It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
📢 ایک سال پہلے آج کے دن ہم نے صرف ایک مہم نہیں، بلکہ ایک عہد کا آغاز کیا تھا۔ ✊🇵🇰
یہ عہد کسی شخصیت پرستی کا نہیں، بلکہ اصول، آئین، انصاف اور عوام کی آزادی کا تھا.
اس ایک سال میں ہمیں مخالفت بھی ملی، پروپیگنڈا بھی سہنا پڑا، کردار کشی بھی ہوئی، مگر ہمارا مؤقف نہیں بدلا۔ 💚
ہم آج بھی اسی یقین کے ساتھ کھڑے ہیں کہ ظلم کبھی مستقل نہیں ہوتا، اور حق کی آواز کو ہمیشہ دبایا نہیں جا سکتا۔ 🔥
ہماری جدوجہد کسی عہدے، شہرت یا مفاد کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستان کے لیے ہے جہاں:
🇵🇰 قانون سب پر برابر ہو،
🗳️ عوام کے مینڈیٹ کا احترام ہو،
⚖️ انصاف سب کو ملے،
اور سیاسی اختلاف جرم نہ سمجھا جائے۔
✨ یہ ایک یاد نہیں ، بلکہ اپنے عہد کی تجدید ہے۔
🤲 ان شاء اللہ ہم اپنی آواز، اپنا مؤقف اور اپنی جدوجہد اسی استقامت کے ساتھ جاری رکھیں گے، جب تک پاکستان میں حقیقی آئینی بالادستی، انصاف اور عوام کی رائے کا احترام بحال نہیں ہو جاتا۔
✊ تحریک تو چلے گی… کیونکہ اصول کبھی ہار نہیں مانتے۔ 🇵🇰
#تحریک_تو_چلے_گی 💚✌️
@CivisFreedom@CivisResistere@TELZ0212@krbt804
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
You made us all proud team Egypt 🇪🇬.
Got clearly cheated out of a goal, and overrun by FIFA corruption.
But hold your heads high like Coach Hossam held the flag of Palestine 🇵🇸.
They can’t VAR this.
آپ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لوگوں کو راتوں کو فون کالز پر دھمکیاں آتی ہیں کہ اڈیالہ کے باہر نہیں جانا۔ ہم نے تجویز دی کہ یہ مسئلہ اکٹھے ہو کر اسمبلی میں اٹھائیں اور بتائیں کون دھمکیاں دے رہا ہے۔ یاد کرو، عمران خان نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ اگر یہ آپ کو دھمکیاں دیں تو واپس ان کو دھمکیاں دو۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
“ان ظالم لوگوں کو اللّہ عبرت کا نشان بنائے گا، ہمارے دل سے تکلیف کے ساتھ یہ بددعا نکلتی ہے کہ اللّہ ان کو عبرت کا نشان بنائے۔ میرا بیٹا بھی فوجیوں کی قید میں ہے جہاں عدالت بھی کچھ نہیں کرسکتی۔ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونا ہی بہت بڑا جرم ہے۔ یہ خوفزدہ ہیں اس لیے انہوں نے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔ جو انہوں نے کیا ہے ان کا حساب ہو گا انشاءاللّہ۔ اڈیالہ جیل انہی سے بھری ہو گی۔”
- @Noreen_KhanPK
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
#حق_کی_جیت_ہو_گی
Another shameful decision today by the judiciary in Pakistan which has made a mockery of justice. Instead of holding the military regime of Asim Munir in contempt for denying Imran Khan’s family and his lawyers access, an ATC judge denied the request and imposed a fine on Imran Khan’s attorneys who sought permission to meet their client. #ShameOnJudges
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-