7 ستمبر 1974 کو آئین کی دفعہ 260 میں یہ الفاظ شامل کئے گئے “ہر فرد جو حضور صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہووہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں” یہ ایک متفقہ آئینی ترمیم تھی مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا
اور کچھ نہیں کرسکتے بس اتنا کرو جو جس اسکول میں پڑھتا ہے اس کے بچے اسی اسکول میں داخل ہوں گے اور ہسپتال میں ڈاکٹر صاحب کا ڈیوٹی ہو گا اس بچوں کا علاج اسی ہسپتال میں ہو گا پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے 🙏🙏🙏
ناروے کی فی کس آمدنی اور اُن کا وزیر خارجہ اپنا سامان اسلام آباد ائیر پورٹ پر خُود گھسیٹ رہا ہے
پاکستان کی فی کس آمدنی اور اسلام آباد کے کمشنر اور آئی جی کا کروفر ۔۔۔۔ آج کا ایڈیٹوریل 👇
کیا کیا سیاسی نابغے ہیں کہ عقل حیران ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ انتظامی صوبوں کی بحث چھیڑ کر ایک دھند کی چادر تانی گئ ہے کہ واردات کوئ اور ہے؟ تارئخ سے ناواقف لوگ کیوں بھولتے ہیں کہ یہ صدیوں سے موجود تاریخی قومی وحدتیں تھیں جنہوں نے پاکستان کے وفاق میں بغل گیر ہونے کا فیصلہ کیا۔ قومی وحدتوں نے پاکستان تشکیل دیا نہ کہ نومولودمملکت نے۔ اصل مسلہ اب بھی مضبوط مرکز سے صوبوں اور صوبوں سے ضلعوں تک اقتدار کی اوپر سے نیچے منتقلی ہے جو رکی ہوئ ہے۔ یہ عمل تیز کیا جائے اور 169 اضلاع میں پاورفل ڈسٹرکٹ گورمنٹس بنائ جائیں، جو دوطرفہ (bipartisan)ہوں اور شمولیتی ہوں۔ اور جو سب کی نمائندہ اور انسانی، سماجی و مقامی ترقی کی گاڑی بنیں۔
عمران خان 3 سال سے قید ۔آٹھ ماہ سے فیملی سے کوئی ملاقات نہیں ۔بچوں سےفون پر بات نہیں ۔38 مرتبہ بہنوں کو نہیں ملنے دیا۔آپ لاکھوں ووٹ لینے والے لیڈر کو قید کے ساتھ ساتھ ذہنی ٹارچر کر رہے ہیں ۔دیکھیے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا موقف
جہاں نواب و سردار اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ ہو وہاں نواب و سردار اور انکے کارندے اسٹیبلشمنٹ کیلئے علاقائی سہولتکاری کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور اس سہولتکاری کے عوض اسٹیبلشمنٹ سرداروں نوابوں اور انکے کارندوں کو ہر عمل کرنے کی قانونی و عسکری معاونت بطور انعام فراہم کرتی ہے۔
آسمہ جتک اس کے خاندان، اس کے منگیتر اور دو سال قبل آسمہ کے اغوا کے وقت اس کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانا یہ سب اسی گٹھ جوڑ کے بلبوتے کا تسلسل ہے۔
نواب ثنا اللہ زہری کے کارندے ہوں، یا سردار کھیتران کے، سرفراز مسوری کے کارندے ہوں یا جمال رئیسانی کے ان پہ اسٹیبلشمنٹ کا سایہ بنا رہے گا چاہے کوئی بھی جرم کریں۔
مولانا صاحب کی طرز سیاست سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی اس واقعے کے حوالے سے تقریر حقائق پہ مبنی ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کا دبنگ خطاب!
اسماء جتک کے والد کے بہیمانہ قتل پر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بلوچستان اسمبلی میں دوٹوک اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کسی شہری کی جان محفوظ نہیں، حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔
کیا محترم @PakSarfrazbugti اور محترم @MeerLangau
ایک بلوچ بیٹی، اسماء جتک، کی فریاد آپ کے کانوں تک پہنچی ہے؟ کیا اس کے شہید والد کی لاش پر آپ کی نظر پڑی ہے؟ خیر، آپ کی مجبوریوں کا بخوبی اندازہ ہے، لیکن جس کا دنیا میں کوئی نہیں ہوتا، اس کا اللہ ضرور ہوتا ہے۔
لَا تَخَفْ إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ
(سورۃ طٰہٰ 20:46)
ترجمہ:
“اللہ نے فرمایا: ڈرو نہیں، بے شک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سب کچھ سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔”
وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
“اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔”
(سورۃ آلِ عمران 3:57)
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ
“آپ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے بے خبر ہے، وہ تو انہیں صرف اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔”
(سورۃ ابراہیم 14:42)
إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
“بے شک ظالم فلاح نہیں پاتے۔”
(سورۃ الانعام 6:21)
محمد ﷺ نے فرمایا:
اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
“مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ، فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ
“بے شک اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
پھر آپ ﷺ نے سورۂ ہود (11:102) کی آیت تلاوت فرمائی:
“اور تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے، یقیناً اس کی پکڑ نہایت دردناک اور سخت ہوتی ہے۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
“ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
“بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔”
(سورۃ المائدہ 5:51)
اسما جتک کا معاملہ: آخر طاقتور کون ہے، ریاست یا چند جتھے؟میرا سوال پوچھنا اگر مجھے شہادت جیسے عظیم مقام تک لے جاتی ہے میں سوال پوچھوں گا۔
حیر بیار قلندرانی
ایک دفعہ اسما جتک کا اغوا ہوتا ہے۔
لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں، سخت احتجاج ہوتا ہے، دھرنا دیا جاتا ہے، دباؤ بڑھتا ہے اور پھر اسما جتک بازیاب ہو جاتی ہیں—جبکہ مبینہ اغوا کار فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
یہ قصہ کوئی افسانہ نہیں۔ یہ سب سوشل میڈیا اور حکومتی ریکارڈ میں موجود ہے۔
لیکن آج جو کچھ ہوا، اس نے اس پورے معاملے کو ایک بار پھر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
اسما جتک کا ویڈیو پیغام سامنے آتا ہے، اور چند ہی گھنٹوں بعد اس کے والد کو نامعلوم افراد قتل کر دیتے ہیں۔
یہ محض ایک قتل نہیں، یہ ریاستی رٹ کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
سوال یہ نہیں کہ قاتل کون ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ ایک عام شہری کے گھر میں پہلے اغوا کا خوف داخل ہوتا ہے، پھر باپ کی لاش پہنچتی ہے، اور ریاست صرف تماشائی بنی رہتی ہے؟
اسما جتک کے اغوا اور اس کے والد کے قتل کے معاملے میں جن لوگوں کے نام لیے جا رہے ہیں، جن پر شکوک کی سوئی اٹک رہی ہے، ان کے تعلقات اور پسِ پردہ طاقت کے مراکز کو بھی تحقیقات کا حصہ بنانا ہوگا۔
اور اگر واقعی ان میں سے کوئی شخص کسی معروف قبائلی رہنما یا پارلیمانی شخصیت کے ساتھ گن مین یا قریبی سکیورٹی عملے کے طور پر وابستہ رہا ہے، تو سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔
کیا جھالاوان کی قبائلیت اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک لڑکی کے اغوا میں مبینہ طور پر ملوث شخص طاقتور لوگوں کے سائے میں کھڑا ہو سکتا ہے، اور پورا نظام خاموش تماشائی بنا رہے؟
کیا یہ قبائلی نظام کی وہ آخری حد نہیں جہاں سرداروں کے سامنے قانون، ادارے اور عوام سب سر جھکائے بیٹھے نظر آتے ہیں؟
اور اگر یہ سب غلط ہے تو پھر حکومت تحقیقات کرے۔
کھلی تحقیقات کرے۔
نام سامنے لائے۔
سچ سامنے لائے۔
اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے شک سے آزاد کیا جائے، اور اگر کوئی مجرم ہے تو اس کا سردار، عہدہ، تعلق اور اثر و رسوخ اسے قانون سے نہیں بچانا چاہیے۔
ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اسما جتک کے پہلے اغوا کا کیا ہوا؟
مبینہ اغوا کار کیسے فرار ہوا؟
کس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی؟
تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟
اور اگر سب کچھ معلوم تھا تو آج اسما جتک کے والد کی لاش کیوں اٹھ رہی ہے؟
یہ صرف اسما جتک کے خاندان کا مسئلہ نہیں۔
یہ ہر اس بیٹی کا مسئلہ ہے جسے یہ خوف ہو سکتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کے باپ کو بھی انصاف مانگنے کی سزا مل سکتی ہے۔
آج حکومت سے نہیں، ریاست سے سوال ہے۔
اگر چند جتھے ریاست اور ریاستی اداروں سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں تو پھر عوام کس کے پاس جائیں؟
اگر قبائلی تعلقات قانون سے بڑے ہو چکے ہیں تو پھر آئین کس کے لیے ہے؟
اگر طاقتور لوگوں کے سائے میں جرم کرنے والوں کو تحفظ مل سکتا ہے تو پھر عدالتیں کس کے لیے ہیں؟
اور اگر ایک باپ کی جان بھی اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگنے کی قیمت بن جائے تو پھر ہم کس ریاست، کس قانون اور کس انصاف کی بات کر رہے ہیں؟
اسما جتک کو صرف ہمدردی نہیں چاہیے۔
اس کے والد کے قاتلوں کو صرف مذمت نہیں چاہیے۔
اس خاندان کو انصاف چاہیے—اور انصاف ایسا جو سردار، سیاستدان، گن مین، تعلق اور طاقت سب سے اوپر ہو۔
اب فیصلہ حکومت نے نہیں، ریاست نے کرنا ہے کہ بلوچستان میں طاقتور کون ہے: قانون یا جتھے؟
اسما بلوچ نے صبح اپنے اغواکار کی دھمکیوں سے متعلق ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جبکہ عصر کے وقت اُن کے والد کو قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان حکومت اغواکار کے خلاف 2024 سے لےکر تاحال بےبس ہے۔
@HamidMirPAK@Matiullahjan919
تفصیل 👇
https://t.co/JYqZoyUMtr
ظلم کے خلاف بغاوتیں ضرور جنم لیتے ہیں جب درندوں کو سزا دینے کے بجائے اسمبلیوں میں بٹھا کے مزید طاقتور بنایا جائے۔
ایسے قاتلوں کو ریاست نمائندہ کے طور پہ پیش کرتے ہیں جن کے ہاتھ بے گناہ لوگوں کی خون سے رنگے ہیں۔
ریاست اپنے بنائے ہوئے درندوں کو لغام دینے کے بجائے مزید یہ اختیار دے رہے ہیں کہ وہ کسی کی بھی عزت پہ حملہ کریں یا کسی بے گناہ کو قتل کریں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔
خضدار سے اغوا ہونے والی اسماء بلوچ کی حکومت، اداروں اور عوام سے انصاف کی اپیل
میں 5 فروری 2024 کو خضدار سے اغوا ہوئی اس واقعے میں ظہور جمالزئی ملوث تھے۔ میں متعلقہ اداروں سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کی غیرجانبدار، شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو
اغوا کے دوران مجھ سے زبردستی ویڈیوز ریکارڈ کروائی گئیں اور اب وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں جس سے میری عزت، وقار اور ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
میں یہ بھی بیان کرتی ہوں کہ میرے خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ہمارے خلاف مختلف الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ میں متعلقہ حکام سے اپیل کرتی ہوں کہ ان تمام معاملات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ہمیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
میں خاص طور پر نواب ثناء اللہ خان زہری صاحب اور نعمت اللہ خان زہری صاحب سے مؤدبانہ اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور مجھے انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
میں عوام، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی درخواست کرتی ہوں کہ میری آواز ذمہ داری کے ساتھ متعلقہ اداروں تک پہنچائیں تاکہ اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات ہو سکیں۔
اسماء بلوچ خضدار
"کفن تیار کرلو" کی دھمکی ملنے کے چند گھنٹوں بعد اسماء جتک کے والد قتل
13 سال سے کسی دوسری جگہ رشتہ نہیں ہونے دیا جا رہا
آبائی علاقے سے نقل مکانی کے بعد بھی مسلسل دھمکیوں کا سامنا
منگیتر اور ماموں کے بعد اب والد بھی قتل— خاندان کا تیسرا فرد اور مجموعی طور پر چھٹا شخص اس تنازع میں قتل ہوگیا
خضدار میں رشتے سے انکار کی اتنی سنگین قیمت کیوں چکانی پڑ رہی ہے؟
"وزیراعلٰی سرفراز بگٹی کو 5 بار درخواستیں دیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی"
حرام خور قاتل کی اپنی شکل دیکھ کر الٹی آ جائے
آج سے دو ڈھائی برس قبل خضدار سے ایک نوجوان لڑکی اسما جتک کے اغوا کی خبر آئی، جسے زہری کے ایک بدبخت شخص ظہور جمالزئی نے پسند آنے اور زبردستی شادی کے لیے راضی کرنے پر اغوا کر لیا تھا۔ اسما کا نوجوان پڑھا لکھا بھائی آگے آیا اور اس نے قبائل کے لوگوں کو جمع کر کے پرامن احتجاج کیا۔ مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ سوشل میڈیا کو احتجاج کا ذریعہ بنایا۔
اسی سوشل میڈیا کی ہاہاکار نے نتیجے میں خبر ملک بھر میں پھیل گئی تو ادارے حرکت آئے اور دو چار دن بعد کہیں جا کر زہری کے علاقے سے لڑکی تو بازیاب کر لی مگر نواب زہری کے رائٹ ہینڈ سمجھے جانے والے اس طاقت ور شخص کو نہ پکڑ سکے۔ بعدازاں جرگہ ہوا۔ معافی تلافی ہوئی اور معاملہ دبا دیا گیا۔
آج خضدار کے مقامی میڈیا سے اسما مینگل کی وڈیو چلائی گئی جس میں وہ پھر دُہائی دے رہی تھی کہ ظہور نامی شخص اب بھی اس کے پیچھے پڑا ہوا ہے، اس کے خاندان پر زبردستی شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، باپ کو دھمکی دی ہے کہ اگر کہیں اور رشتہ کیا اور لڑکی میرے حوالے نہ کی تو اپنے لیے کفن کا انتظام کر لو۔
یہ زورآور شخص اپنے قول کا پکا ثابت ہوا۔ آج شام کا سورج ڈھلنے سے پہلے ہی اس نے اپنا قول نبھایا۔ خبر ہے کہ خضدار میں "نامعلوم افراد" کی فائرنگ سے اسما جتک کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک جاں بحق ہو گئے۔
نہتے طلبہ سے لائبریری خالی کروانے، انھیں سڑکوں پر دھکیلنے والی خضدار کی "معاملہ فہم" بیوروکریسی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس سب کے سب یہاں سوئے رہے۔ سرکار نے صبح جاری ہونے والی بچی کی وڈیو کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ باپ قتل ہو گیا، سارا خاندان دھمکیوں کی زد میں ہے۔ قانون سویا پڑا ہے۔
جنگل کا قانون اور کسے کہتے ہیں!
کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کرنے والے بندے کو چند گھنٹوں میں پکڑ کر پولیس مقابلے میں مارنے والی انتظامیہ کی خواہش تھی کہ ان کی اس کارکردگی کی تعریف ہونی چاہیے۔ ہم نے تب بھی کہا تھا کہ حضور یہ فوری انصاف اس لیے ممکن ہوا کہ قاتل ایک عام شہری تھا، یہ کسی میر، معتبر، کسی سردار نواب کا لڑکا ہوتا تو آپ اسے ہاتھ لگانے کی جرات بھی نہ کرتے۔
یہ بدبخت ظہور جمالزئی، نواب ثنااللہ زہری کا رائٹ ہینڈ ہے۔ اسے کوئی مائی کا لعل ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اب جواز تراشے جائیں گے کہ وہ تو خضدار میں ہے ہی نہیں، اسے کہیں کراچی، کہیں دوبئی میں دکھایا جائے گا۔ تمام تر ثبوتوں اور مقتول کی دُہائی کے باوجود یہ قاتل نہیں پکڑا جائے گا۔ کیوں کہ اس کے پیچھے ایک طاقت ور نواب کھڑا ہے۔ اور اس نواب کے پیچھے، سرداری نظام کو ستر سال بعد بوسیدہ قرار دینے والی ریاست کھڑی ہے۔
تو ریاست ہی بتائے کہ یہ لہو کس کے ہاتھ پہ تلاش کرنا ہے؟
ایک غریب ماسٹر کے قتل کی ایف آئی آر کس کے خلاف درج کروانی ہے؟
انصاف کی دُہائی کس کو دینی ہے؟