@RoymukhtarRoy اقتصادی پابندیوں نے ایران کو خود کفیل بنا دیا ہے۔ وہ کسی وینٹی لیٹر کے محتاج نہیں۔ وہ تقریباً ہر چیز خود بناتے ہیں۔ نہ ان پر بیرونی قرضوں کا بوجھ ہے اور نہ ہی وہ کسی سو کالڈ سپر پاور کو جوابدہ ہیں۔ ایک حقیقی خودمختار اور آزاد قوم جسے کوئی بلیک میل نہیں کر سکتا۔
دنیا کو پہلی بار پتہ چلا کہ ایران ، یورپ و امریکہ سے کہیں زیادہ ماڈرن اور محفوظ ملک ��ے
خواتین کی شرح خواندگی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور یونیورسٹی تک تعلیم بالکل فری ہے
نیز یہ کہ سب سے زیادہ سائنسدان خواتین بھی ایران میں پائی جاتی ہیں
اسلامی تہذیب کا اصل عکس بھی صرف ایران میں ہی نظر آتا ہے
#ایران
کیا یہ کھلا تضاد اور ستم ظریفی نہیں؟
ایک عام شہری پر اگر ایک ایف آئی آر ہو یا چند دن کی سزا ہو تو وہ گورنمنٹ سروس کے لیے نااہل قرار پاتا ہے،
مگر جس پر غبن، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے یا اخلاقی جرائم کے الزامات ہوں، وہ صدر بھی بن سکتا ہے، وزیر بھی!
یہ کیسا انصاف اور کیسی جمہوریت ہے؟
#دوہرا_معیار #قانون_کی_برابری #پاکستان
سویڈن میں ایک وزیر کے قتل کے بعد پورے پارلیمینٹ اور وزرا میں عدم تحفظ کی کیفیت چھا گئی۔ ایک ممبر نے قرارداد پیش کی کہ حکومت ہر ممبر اس��بلی کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار فراہم کرے۔ بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی، لیکن حیرت انگیز طور پر یہ بل اکثریتی رائے سے مسترد ہو گیا۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ممبران اسمبلی نے اپنے ہی تحفظ کے خلاف کیوں ووٹ دیا؟ لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات سپیکر کی رولنگ تھی۔
ووٹوں کی گنتی کے بعد سپیکر نے اپنی چیئر گھمائی اور پارلیمینٹ کے سیکریٹری سے پوچھا:
"کیا ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں کہ ہم ہر شہری کو، بچے سے لے کر بزرگ تک، ہر مرد و عورت کو سیکیورٹی اہلکار فراہم کر سکیں؟"
سیکریٹری نے سر جھکایا اور کہا، "نہیں سر۔"
سپیکر نے پھر ممبران کی طرف دیکھ کر رولنگ پڑھنا شروع کی:
"ممبران اسمبلی کی جان قیم��ی ہے، لیکن بالکل اسی طرح قیمتی ہے جیسے اس ہال میں کھڑے نائب قاصد کی، یا چوک میں موجود گداگر کی۔ ہمارے معاشی حالات یہ اجازت نہیں دیتے کہ ہر شہری کو انفرادی سیکیورٹی مہیا کی جائے۔ جب تک ہم ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوتے، تب تک ممبران کو خصوصی سیکیورٹی دینا درست نہیں۔ لہذا یہ بل مسترد کیا جاتا ہے۔"
سپیکر نے ایک نظر اسمبلی پر ڈالی اور کہا:
"سیاست میں کسی پر مجبور نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ سب بائی چوائس ہے۔ سیاست بڑا پرخطر کھیل ہے، دشمنیاں اور جان کے نقصان کے امکانات ہمیشہ رہتے ہیں۔ جسے اپنی جان زیادہ عزیز ہے، وہ سیاست کی بجائے کسی اور شعبے کا انتخاب کرے۔"
یہ ہے اصل جمہوریت!
تمام اداروں کے سربراہوں اور ان کے افسروں کو بھی اسی اصول پر عمل کرنا چاہیے: خزانے پر بوجھ ڈالنے کے بجائے، اپنی حفاظت کا وزن خود ا��ھائیں۔
— پڑھے لکھے اور باشعور معاشروں میں یہی اصول رائج ہیں۔ ✅
ہما��ے دیہات معذوروں کے جنگل بن چکے ہیں، ہر دوسرے گھر میں ایک سے دو سپیشل بچے بڑے لڑکیاں ملینگی اور انکے علاج ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ٹائپ مذبح خانوں میں ہوتے ہیں، جہاں ہاتھ ابھی اندر ہو تو کھڑکی بند کر دی جاتی اور بیڈز پر بلی کتوں کا راج ہوتا ہے
مدد پہنچائی، پانچ ہزار
فیض احمد فیض نہ صرف ایک اعلیٰ پائے کے شاعر تھے بلکہ بہترین حس مزاح کے مالک بھی تھے۔ اس بات کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے۔
زہرہ نگاہ کے ہاں دعوت ختم ہوئی تو زہرہ نگاہ نے ساقی فاروقی سے درخواست کی کہ احمد فراز صاحب کو ان کی رہائش گاہ تک پہنچادیں۔ ساقی نے جواب دیا،
’’میں انہیں اپنی گاڑی میں نہیں بٹھا سکتا۔ کیونکہ جوں ہی کوئی خراب شاعر می��ی گاڑی میں بیٹھتا ہے، گاڑی کا ایک پہیہ ہلنے لگتا ہے۔‘‘
اس پر فیض احمد فیض نے فقرہ کسا،
’’ساقی تمہارے بیٹھنے سے تو تمہاری گاڑی کے دونوں پہیئے مستقل ہلتے رہتے ہوں گے۔‘‘ 😊😊
منقول
بیچارے غریب و مظلوم پولیس کانسٹیبلز۔۔۔۔
��ہ تصویر ضلع ڈیرہ غازی خان کی پولیس نے شائع کی ہے۔ سردی کا موسم ہے اور ایک کانسٹیبل نے گرم ہیٹ پہن رکھی ہے۔ میں نے پولیس میں دوستوں سے معلوم کیا کہ کیا گرم ہیٹ وردی کا حصہ ہے تو مجھے آگاہ کیا کہ محکمہ کی جانب سے سردی کے موسم میں گرم ہیٹ فراہم نہیں کی جاتی۔ پولیس ملازمین خود سےاس کا بندوبست کرتے ہیں۔ یہ محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وردی کے رنگ سے مشابہت رکھنے والی گرم ہیٹ گودام میں دستیاب ہو۔ اس پر پولیس بھی لکھا ہو۔ ہر پولیس ملازم کو سال میں دو بار موسم کے لحاظ سے مکمل وردی دی جانی چاہئیے۔ سردی کے موسم میں جرسی بھی درکار ہوتی ہے۔ اس ضمن میں لاہور پولیس کے معاملات بہتر ہیں۔ چھوٹے اضلاع میں وردی کے فنڈز اور گودام کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
آواز ِ دروں —••—
اندرونی استحکام ھر ریاست کی بقا کیلئے جزو لاینفک کی حیثیت رکھتا ھے ،
انصاف اور مساوات کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں آئین و قانون کی حکمرانی ھی ایک ریاست کی سلامتی کی بنیاد ھے ، آزاد و غیر جانبدار عدلیہ ، جمہوری رویے ،شفاف ، فعال اور بااختیار جمہوریت اور معاشی انصاف قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتے ھیں ۔
کوئ بیرونی مداخلت ، جارحیت یا سازش اندرونی ملی بھگت یا ��اراض اندرونی طبقات کو ساتھ ملاۓ بغیر کبھی کامیاب نہیں ھوتی ۔۔
عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی اور مسلسل ناانصافی جاری رھے تو عراق ، وینزویلا ، موجودہ ایران یا سابقہ مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا ھوجاتے ھیں
کبھی کبھار ایک چنگاری ، شعلہ اور شعلے سے الاؤ بن کر جنگل کی آگ بن جاتی ھے پھر کوئ فائر بریگیڈ کام نہیں آتے ، بیرونی دشمن ھمیشہ ایسے لمحات کے منتظر رھتے ھیں ۔۔۔
الحمد للّٰہ پاکستان مضبوط دفاعی طاقت ھے ، لیکن فعال و توانا جمہوریت کی عدم موجودگی ، جانبدارانہ و کمزور نظام ِ عدل ،آئینی رو گردانی کا تسلسل اور معاشی ابتری ھماری کمزوریاں ھیں ۔۔
ایک دوسرے کے سات�� دست و گریبان ھونے سے کچھ فرصت ملے تو اپنے دل ، دماغ اور ضمیر میں جھانک کر ان مشوروں پر غور کرنے لینے میں کوئ مضائقہ نہیں ۔۔!!!
پیش بندی کرنا ،حادثوں پر رد ِ عمل دینے سے بہتر ھے ۔۔۔۔
پہل سیاستدانوں ھی کو کرنا ھو گی ، آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں !!
🚨 *"مسجد الحرام: دنیا کی سب سے بڑی اور مصروف عبادت گاہ کے حیرت انگیز حقائق!"*
🕋 رقبہ: 3,56,000 مربع میٹر
🕋 گنجائش: 20 لاکھ نمازیوں کی
🕋 سالانہ زائرین: 2 کروڑ سے زائد
🕋 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے، کبھی بند نہیں ہوتی
🕋 صفائی کے انتظامات:
1800 صفائی کرنے والے عملہ
40 برقی صفائی گاڑیاں
60 صحن کی صفائی کی مشینیں
2000 کچرا دان
🕋 مسجد میں 40,000 قالین موجود
🕋 قالینوں کا ایک بڑا گودام، 15,000 قالینوں کی گنجائش کے ساتھ
🕋 13,000 واش رومز، دن میں 4 بار مکمل صفائی
🕋 25,000 زم زم کی بوتلیں دستیاب
🕋 یومیہ 100 زمزم کے نمونوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے
🕋 زمزم کے پانی کے فاضل ذخائر محفوظ کیے جاتے ہیں
🕋 الحرمین قرآنی تلاوت مرکز
🕋 2000 سے زائد محفوظ لاکرز
🕋 مسجد میں سینکڑوں کولنگ یونٹس
🕋 مسجد کی ٹائلیں روشنی منعکس کرتی ہیں اور گرمی کم کرتی ہیں
🕋 مقصد ایپلیکیشن: مسجد میں کسی بھی جگہ تک رہنمائی فراہم کرتی ہے
🕋 آواز کا نظام:
غلطی کی شرح 0%
6000 اسپیکرز
4 جدید آڈیو سسٹمز
50 آڈیو سٹاف ممبران
🕋 قرآن کریم کا ترجمہ 65 مختلف زبانوں میں دستیاب
🕋 جمعہ کے خطبے کا ترجمہ 5 مختلف زبانوں میں
🕋 خصوصی افراد کے لیے سہولیات:
10,000 عام ویل چیئرز مفت فراہم کی جاتی ہیں
400 الیکٹرانک وہیل چیئرز
ڈبل اور ٹرپل وہیل چیئرز دستیاب
🕋 افطار انتظامات:
4,000,000 افراد کا افطار
5,000,000 کھجوریں مسجد کے اندر تقسیم کی جاتی ہیں
5,000,000 کھجوریں مسجد کے باہر تقسیم کی جاتی ہیں
افطار کے بعد صرف 2 منٹ میں صفائی مکمل کی جاتی ہے
یہ سب خدمات زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسجد الحرام میں دستیاب ہیں۔
سبحان اللہ!
⚠️ پاکستان میں دودھ اور گوشت کا بحران دستک دے رہا ہے! ⚠️
پاکستان کی لائیو سٹاک انڈسٹری اس وقت ایک سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل قریب میں ملک میں دودھ اور گوشت کا قحط پیدا ہو جائے گا۔
بنیادی مسائل جن پر فوری پابندی کی ضرورت ہے:
* مادہ جانوروں کی سلاٹرنگ: دودھ دینے والی مادہ بھینسوں اور گایوں کا ذبیحہ نسل کشی کے مترادف ہے۔
* ڈے اولڈ کٹوں (Day-old Calves) کا قتلِ عام: ان بچھڑوں کو پالنے کے بجائے ذبح کرنا گوشت کی مستقبل کی پیداوار کو ختم کر رہا ہے۔
ہماری اپیل:
ہم وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ��مام متعلقہ اتھارٹیز سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
* مادہ اور نو زائیدہ جانوروں کے ذبیحہ پر فوری طور پر قانونی پابندی عائد کی جائے۔
* لائیو سٹاک سیکٹر کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی سازی کی جائے۔
* کسانوں اور فارمرز کو ریلیف دیا جائے تاکہ وہ ان جانوروں کو پالنا منافع بخش سمجھیں۔
اگر آج ہم نے اپنے مویشی نہ بچائے، تو کل ہماری نسلیں دودھ اور گوشت کو ترسیں گی۔
🇵🇰 ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن (DCFA) پاکستان
#SaveLivestock #PakistanDairySector #FoodSecurity #DCFA #LivestockCrisis #PakistanAgriculture
@PMOIndia @MoNFSR @CMShehbaz @raftardotcom
برطانوی وزیر اعظم کئر اسٹارمر ایک شہر کے دورے کے دوران مقامی پب پہنچے۔ اسی اثناء میں جگہ کا مالک بھی وہاں پہنچ گیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے اسے اندر جانے سے روکا لیکن وہ ان سے لڑ جھگڑ کر اندر داخل ہو گیا۔ اور اس نے براہ راست وزیر اعظم کو کہا۔
That man is not welcome in my pub"
اور اس کے بعد وزیر اعظم اور سیکیورٹی عملہ فوری وہاں سے نکل گیا۔
Media News
بھلے آپ وزیر اعظم ہوں یا کوئ بڑے لیڈر۔ برطانیہ میں اختیارات کی اصل مالک یہاں کی عوام ہیں۔
یہ ایک پرانی میڈیا نیوز ہے لیکن یہاں سوال یہ بنتا ہے اگر یہ پاکستان ہوتا اور وزیراعظم اس جگہ موجود ہوتا تو کیا ہوتا ؟
"لڑکا کبھی لڑکی کا دوست نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں جذبہ ہے، خواہش ہے۔"
(شیکسپیئر)
آئرش شاعر آسکر وائلڈ نے بھی یہی کہا تھا۔۔۔!
"مرد اور عورت کے درمیان صرف دوستی کا ہونا ناممکن ہے۔ خواہش، کمزوری، نفرت یا محبت جو ہو سکتی ہے۔"
"ایک لڑکا اور لڑکی دوست ہو سکتے ہیں، لیکن وہ محبت میں ضرور پڑ جائیں گے۔ شاید بہت کم وقت کے لیے یا غلط وقت پر، یا بہت دیر سے، یا شاید ہمیشہ کے لیے لیکن وہ محبت میں پڑ جائیں گے۔"
(ہمایوں احمد)
سچ پوچھیں تو لڑکے اور لڑکی کے درمیان محض دوستی ناممکن اور خلاف فطرت ہے کیونکہ اگر صرف دوستی ہو گی تو فطرت اپنا وجود کھو دے گی۔ مقناطیس اور لوہا کبھی ایک سات�� نہیں ہو سکتے۔ یہ اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ اگر کوئی اس سے گریز کرتا ہے تو وہ یا تو منافق ہے یا دھوکہ دے رہا ہے خود کو یاں کسی اور کو۔۔۔!
اور دیکھیں سورہ النور میں رب العالمین نے کتنی خوبصورتی سے نامحرم مرد اور عورت کے بات چیت میل جول کے طریقے بتا دیے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
پاکستانی شاپ پر جنوبی افریقہ کے صدر سائرل راما پوسا کی آمد، اسکرین پروٹیکٹر کی قیمت پوچھ لی🇿🇦.
نارتھ ویسٹ میں ایک پاکستانی موبائل فون شاپ پر جنوبی افریقہ کے صدر سائرل راما پوسا کی اچانک آمد نے سب کو حیران کر دیا ۔
دکاندار کے مطابق صدر سائرل راما پوسا نے شاپ میں داخل ہو کر موبائل اسکرین پروٹیکٹر کی قیمت پوچھی ، اور قیمت سننے کے بعد مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ بعد میں واپس آئیں گے.
یہ غیر متوقع مگر خوشگوار اور ہلکا پھلکا لمحہ دیکھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث بن گیا ،
جبکہ پاکستانی کمیونٹی میں بھی اس واقعے کا خوب چرچا ہو رہا ہے 😄🇵🇰۔
بریکنگ نیوز🚨
ایران کے دارالحکومت تہران میں انقلاب اسکوائر پر اسلامی جمہوریہ ایران کے حق میں عوام کی بڑی تعداد
جمع ہو گئی۔ مظاہرین نے حکومت کے حق میں نعرے لگائے اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ سکیورٹی کے
سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔