انکے لیئے فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت اچھی تھی جو ایم ایم اے کی سپورٹ لینے کیلئے انہیں ہزاروں ایکڑ زمین یوں دے گئی جیسے اسکے باپ کا مال تھا-
اور اب جب یہ اَلَلّے تَلَلّے بند ہو گئے تو فوجیوں کی تنخواہ بھی شہید ہونے کیلئے دکھائی دینے لگی-
لعنت اللّٰه علٰی المنافقین-
تھرسڈے ٹائمز نے اس بار بھی پاکستانی میڈیا کو مات دے کر ایک بہترین رپورٹ تیار کی ہے جس میں عام شہریوں سے وہی سوال پوچھا گیا جو الزام مولانا نے لگایا
ہر شہری کا جواب ایک ہی ہے کہ “ کیا ایک شہید جتنی تنخواہ سے مولانا اپنے بیٹے کو سینے پر گولی کھانے بھیجے گا”
گوجرا بائی پاس پہ پرچیوں والوں کی بدمعاشی پہلے 20 روپے پھر 30 روپے پھر 40 روپے پہلے یہ لوگ شہر انٹر ہونے کی پرچی لیتے تھے اب کافی عرصے سے یہ بائی پاس پہ کھڑے ہوئے ہوتے ہیں اور ہر انے جانے والی بائی پاس پہ جو گاڑی ہوتی ہے اس سے پیسے لیتے ہیں اور اب 100 روپیہ پرچی کرتی ہے ایک بھائی نے ان سے پوچھا 100 روپیہ کب کی ہے اور بائی پاس پہ 100 روپے لے رہے ہو اپ لوگ تو اگے سے یہ بندہ بدتمیزی کرنے لگ گیا اور گالیاں دینے لگا۔
کراچی رینجرز حملے میں سہولت کاری کرنے والا احسان اللہ جو باڑہ خیر ایجنسی کا رہائشی ھے کراچی میں اسمگلنگ کا کام کرتا ھے خودکش جیکٹ افغانستان سے اسی نے وصول کی اور آگے پہنچائی
کٹا جی آپکا مسئلہ جانتے ہیں کیا ہے؟؟؟
آپکو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ نے اختلاف میں کس حد پر جانا ہے۔
میرے دادا کی بھی داڑھی تھی اور نانے کی بھی۔۔۔
انکو بھی چھوڑ دیں۔
خلفائے راشدین اور صحابہ نے بھی یہی سنت نبھائی تو آپ کیسے اس سنت کو ایسے برے الفاظ میں استعمال کر رہے۔👇
پاکستانی عوام نے فضل الرحمان کے بیان پر شدید ردعمل دیا ہے۔ فوجی شہادت کو صرف تنخواہ سے جوڑنا شہدا کی توہین ہے۔ سپاہی وطن کی خاطر جان دیتا ہے، نہ کہ صرف تنخواہ کے لیے۔
فضل الرحمان کو عوام کا پیغام واضح ہے: ڈبل تنخواہ دینے کو تیار ہیں، مگر آپ اپنے بچوں کو سرحد پر بھیجیں۔ غیرت دکھائیں اور شہادت کی آفر قبول کریں۔ شہدا کی قربانی قومی عزت ہے، اسے حقیر نہ سمجھیں۔
کل تک رضاکارانہ فوج کے پالتو کتوں کا کردار ادا کرنے والے سیاسی بڈاوے آج بیٹے، بھائی رشتہ داروں کو حکومتی عہدے نہ ملنے پر آج شہادتوں کی گھڑی میں اسی فوج پر بائولے کتوں کی طرح بھونک رہے ہیں۔
اگر فوج کل ٹھیک تھی تو آج بھی ٹھیک ہے۔
اگر آج غلط ہے تو کل بھی غلط تھی۔
مئوقف ایک رکھیں، منافقت نہ کریں۔
بیٹا پی ڈی ایم دور میں وفاقی وزیر رہا، اک بھائی کمشنر رہا، اک سینٹر ، داماد کو گورنر بنوایا۔۔
ٹیکس کا معلوم نہیں دیتے ہیں یا نہیں
جبکہ افغانستان کے خلاف پاکستان سخت ایکشن لینے کا سوچتا ہے تو ان سوالات کا جواب دینے کی بجائے مولانا شروع ہوجاتے ہیں بس
تاریخ ہمیشہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا نام سنہری حروف میں لکھے گی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں واحد جج اور واحد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ہی آئے ہیں جنہوں نے سیاسی اور غیر سیاسی دبائو کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے دلیری کے ساتھ 100 فیصد آئین و قانون کے مطابق فیصلے دیئے، ایسی بزدلی بھی نہیں دکھائی کہ اہم مقدمات کو التواء میں ڈال کر فائلیں دبا دیں اور ثاقب نثار اور کھوسہ وغیرہ کی طرح بطور ٹائوٹ جج کام کرنے سے انکار کیا۔
دلیری اور آئین و قانون کی بالادستی ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کا فخر ہے۔
کاش یہ عبارت اردو میں ہوتی تو محمد زبیر اور اسد علی طُور کو سمجھ آتی کہ یہ لسٹ دہشت گردی کرنےوالے نہیں بلکہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والے ملکوں کی ہے،جن میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے .
یا شاید بُغض اور تعصب کی عینک لفظوں کو اُلٹ پُلٹ کر دیتی ہے.
ادھر فتنہ الخوارج واصل جہنم ہونے لگے ادھر مولانا فضل الرحمٰن کی ان سے محبت جوش مارنے لگی فرماتے ہیں کہ سپاہی شہید ہوا تو کیا، ہمارے ٹیکس سے تنخواہ بھی تو لیتا ہے۔
مولانا صاحب اگر یہی منطق ہے تو پھر ہمیں بھی یہ سوال پوچھنے کا حق ہے۔
کہ آپ نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں عوام کے ٹیکسوں سے ملنے والی تنخواہیں، مراعات، سرکاری پروٹوکول، سفری سہولتیں اور دیگر حکومتی مراعات حاصل کیں۔ کئی بار قومی اسمبلی کے رکن رہے، تقریباً دس سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں کا حصہ بنتے رہے۔
اب ذرا قوم کو بتائیے، ان تمام برسوں میں آپ نے پاکستان کو کیا دیا؟
کشمیر آج بھی آزاد نہیں، دہشت گردی آج بھی ایک چیلنج ہے، معیشت کے لیے آپ کے نام سے کوئی تاریخی اصلاح یاد نہیں، تعلیم، صحت یا قومی ترقی کے کسی بھی بڑے منصوبے پر بھی آپ کی مہر ثبت نہیں۔
مدارس سے جڑے آئے روز بچوں کے ریپسٹ پر آپ نے کبھی فتوی نہیں دیا کہ یہ حرام ہے آپ نے بطور ایک عالم کبھی ان کی سخت سزاوں پر بات تو دور کبھی کسی مولوی کی ایسی بدفعلی پر خود سے آگے بڑھ کر اس موضوع کو اٹھاتے مذمتی بیان تک نہیں دیا،،
مگر ایک سپاہی... وہ تنخواہ ضرور لیتا ہے جیسے باقی پورا پاکستان تنخواہ لیتا ہے کیا آپ علماء بچوں کو مفت تعلیم دیتے ہو؟آپ میں کسی بھی علماء نے اتنی ہمت کی آج تک کہ اس سپاہی کی جگہ سرحد پر صرف ایک رات گزار سکیں کبھی کیا اعلان کہ آج بارڈر پر کھڑے تمام جوان اپنے گھر جا کر آرام کریں آج ہم سرحد پر پہرہ دیں گے؟
نہی نہ اس کے لیے بہت بڑا جگرا چاہیے وہ صرف اس سپاہی میں ہوتا ہے وہ سپاہی آپ کی جتائی چند ٹکے تنخواہ کے بدلے چالیس سال زندگی کے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وہ سرحد پر کھڑا ہوتا ہے، بارودی سرنگوں سے گزرتا ہے، دہشت گردوں سے لڑتا ہے، اور کبھی اپنے بچوں کے لیے واپس نہیں لوٹتا۔
تنخواہ نوکری کی ہوتی ہے،مگر شہادت قیمت نہیں ہوتی۔
اگر شہداء کی قربانی کو تنخواہ سے ناپنے کا اصول قائم ہوگا تو پھر ہم بھی پوچھیں گے کہ دہائیوں تک قومی خزانے سے ملنے والی مراعات کے بدلے آپ کی کارکردگی کا حساب کون دے گا؟
جب آپ جیسے علماء شہید سپاہیوں کی قربانیوں کو ان کی تنخواہ کے ترازو میں تولنے لگو گے تو آپ صرف ہمارے شہید کی توہین نہیں کررہے، بلکہ آپ افغانستان میں موجود اپنے ان پیٹی بھائی دہشتگردوں کا دفاع کررہے ہو جن کا ڈی این اے مودی بھگت کے ساتھ ملتا ہے جو بلوچستان میں دہشتگردی کروانے کے بعد مودی سے انعام لینے بھارت جاتے ہیں وہاں کہتے ہمارا تمھارا ڈی این اے ایک ہے،،،اور ہمارا مقصد بھی ایک ہے
ان خوارج کو میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جہنم کے کتے کہا اور آپ ان پر زرا بھی لب کشائی نہیں کی کیسے عالم ہیں؟یا علماء سو ہیں؟یعنی جو علمِ دین رکھنے کے باوجود اسے دنیاوی مفادات، اقتدار، شہرت یا غلط مقاصد کے لیے استعمال کریں، حق کو چھپائیں اور جان بوجھ کر باطل کی حمایت کریں،،،
معذرت چاہتی ہوں مولانا مجھے میرا ہر شہید سپاہی آپ کی دستار سے بہت اوپر ہے اور میرے دل میں اس شہید سپاہی کی قدر آپ سے کہیں زیادہ ہے جس نے ملک و قوم کی حفاظت میں اپنا لہو بہا دیا اپنے بوڑھے والدین کو اپنے بیوی بچوں کو تنہا کر گیا اور شکوہ تک نہیں کیا،،
اب تک اک سو پنج خارجی KUTTAY جہنم واصل ہو چکے ہیں
آخری دہشتگرد کو ٹھوکنے تک بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری رہے گا
حامد میر کے لیے سہولت رکھی ہے وہ مِسنگ پرسن کی لسٹ ساتھ ساتھ اپڈیٹ کر کے ایمان مزاری کو مطلع کر سکتا ہے
کشمیر کے لوگوں سے ایک گزارش!
خدارا شخصیت پرستی، چاپلوسی اور صرف پوسٹر بازی سے نکلیں۔ اس بچی سے بھی کچھ سیکھیں، جو اپنے علاقے کے عوامی مسئلے کی نشاندہی کر رہی ہے۔
کیا آپ بھی اپنے علاقے کی ٹوٹی سڑکوں، پانی، تعلیم، صحت، بجلی اور دیگر محرومیوں پر ایسی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر نہیں لا سکتے تاکہ آپ کے منتخب نمائندے اور امیدوار ان مسائل پر توجہ دیں؟
نوجوانوں کی اصل پہچان نعرے نہیں، بلکہ عوام کی آواز بننا ہے۔
زبردستی ڈیوٹی پر واپس بلانے والے سے پوچھ گچھ ضرور ہونی چائیے ساتھ اس کتے کے بچے سے بھی سوال جواب ہونا چائیے جو اُن دہشتگردوں کے لیے ٹسوے بہاتا ہے جس نے اسے شھید کیا ہے جو کالم لکھ لکھ اُن BLA کے پِلوں کے لیے ہمدردی دکھاتا ہے
منافقت جس دن اس نے چھڈ دتی اینوں موت آ جائے گی