمہیں تمہارا وعدہ یاد کروانا تھا-یار آ کر ایک جپھی دے جا
جنگ اخبار کےمطابق ڈیفالٹ کا خطرہ 92 فیصد سےبھی بڑھ گیا۔
حکمرانوں نے اربوں کےکیسز معاف کروالیے، کچھ لوگوں نےاربوں روپے اور کچھ نےکروڑوں کی دیہاڑیاں لگا لیں۔ اب خدا کا واسطہ ہےجان چھوڑیں، خزانےمیں اب کچھ نہیں بچا۔ اگر کوئی سمجھتا ہےکہ قوم یہ لوٹ مار بھول جائےگی تو یہ انکی بھول ہے۔
عمران خان کی حکومت کے بہت سے مسائل تھے لیکن جیسے ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اس سے یہ تاثر ملا کہ شاید اس میں اسٹبلشمنٹ کا کردار تھا،عمران خان اسٹبلشمنٹ سے الیکشن نہیں مانگ رہے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت اسٹبلشمنٹ کی سپورٹ کی بغیر خود ہی گر جائے گی، جوائنٹ سیشن میں گفتگو۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ریٹائرمنٹ سے پہلے Fact Focus پر اپنے اثاثوں کے "سورس" سے متعلق جواب دیکر جانا چاہئے اسلئے کہ یہ صرف باجوہ صاحب کا مسئلہ نہیں بلکہ پاک آرمی کی عزت اور پاک آرمی کے خود احتسابی نظام کی شفافیت کو ہمیشہ گرد آلود رکھے گا
@OfficialDGISPR
تین تگاڑا کام بگاڑا۔یہ مثلث جو ملک میں بنی ہے اس کام ایک دوسرے کو تحفظ دینا ہے یکے بعد دیگرے روز ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے اور میڈیا اس کہانی پر قلابیں ملانا شروع کرتا ہے دو سے تین دن یہ کہانی لب بام عوام کے ہو جاتی ہے اور یوں 29 نومبر تک پہنچتی ہوئ عوام اپنے اوپر 👇
جیو کونوازشریف پر ارشدشریف کے قتل اور عمران خان پر قاتلانہ حملے کاالزام لگانیوالے تسنیم حیدر کا کریمنل ریکارڈمل گیا لیکن عمرفاروق ظہور کا کریمنل ریکارڈ تلاش نہ کرسکا
رواں ہفتہ ملک کی سلامتی و استحکام کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اہل وطن ملک دشمن عناصرکےناپاک عزائم کو ناکام بنانے کیلئے بیدار ، آمادہ اور میدان میں حاضر رہیں،26 نومبر کا دن ملکی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے،1/4